اقلیتوں کو تحفظ کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت

179

اسلام آباد / کراچی (11فروری2015ء): چیف جسٹس سپریم کورٹ ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اقلیتوں کو تحفظ کی فراہمی کے حوالے سے انیس جون کے تفصیلی حکمنامے پر عمل درآمد نہ ہونے کا جائزہ لینے کیلئے آج بدھ کے روز سماعت کی جس میں پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل، چاروں صوبائی اٹارنی جنرل سمیت دیگر پیش ہوئے، اس موقع پرحکومت سے نصابِ تعلیم، ٹاسک فورس برائے تحفظِ اقلیتی مقامات، ہندومیرج ایکٹ، سرکاری نوکریوں میں پانچ فیصد کوٹہ سمیت دیگر اقلیتی مسائل کے حوالے سے جواب طلب کیا گیا۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں آگاہ کیا کہ سب سے پہلے حکومتِ خیبرپختونخواہ کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، ٹیری ضلع کرک میں شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی پر ناجائز قبضہ کے بارے میں اعلیٰ عدلیہ کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں ڈاکٹر رمیش کمار کو متاثرہ مقام کا دورہ کرایا گیا ہے جبکہ مقامی علمائے کرام نے حوالگی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پندرہ فروری تک کی مہلت مانگی ہے، اقلیتی مذہی مقامات کی رجسٹریشن اور سرکاری نوکریوں میں کوٹے کیلئے سمری متعلقہ اداروں کو موو کردی ہے، فی الحال تین فیصد کوٹہ آفر کیا جا رہا ہے جس پر بھی اقلیتی باشندے اپلائی نہیں کررہے۔اس حوالے سے چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف سے ڈاکٹر رمیش کمار کی میٹنگ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ اقلیتوں کے تحفظ کیلئے احکامات جاری کردیے گئے ہیں ، 11مارچ سے قبل ہی سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے چیف منسٹربلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیتوں کے تحفظ کی فراہمی کیلئے بلوچستان واحد صوبہ ہے جس نے انیس جون کے سپریم کورٹ کے تفصیلی احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے ہدایات جاری کیں، صوبے بھر میں مندروں کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جبکہ سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہندوکونسل سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈاکٹر رمیش کا کہنا تھاکہ اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے سندھ کی صوبائی حکومت کی چشم پوشی افسوسناک ہے، پرانے کیسوں کی شنوائی نہیں ہورہی، مندروں پر حملوں کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا، حال ہی میں تازہ حملہ تین روز قبل مکلی ماتا مندر پر کیا گیا ہے، ایک ہفتہ پہلے حیدرآباد میں بھی دو مندروں کو نشانہ بنایا گیا، اس موقع پرڈاکٹر رمیش کمار نے متاثرہ مندروں کے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے میڈیا کو تصاویر بھی جاری کیں۔

ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ قیام پاکستان کو 66سال بیت چکے ہیں، بدقسمتی سے تاحال ہندو میرج ایکٹ نہیں بن سکا،ہندو اپنی شادی کاسرکاری سطع پر ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہے، بالخصوص بیرون ملک دورے کے موقع پر شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جسکی وجہ سے پاکستان ہندو کونسل اپنے جاری کردہ شادی سرٹیفکیٹ سے ہندو جوڑے کی مدد کرتا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان اور پنجاب حکومت کے عملی تعاون کی بناء پر ہندومیرج ایکٹ پاس ہونے کی جلد توقع ہے۔ ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ قانون کے عملدرآمد کے حوالے سے بیوروکریسی کی جانب سے روائتی تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں، اس وقت اقلیتوں کوصرف سپریم کورٹ ہی سے توقعات وابستہ ہیں۔ سول میرج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سول شادی قوانین کا نفاذ سیکولر ممالک میں ہوتا ہے، پاکستان میں مسئلے کا حل صرف اور صرف ہندومیرج ایکٹ ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کے مطابق مذہبی تفریق کا خاتمہ کیا جائے ، نفرت انگیز سلیبس پڑھانے کا سلسلہ بند کرکے نفرت پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے اوپر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر ہندومیرج ایکٹ بل حکومت کی طرف سے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے اور سندھ کے اندر بڑھتے ہوئے مظالم کے اوپر آئی جی سند ھ کو بذاتِ خود گیارہ مارچ کو طلب کر لیا اور چاروں صوبائی حکومتوں کو گیارہ مارچ سے پہلے ڈاکٹر رمیش کمار سے کی گئی میٹنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی۔اس حوالے سے سپریم کورٹ میں اگلی سماعت گیارہ مارچ کو ہوگی۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Right To Information by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Article 13 of the Universal Declaration of Human Rights, adopted by the UN General Assembl…