عالمی یومِ اساتذہ تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

41
نیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے زیراہتمام پانچ اکتوبر کو عالمی یومِ اساتذہ منایا جارہا ہے، اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد اسا تذہ کرام کا احترام یقینی بناتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے انکی پُرخلوص اور انتھک کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے،عالمی دن کو شایان شان طریقے سے منانے کیلئے اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکودنیا بھر کے تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ کی نمائندہ تنظیم ایجوکیشن انٹرنیشنل کے اشتراک سے ہر سال ایک نیا موضوع تجویز کرتا ہے جسکے تحت مختلف سماجی و آگاہی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ فروغِ تعلیم کا خواب قابل اساتذہ کے بغیر کسی صورت شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ ہی ایک مثبت معاشرے کے قیام میں بنیادی کردار کرسکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یونیسکو نے عالمی یوم اساتذہ منانے کیلئے بالکل درست موضوع کا انتخاب کیا ہے،مجھے وہ وقت یاد ہے جب میرے والد مجھے کہتے تھے کہ اگر آپ کو آگے بڑھناہے تو اپنے استاد کی ماں باپ سے بڑھ کر عزت کرو،اسکی وجہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ اگر اٹھاکر دیکھی جائے تو ازل سے عظیم حکمرانوں کی کامیابی کے پیچھے انکے قابل اساتذہ کا ہاتھ نظرآتا ہے۔ قدیمی فاتح عالم سکندرِ اعظم کی فوجوں کے آگے ایک دنیا سرنگوں تھی، تلوار کے زور پر فتوحات حاصل کرنے والا سکندراعظم عظیم فلسفی ارسطو کا شاگرد تھاجسکے متعلق اسکا ماننا تھا کہ ارسطو زندہ رہے گا تو ہزاروں سکندر تیار ہو جائیں گے مگر ہزاروں سکندر مل کر ایک ارسطوتیار نہیں کر سکتے،سکندرکااپنے استاد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ میر اباپ وہ ہستی ہے جو مجھے آسمان سے زمین پر لایا مگر میرا استاد وہ عظیم ہستی ہے جو مجھے زمین سے آسمان کی بلندیوں پر لے گیا۔ سکندراعظم کو اگر شکست کا سامنا کرنا پڑا تو وہ ہندوستان کے بادشاہ چندرگپت موریا کے ہاتھوں ہوا، موریا سلطنت کے بانی چندر گپت کی کامیابی بھی موجودہ ٹیکسیلا کے باسی عظیم فلسفی استاد کوٹلیہ چانکیہ کی حکمت و دانائی کی مرہونِ منت تھی، میں سمجھتا ہوں کہ اگر سکندراعظم اور چندر گپت موریا جیسے فاتحین کو اپنے قابل اساتذہ کی راہنمائی میسر نہ آتی تو شاید وہ کبھی تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کے قابل نہ ہوتے، یہی وجہ تھی کہ مختلف ادوار میں حکمران اپنے بچوں بالخصوص ولی عہدوں کی تعلیم و تربیت کیلئے قابل اساتذہ کا انتخاب کیا کرتے تھے اوربچوں کو بچپن سے ہی اساتذہ کا احترام یقینی بنانے کی تلقین کردی جاتی تھی، لوک کہاوت ہے کہ باادب بانصیب بے ادب بے نصیب یعنی کہ انسان کی قسمت بھی اپنے سے بڑے اساتذہ کااحترام کرنے سے منسلک ہے۔دنیا کا ہر مذہب حصولِ علم پر زور دینا ہے اورمعلمی کو پیغمبری پیشہ قرار دیتے ہوئے فروغِ تعلیم کیلئے کوشاں استاد کی عزت کرنے کا درس دیاگیاہے۔ اسلامی تعلیمات میں اساتذہ کی تکریم کا حکم جا بجا ملتا ہے، یہاں تک کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے استاد بنا کر بھیجاگیا ہے ۔ہندو معاشرے میں گرُو (استاد)کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ، خاص طور پر روحانیت کے میدان میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کیلئے ایک گرُو کا ساتھ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ایک استادوہ عظیم رول ماڈل ہستی ہے جو اپنی تمام زندگی شاگردوں کی تعلیم و تربیت میں وقف کردیتاہے اور اپنے شاگردوں کو دنیا کی دوڑ میں کامیاب ہوتا دیکھ کر روحانی خوشی محسوس کرتا ہے۔ امریکہ کے سولہویں صدر ابراہام لنکن کا اپنے بیٹے کے استاد کے نام تحریر کردہ خط آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے جس میں انہوں نے معزز استاد سے استدعا کی تھی کہ انکے صاحبزادے کو زندگی کے نشیب و فرازسے روشناس کراتے ہوئے بہترین تربیت سازی یقینی بنائی جائے، انہوں نے اپنے خط کا اختتام ان الفاظ سے کیا کہ میرے بیٹے کو تعلیم دیجیے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ قائم رکھے کیونکہ ایسا کرنے سے اسے انسانیت پر ہمیشہ اعتماد رہے گا،بلاشبہ یہ ایک نہایت ہی کٹھن کام ہے لیکن ہرممکن کوشش کیجیے کہ یہ میرا چھوٹا سا پیارا بچہ ہے۔