سپریم کورٹ کا 45دنوں میں کرشن دوارہ مندر، ملحقہ سمادھی کی بحالی کا حکم

172

اسلام آباد (7ستمبر2015ء): پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ، ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ کے جاری کردہ احکامات کو نافذ نہ کراسکنے پر حکومتِ خیبرپختونخواہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کاسندھ میں اقلیتوں کے حوالے سے متنازعہ سیاسی شخصیت میاں مٹھو سے ملاقات کرنا اور پارٹی میں شمولیت کی دعوت دینا اقلیتوں کے زخموں پر نمک چڑھکنے کے مترادف ہے، میاں مٹھووسیع پیمانے پر معصوم کم عمر غیر مسلم بچیوں کے جبری مذہب تبدیلی کا ذمہ دار ہے، ڈاکٹر رمیش سوموار کو اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے روبرو سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے، انہوں نے تیری ضلع کرک میں واقع کرشن دوارہ مندر اور ملحقہ شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی پر قبضے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرشن مندر (1204sq.ft)اور سمادھی(400sq.ft)پر مشتمل ناجائز قبضے کی اراضی کا صرف 11.5فیصد حصہ واگزار کرایا جاسکا ہے، ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے صحافیوں سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ دستاویزات بھی شیئر کیں ، ایک دستاویز کے مطابق اراضی کا 250sq.ftشائستہ میر اور1070sq.ft مفتی افتخارالدین کے ناجائز قبضے میں ہے، ایواکو ٹرسٹ کے ریکارڈ کے مطابق مفتی افتخار سیٹلمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے سازباز کرکے ہندو مقدس اراضی اپنے نام کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا جس پر چیئرمین ایواکو ٹرسٹ نے ڈپٹی ایڈمنسٹرکے دائرکردہ ریفرنس پر ایکشن لیتے ہوئے منتقلی کینسل کردی تھی، بعد ازاں 1994, 1995,1997, 1998 اور 2015میں قابض کی اپیلیں ہربار مسترد کردی گئیں، اس موقع پر ڈاکٹر رمیش نے اسسٹنٹ ایڈمنسٹر عاصم خان کے دستخط سے جاری ایک سرکاری دستاویز بھی پیش کی جسکے مطابق قانون کی نظر میں کرشن دوارہ مندر اور شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی پر قبضہ غیرقانونی قرار دیتے ہوئے شائستہ میر اور مفتی افتخار کے زیرقبضہ اراضی کو ختم کراکر اعلیٰ عدلیہ کی ہدایات کی روشنی میں عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ ڈاکٹر رمیش ونکوانی کی پیش کردہ ایک اور دستاویز میں ڈپٹی کمشنر کرک نے آگاہ کیا کہ مفتی افتخار نے قبضہ واپس کرنے کیلئے 1997میں ہندو کمیونٹی سے 375,000روپے لیکر مکر گیا،24فروری2005میں مولانا عطاء الرحمان اور مولانا حسن جان نے مقامی لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد ہندووں کے حق میں فیصلہ دیا جس کی راہ میں ایک مقامی مولوی رکاوٹ بناہوا ہے۔صحافیوں سے گفتگو میں ڈاکٹر رمیش نے مزید کہا کہ آج کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ہوم سیکرٹری کے پی کے اور ایواکو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کو پروفیشنل آرٹیچیکٹ کی خدمات حاصل کرکے 45دنوں میں مندر اور سمادھی کی بحالی کا حکم جاری کیا، اس سلسلے میں معزز عدالت نے لاہور میں واقع مندرکی بحالی میں تجربہ رکھنے والے آرٹیچیکٹ کامل خان اور تیمور کا نام بھی تجویز کیا، ڈاکٹر رمیش کے مطابق صوبہ خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور سندھ میں اقلیتوں کے تحفظ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات میں سستی کا سامنا ہے، سپریم کورٹ نے تینوں صوبوں کے ایڈویکیٹ جنرلز کو 19جون2014کے تفصیلی فیصلے کے تناظر میں پراگرس رپورٹ پیش کرنے کی بھی تلقین کی۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Beyond Crisis by Dr Ramesh Kumar Vankwani

There is much being said in the media about PIA as it is suffering from a severe crisis. T…