ملکی تاریخ پر ایک نظر۔۔۔! تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

موجودہ حکومت موروثیت کی علمبردارداورروائتی سیاسی جماعتوں کو شکست فاش دے کر تبدیلی کے نعرے پر برسراقتدار آئی تھی، بجاطور پر عوام کی بہت زیادہ توقعات تاحال پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں، تاہم ایک چیز میں گزشتہ کچھ دنوں سے بہت شدت سے محسوس کررہا ہوں کہ ملکی سیاسی منظرنامے پر بے یقینی کے بادل تیزی سے چھاتے چلے جارہے ہیں، عوام مایوسی کا شکار ہیں، دوسری طرف وہ اپوزیشن جماعتیںجو ماضی میں ایک دوسری کی کٹر مخالف تھیں، آج حکومت وقت کو نیچا دکھانے کیلئے ایک دوسرے کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہیں، عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی مخالفین کو ہینڈل کرنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیاجارہا ہے، سیاسی جلسوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں نازیبا زبان کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے، افسوس کا مقام ہے کہ سیاسی لیڈر اپنے کارکنوں سے تہذیب کے دائرے سے نکلنے پر جواب طلبی نہیں کرتے۔ یہی وہ چند وجوہات ہیں جنکی بناء پر میں نے ضروری سمجھا کہ پاکستان کی تہتر سالہ ملکی تاریخ کا جائزہ لیا جائے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا قیام قائداعظم کی زیرقیادت مسلم لیگ کے پرچم تلے عمل میں آیا،انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کیلئے پوری قوم متحد تھی لیکن قائداعظم کی ایک سال بعد وفات نے ملکی حالات کو بدلنا شروع کردیا، جوگندرناتھ منڈل جیسے قائداعظم کے قریبی ساتھیوں کو پاکستان چھوڑنا پڑ ا، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو جلسے میں دن دہاڑے شہید کردیا گیا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پاکستان نے برطانوی اقتدار سے مکمل آزادی 23 مارچ 1956 کو اس وقت حاصل کی جب دستور ساز اسمبلی نے پہلاآئین منظورکیا، تاج برطانیہ کے نمائندہ گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور پاکستان کو جمہوریہ قرار دیا گیااورگورنر جنرل سکندر مرزا نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ بدقسمتی سے 23مارچ 1956ء کا یہ آئین دوسال سے زائد نافذالعمل نہ رہ سکا، تین سال کے مختصر عرصے میں پانچ وزیر اعظم گھر بھیج دئیے گئے،اس زمانے میں سیاستدان ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے۔8اکتوبر 1958ء کو پاکستان کے پہلے صدر (جنرل) اسکندر مرزا نے آئین معطل کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کردیں، سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لا لگا دیاگیا، اس وقت کے آرمی چیف جنرل ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسکندر مرزا نے مارشل لاء لگانے کے تحریر ی فیصلے میں رقم کیا کہ’میں گزشتہ دو سال سے شدید تشویش کے عالم میں دیکھ رہا ہوں کہ ملک میں طاقت کی بے رحم رسہ کشی جاری ہے، بدعنوانی ہے اور ہمارے محب وطن، سادہ، محنتی اور ایمان دار عوام کے استحصال کا بازار گرم ہے، رکھ رکھاؤ کا فقدان ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں کی ذہنیت اس درجہ گر چکی ہے کہ مجھے یقین نہیں رہا کہ انتخابات سے موجودہ داخلی انتشار بہتر ہو گا اور ہم ایسی مستحکم حکومت بنا پائیں گے جو ہمیں آج درپیش لاتعداد اور پیچیدہ مسائل حل کر سکے گی۔ان سیاستدانوں نے پاکستان کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، اپنے مقاصد کے حصول کے لئےانتخابات میں بھی دھاندلی سے باز نہیں آئیں گے، یہ لوگ واپس آ کر بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کریں گے جنھیں استعمال کر کے انہوں نے جمہوریت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔’ملکی حالات کی ستم ظریفی کہ مارشل لاء کے اعلان کے بیس دن کے اندرجنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو معزول کرکے خود صدرِ پاکستان بننے کا اعلان کردیا۔ساٹھ کی دہائی میں صدر ایوب کا دورِ اقتدار بلاشبہ پاکستان کی ترقی کیلئے سنہرا دور کہلانے کا مستحق ہے، اس زمانے میں پاکستان تیزی سے ایشیائی ٹائیگر بننے کی جانب گامزن تھا، خطے کے سب سے خوشحال ملک کا درجہ پاکستان کو حاصل تھا، ملک بھر میں صنعتوں کا جال بچھا دیا گیا، ون یونٹ کی صورت میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، سپرپاور امریکہ سےخوشگوار قریبی تعلقات قائم کئے گئے، تاہم چینی کا بحران ایوب خان کی حکومت کو بھاری پڑ گیا۔ پیپلز پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کی بنیادیں رکھنے والے عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی کابینہ میں وزیرخارجہ تھے، تاہم ان کے صنعتوں اور اداروں کو قومیانے کے فیصلے جنرل ایوب کے زمانے کی ترقی کوریورس گیئر لگانے کا باعث بنے، سیاستدانوں کا ایک دوسرے کیلئے عدم برداشت کا رویہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بھی بنا۔ ملکی تاریخ کا مزید جائزہ لیا جائے تو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء سے قبل وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف عوامی غصہ عروج پر تھا، تحریک نظام مصطفی کے پلیٹ فارم سے ملک کے طول وعرض میں احتجاجی سیاست جاری تھی۔ اسی طرح نوے کی دہائی ہماری ملکی سیاست کا سیاہ دور ہے، دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف دشنام طرازی میں مصروف تھیں، عوامی مسائل سے زیادہ مخالفین کی پگڑی اچھالنے پر زور تھا، سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے پرچے کاٹے گئے اور سیاستدانوں کو بلاجواز جیل میں قید کیا گیا، سیاسی جماعتوں کے غیرذمہ دارانہ رویے کا نتیجہ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کی صورت میںسامنے آیااور دونوں سیاسی جماعتوں کے لیڈران ملک سے جلاوطن ہونے پر مجبور ہوگئے۔ آج میںایک طرف مہنگائی سے پریشان عوام اور دوسری طرف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف زبان درازی اور حکومتی شخصیات کا ردعمل دیکھتا ہوں تو مجھے نجانے کیوں ایسا لگتا ہے جیسے ہم اب تک 1958ء کے دورسے باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