شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کا ناجائز قبضہ ختم نہ کرانا حکومتِ خیبر پختونخواہ کی ناکامی ہے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی

162

اسلام آباد /کراچی (11مارچ2015ء): پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی ممبر قومی اسمبلی نے حکومتِ خیبرپختونخواہ کی طرف سے تیرئی ضلع کرک میں ہندو مذہبی مقام شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کا ناجائز قبضہ ختم نہ کراسکنے میں سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے، وہ بدھ کو سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں اعلیٰ عدلیہ کے دورکنی بنچ کے سامنے پیشی کے بعدصحافیوں سے بات چیت کررہے تھے، سپریم کورٹ کے روبروحکومتِ خیبر پختونخواہ کا موقف پیش کرنے ایڈویکیٹ جنرل پیش ہوئے تھے جبکہ اقلیتوں کی نمائندگی کیلئے پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی موجود تھے،چیف جسٹس نے صوبائی حکومت پر اظہارِ غصہ کرتے ہوئے احکامات جاری کیے کہ سمادھی کا احترام ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تعمیر نو کی جائے، کسی قسم کا نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھا جائے اور ہندوکمیونٹی کوانکا حق دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ سماعت اگلے روز جمعرات تک ملتوی کردی گئی، بعد ازاں، سپریم کورٹ کے باہر گفتگو میں ڈاکٹر رمیش کا مقامی علماء کرام کی جانب سے مانگی گئی مہلت سے متعلق کہنا تھا کہ ملک بھر میں بسنے والے ہندو شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کیلئے عقیدت مندانہ جذبات رکھتے ہیں، دنیا بھر کے مذاہب کی تعلیمات ایک دوسرے کے مذہبی مقامات کا احترام کرنے کا درس دیتی ہیں، صرف ایک مولانا شریف نامی مقامی مولوی نہ صرف سمادھی پر ناجائز قبضہ ختم کرانے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، ڈاکٹر رمیش ونکوانی کے بقول انہی مولانا صاحب نے 1997 ؁ء میں سمادھی پر ناجائز قبضہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا جسکی مقامی پولیس تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی تھی، انہوں نے اس موقع پر اپیل کی کہ وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے مذہب کے نام پر مذموم مقاصد کی تکمیل کرنے والے عناصر کو قانون کے شکنجے میں لاکرمعاشرے کے مظلوم طبقے کی داد رسی کی جائے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Daily Jang (20 October 2017)