، “اسلام میں جبر نہیں” کی تعلیمات کا عملی نفاذ کیا جائے، ڈاکٹر رمیش کمارونکوانی

207

کراچی (17جون2016 ؁ء): پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمارونکوانی نے ملک میں زبردستی مذہب تبدیلی کے بڑھتے ہوئے رحجان کو انسانی و اقلیتی حقوق کے حوالے سے کالا داغ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چترال میں حالیہ تصادم میں کیلاش قبیلے کی نوجوان لڑکی اور اسکے خاندان کی سلامتی یقینی بنائی جائے، کراچی پریس کلب میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں ڈاکٹر رمیش کمار نے ان میڈیا اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہا ر کیا جنکے مطابق شمالی علاقہ جات کے مشہور سیاحتی مقام چترال کی وادی بمبوریت میں سینکڑوں مقامی مسلمانوں نے کیلاش قبیلے کی لڑکی کے گھر پر اسِ بناء پر دھاوا بول دیا کہ اس نے اسلام قبول کرنے کو زبردستی قرار دیتے ہوئے واپس اپنے خاندان آنے کو ترجیح دی،مقامی پولیس نے متاثرہ کیلاش قبیلے کے گھر پر پتھراؤ اور ڈنڈوں سے حملہ کرنے والے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے صحافیوں سے گفتگو میں صوبہ سندھ میں رواں ماہ پیش آنے والے ہندو خواتین کے خلاف حملوں کا بھی حوالہ دیا، ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے آگاہ کیا کہ کراچی میں ایک خاتون ہندو ڈاکٹر انعم سیتلانی کو نعمان نامی ایمبولینس ڈرائیور کی جانب سے تشدد اور بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے، نیلان نامی ہندو خاتون کو رحیم یارخان میں تین افراد نے اغواء کرنے کے بعد زبردستی مذہب تبدیلی کیلئے مجبور کیا، کراچی سے سپنا نامی ہندو لڑکی کو آصف نامی ملزم نے تین دوستوں کے ہمراہ اغواء کرکے مذہب تبدیلی کیلئے ہراساں کیا، پاکستان ہندوکونسل نے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کررکھی ہے۔ ڈاکٹر رمیش نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں زبردستی مذہب تبدیلی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں، ڈاکٹر رمیش ونکوانی کا کہنا تھا کہ وہ مذہب تبدیلی کے مخالف نہیں لیکن” اسلام میں جبر نہیں “کی تعلیمات کے عملی نفاظ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی کے تناظر میں انہوں نے تجویز دی کہ اگر کوئی دِل سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے لازمی ہونا چاہیے کہ وہ کم از کم 6ماہ اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد فیصلہ کرے، جذبات اور دباؤ کی بناء پر مذہب تبدیلی کے معاشرے پر سنگین نتائج مرتب ہورہے ہیں کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد واپسی کی گنجائش نہیں ہوتی، میڈیا اطلاعات کے مطابق کیلاش قبیلے کی لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے غلطی سے اسلام قبول کرلیا تھا جس پر مقامی مسلمانوں نے مرتد قرار دیکر قتل کرنے کیلئے اسکے گھر پرمبینہ طور پرحملہ کیا۔ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے متاثرہ لڑکی اور خاندان کو سرکاری سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اس حساس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے مشترکہ کاوشیں کرنی چاہیے، انہوں نے زبردستی مذہب تبدیلی کے واقعات کی وجوہات اور حل تلاش کرنے کیلئے عالمی کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت پر بھی زور دیا، ڈاکٹر رمیش نے مزیدکہا کہ افسوسناک واقعے سے ملک کی قومی و عالمی سطع پر بدنامی ہوئی ہے جبکہ سیاحت کوشدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Right To Information by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Article 13 of the Universal Declaration of Human Rights, adopted by the UN General Assembl…