سپریم کورٹ کا اقلیتوں کے تحفظ کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کوڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا حکم

185

اسلام آباد (13جنوری2015ء):چیف جسٹس سپریم کورٹ ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے انیس جون کے تفصیلی فیصلے کے عملدرآمد نہ ہونے پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پابند کیا ہے کہ وہ پاکستان ہندوکونسل کے سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی سے مشاورتی اجلاس منعقد کرکے 11فروری کو اگلی سماعت میں منٹس آف میٹنگ پیش کریں۔

ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی ممبر قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ13جنوری کی سماعت میں چیئرمین نادرا سمیت وفاقی اور صوبائی سطع پر پانچ آئی جیز، چار چیف سیکرٹریز، چار ایڈوکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل پیش ہوئے جبکہ اقلیتوں کو لاحق مسائل، سرکاری نوکریوں میں پانچ فیصد کوٹہ، ہندومیرج ایکٹ، ٹاسک فورس برائے تحفظ مذہبی اقلیتی مقامات سمیت دیگر ایشوز کے حوالے سے مرحلہ وار جواب طلب کیاگیا، دوران سماعت اٹارنی جنرل کو حکم دیا گیا کہ ڈاکٹر رمیش کمار کی سفارشات پر مبنی ہندومیرج ایکٹ بل کو وزارتِ قانون و انصاف سے دوہفتے کے اندر وفاقی کابینہ سے منظور کرایا جائے، اس موقع پر چیئرمین نادرا نے موقف اختیا ر کیا کہ ہندو میرج رجسٹریشن کے حوالے سے ڈاکٹر رمیش کی جانب سے غلطیوں کی نشاندہی پر دو مرتبہ لوکل گورنمنٹ سیکرٹریز سے مشاورت کی گئی ہے جبکہ ترامیم کیلئے سندھ حکومت کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں مزید آگاہ کیا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے حکومتِ خیبرپختونخواہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی مقامات بشمول شری پرم ہنس مہاراج کی سمادھی پر ناجائز قبضہ ختم کروانے کیلئے19جنوری کوڈاکٹر رمیش کمارکے ساتھ میٹنگ کرکے اگلی سماعت میں منٹس آف میٹنگ پیش کریں،اسی طرح صوبہ بلوچستان کے چیف منسٹر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو دو ہفتے جبکہ حکومت پنجاب کو تین ہفتے کی مہلت دی گئی ہے کہ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کے ساتھ مشارتی اجلاس کے بعد منٹس آف میٹنگ عدالتِ عالیہ میں پیش کریں۔

ڈاکٹر رمیش کمار کے مطابق اقلیتوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے سب سے زیادہ مسائل کی نشاندہی صوبہ سندھ میں کی گئی ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کوبھی حکم دیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ڈاکٹر رمیش کے ساتھ میٹنگ کرکے سپریم کورٹ کے انیس جون کے تفصیلی حکمنامے کے عملدرامد کے حوالے سے منٹس آف منٹس اگلی سماعت میں پیش کریں، پاکستان ہندو کونسل کا موقف ہے کہ ہندو جم خانہ سمیت دیگر ہندو مذہبی مقامات انکی تحویل میں دیئے جائیں۔ سپریم کورٹ میں اس حوالے سے اگلی سماعت کا انعقاد 11فروری کوہوگا۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Right To Information by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Article 13 of the Universal Declaration of Human Rights, adopted by the UN General Assembl…