مذہبی سیاحت کا فروغ، وقت کی آواز تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

42
س امر سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ دورِ جدید کے امن پسند ممالک کی معیشت کا دارومدارسیاحت پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک عالمی سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے اپنے آپ کو ایک پرامن ،خوبصورت اور دوستانہ رویوں کے حامل ملک کے طور پر متعارف کرانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں،مجھے خوشی ہے کہ نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم سے اپنے پہلے خطاب میں سیاحت کو فروغ دینے کا تذکرہ کیا۔ اس حوالے سے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو عالمی سیاحت کے ٹاپ ٹرینڈز میں مذہبی سیاحت کو نمایاں مقام حاصل ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تیس کروڑ سے زیادہ لوگ مذہبی عقیدت و احترام کی بناء پر مختلف مقدس مقامات کا سفر کرتے ہیں جسکی وجہ سے اٹھارہ بلین ڈالرز سے زائد کی لاگت کا سالانہ ریونیومجموعی طور پرحاصل ہوتا ہے،دوراندیش ممالک مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ایسی مثبت پالیسیاں مرتب کررہے ہیں جسکی بدولت عوامی و حکومتی سطح پر دوستانہ تعلقات کا فروغ، مقامی صنعت کااستحکام اور لاتعداد روزگاری مواقعوں کا حصول یقینی بنایا جاسکے، حال ہی میں کیتھولک اکثریتی ایشیائی ملک فلپائین کی حکومت کا ایک بیان میری نظر سے گزرا کہ گزشتہ برس ملک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد 67لاکھ تھی جبکہ رواں برس 80لاکھ کا ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے مذہبی سیاحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔میں نے اس حوالے سے جب ریسرچ شروع کی تو کچھ دلچسپ حقائق سامنے آئے،ہرسال جنوری کی تیسرے اتوار کے دن فلپائینی جزیرے سی بو میں ملک کے سب سے قدیمی اور مقبول مذہبی تہوار کا انعقادکیا جاتا ہے جس میں دس سے بیس لاکھ شہری ملک بھر سے شرکت کرتے ہیں، حکومتِ فلپائین کی کوشش ہے کہ اس تہوار کے ذریعے عالمی سیاحوں کی توجہ بھی حاصل کی جاسکے۔دنیا میں تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑامذہبی تہوار انڈیا میں کمبھ کا میلہ ہے جہاں پر ایک کروڑ لوگ شرکت کرتے ہیں جبکہ سب سے منظم مقدس تہوار حج کو سمجھا جاتا ہے اورسینکڑوں دہائیوں سے دنیا بھر کے مسلمان حج اور عمرے کیلئے سرزمینِ حجاز کا رخ کرتے آرہے ہیں، سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر سے ساڑھے 23لاکھ سے زائدمسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا، سعودی حکومت مقدس شہروں میں غیرملکی حاجیوں کو بہترین رہائشی و سفری سہولیات کی فراہمی کی خاطر مختلف ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے۔امریکہ اور مغربی ممالک کے مذہبی سیاحوں کا پسندیدہ ترین مقام اسرائیل کے زیرتسلط تاریخی شہر مقبوضہ یروشلم ہے جہاں اسلام، عیسائیت اور یہودیت سمیت تینوں الہامی مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد مذہبی عقیدت و احترام کے جذبے کے تحت پہنچتی ہے۔، ہمسایہ ملک انڈیا میں واقع دریائے گنگا میں اشنان کیلئے دنیا بھر سے یاتری آتے ہیں، دریائے گنگا کے کنارے سینکڑوں کی تعداد میں مندر مذہبی یاتریوں کیلئے خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں، اسی طرح اجمیر شریف میں واقع درگاہ خواجہ معین الدین چشتی کا دورہ کرنے والوں میں دنیا بھر کے مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں، امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمپل کی زیارت روزانہ کی بنیادپر ایک لاکھ لوگ کرتے ہیں ۔