آج دورِ جدید کے ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے تو ایک امر مشترک نظر آئے گا کہ وہاں اساتذہ کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اساتذہ کی تربیت سازی کیلئے حکومتی سطح پر مختلف منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے جاتے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق عالمی رینکنگ میں ہمسایہ ملک چین سرفہرست ہے جہاں استاد کی معاشرے میں سب سے زیادہ عزت کی جاتی ہے، چینی نظامِ تعلیم میں احترامِ استاد، طویل اوقاتِ تدریس اور سخت نظم و ضبط کو فوقیت دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پیشہ معلمی روز بروز اپنی قدر کھوتا جارہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اسکی بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں پنپتی ہوئی مادیت پرستی ہے، ہم اپنی کامیابی کا معیار روپے پیسوں سے تولنے کی کوشش کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ اصل روحانی سکون خدمتِ انسانیت سے حاصل ہوتا ہے، ایک اچھے استاد کی دولت اسکے شاگرد ہواکرتے ہیں جنہیں وہ اپنی قابلیت سے ہیروں کی طرح تراشتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں ماضی کی حکومتوں نے ہیومن ریسورس ڈویلیپمٹ کو کبھی اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس کی ایک تازہ رپورٹ میری نظر سے گزری کہ پاکستان گزشتہ سالوں کی نسبت عالمی رینکنگ میں مزید گراوٹ کا شکار ہوگیا ہے، دنیا کے 189ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 150واں ہے جو بطور پاکستانی قوم ہمارے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔میری نظر میں ماضی میں اساتذہ کے حقوق کیلئے کبھی کوئی خاص کام نہ ہوسکا بلکہ تعلیم کو صوبائی معاملہ بنادینے سے حالات مزید گھمبیر ہوئے، کبھی تعلیمی اداروں میں ہڑتالوں اور دنگے فسادوں کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں تو کبھی اساتذہ کو اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے سڑکوں پر نکلنا پڑا۔اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے قائم کردہ حکومتی ادارہ ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی وقتََ فوقتاََ اسکینڈلز کی زد میں آتا رہتا ہے، گزشتہ حکومت نے ملک بھر کے کونے کونے میں یونیورسٹی کیپمس قائم کرنے کے اعلانات تو کیے لیکن معیاری تعلیم پر توجہ مرکوز نہیں کی گئی جسکی وجہ سے آج پاکستان میں ایک بھی ایسی یونیورسٹی موجود نہیں جسکا شمار صف اول کی عالمی یونیورسٹیوں میں کیا جاسکے، وفاقی اور صوبائی ایچ ای سی کے مابین رابطے کے فقدان سے تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ کرام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا۔ رواں برس عالمی یوم اساتذہ پاکستان میں ایسے وقت میں منایا جارہا ہے جب یہاں برطانیہ کی معروف یونیورسٹی بریٖڈفورڈ کے سابق چانسلر عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے وعدے پر عوام نے ووٹوں سے نوازا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں یہ عالمی دن مناتے ہوئے دو طرح کے عہد کرنے چاہیے، اول حکومتی سطح پرہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے تحت ملک میں قابل اساتذہ کی موجودگی اور انکا احترام یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی اوراساتذہ کو درپیش مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔دوئم، بطور پاکستانی شہری ہمیں انفرادی سطح پرمعاشرے میں اساتذہ کا ادب و احترام لازمی بنانا ہوگا ، اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مجھے یقین ہے کہ دوست ملک چین کی طرح ہمارا شمار بھی ایک دن ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں ہوسکتا ہے۔****

Attachments area
Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Daily Dunya (November 13, 2018)