مذہب تبدیلی کی بناء پر ہندوشادی کے خاتمے پر نظرثانی کی جائے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی

420

کراچی (13فروری2016ء) : پاکستانی ہندو کمیونٹی نے پارلیمنٹ میں حالیہ پیش کردہ ہندوشادی ایکٹ کے تحت مذہب تبدیلی کی بناء پر شادی کے خاتمے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی نمایاں ہندوسماجی و کاروباری شخصیات پر مشتمل وفد نے ہفتے کو پاکستان ہندوکونسل کے سرپرستِ اعلیٰ اور ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمارونکوانی سے ملاقات میں پارلیمنٹ میں ہندومیرج ایکٹ پیش کرنے کیلئے انکی جدوجہد کو سراہا،وفد میں سندھ سے تعلق رکھنے والے دلیپ کمار ایڈوکیٹ، رحیم یارخان پنجاب سے راجیش کمار، بلوچستان سے چندی رام سمیت دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رمیش ونکوانی کا کہنا تھا کہ قیامِ پاکستان سے پرامن ہندوکمیونٹی کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ ہندوشادی ایکٹ کی صورت میں انکے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اب جبکہ یہ تاریخی اقدام ہونے جارہا ہے ہندو شادی ایکٹ کی شق نمبر 12(iii)پر نظرِثانی کا مطالبہ پوری ہندو کمیونٹی کی آواز ہے، متنازعہ شق کے مطابق ہندوجوڑے میں سے کسی ایک کے بھی مذہب تبدیلی کی بناء پر شادی ختم ہوسکتی ہے، ڈاکٹر رمیش نے مزید کہا کہ ہندومت میں طلاق کا تصور نہیں ، شادی کا بندھن تاحیات قائم و دائم رہتا ہے تاہم موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایکٹ میں میں شادی خاتمے کی آپشن پیش کی ہے جسکے مطابق ہندوجوڑے کی علیحدگی کیلئے دوسال کا وقت لگے گا اور اسکے بعد وہ مذہب تبدیلی سمیت مرضی کا ہرفیصلہ کرنے میں آزاد ہونگے ، انہوں نے اس امر پر اظہارِ تشویش کیا کہ 12(iii)کی متنازعہ شق کی موجودگی میں زبردستی مذہب تبدیلی کے غیرانسانی اقدام کی حوصلہ افزائی ہوگی، ڈاکٹر رمیش کمارنے یقینی دہانی کرائی کہ ہندوکمیونٹی کے حقوق کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سمیت ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی،اس سلسلے میں ہندووفد نے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی سے میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی حرکت میں لانے کیلئے اپنا بھرپور کردار اداکرنے کی استدعا کی، ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے آگاہ کیا کہ آئندہ ہفتے سے دیگر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں اور سول سوسائٹی سےتعاون کیلئے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا جائے گاجبکہ شادی ایکٹ اگلے ماہ تک منظور ہونے کی توقع ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU
Comments are closed.

Check Also

Daily Ibrat (September 16, 2018)