مسلمان زائرین کی بڑی تعداد ایران، عراق اور شام سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کا بھی رخ کرتی ہے۔ایشیا اور یورپ کے سگم پر واقع ترکی ہر سال دنیا بھر کے چار کروڑ عالمی سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے، ترکی میں تینوں الہامی مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی نوعیت کے بے شمار مقامات موجود ہیں، ان مقامات میں خلافت عثمانیہ کے دور کی پروقار عمارات، مساجد اور خانقاہیں بھی شامل ہیں اور قدیم عیسائی قسطنطنیہ کے زمانے کا آئیا صوفیہ چرچ بھی جسے اب میوزیم کی صورت دے دی گئی ہے، اسی طرح یہودیوں کی بڑی تعداد کی بھی اپنی مقدس عبادتگاہوں کی زیارت کرنے ترکی آمد ہوتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق عالمی مذہبی سیاحت کیلئے سعودی عرب ،ویٹی کن ، بھارت اور اسرائیل کو پسندیدہ ترین مقامات کا درجہ حاصل ہے،اسی طرح فرانس، پیرو،تھائی لینڈ، یونان،نیپال، جرمنی، سری لنکا وغیرہ بھی مذہبی سیاحوں کیلئے باعثِ کشش ہیں۔ وطن عزیز کی بات کی جائے تو پاک سرزمین دنیا کے چار بڑے مذاہب اسلام، ہندومت، سکھ مت اور بدھ مت کے ماننے والوں کیلئے مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک بھر بالخصوص سندھ کی دھرتی پر جابجا صوفیاء کرام کے مزارات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ محبت کی بولی بول کرخلقِ خدا کا دل جیتنے والے کبھی مرتے نہیں،محبت کا پیغام عام کرنے والوں کے در پرسالانہ عرس کے علاوہ بھی زائرین روزانہ کی بنیادوں پر آتے ہیں۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہندوؤں کے پندرہ سو سے زائد قدیمی مندر موجود ہیں، دنیا بھر کے ہندوؤں کی نظر میں پاکستان میں واقع ہنگلاج مندر ، کٹاس راج مندر اورآنند پور دربار تیرئی مندر نہایت قابلِ احترام ہیں جنکی یاترا کیلئے بھارت، امریکہ، کینیڈا سمیت مختلف ممالک سے ہندو باشندے پاکستان آتے ہیں،قدیم ہندومقدس کتاب رگ وید کے متعلق عام عقیدہ ہے کہ وہ موجودہ پاکستان میں دریائے سندھ کے کنارے لگ بھگ 1500 سال قبل مسیح میں زیرتحریر لائی گئی، موئن جودوڑو کے آثار قدیمہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہاں کبھی ہندومذہب کے ماننے والوں کا بول بالا رہا ہے، اسی طرح قدیم گندھارا تہذیب پر بھی ہندودھرم اور بدھ مت کے آثار پائے جاتے ہیں، ٹیکسلاکو نہ صرف قدیم ہندوستان کے طاقتور ترین شہنشاہ چندر گپت موریا کے دور اقتدار میں خاص اہمیت حاصل رہی بلکہ بعد میں بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی جائے پیدائش بھی قرار پایا، عظیم فلسفی کوٹلیا چانکیہ بھی ٹیکسلا کی قدیمی یونیورسٹی کا معلم تھا۔ اسلام آبادسے کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تخت بھائی میں بدھ مت کی عبادت گاہیں، خانقاہیں، جلسہ گاہیں، قدآور مجسمے اورتصویری نقش و نگار سے مزیّن بلند و بالا دیواریں سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج سینکڑوں سال بیت جانے کے باوجود جاپان، کوریا، سری لنکا، تھائی لینڈ کے باسیوں کی بڑی تعداد اپنے مقدس مقامات کی یاترا کیلئے دورہ پاکستان کی خواہاں ہے۔ اسی طرح سکھ مت کے بانی بابا گرُو نانک کی پاکستان میں واقع جائے پیدائش ننکانہ صاحب سکھوں کیلئے مقدس ترین مذہبی مقام ہے،ہر سال مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی پر متھا ٹیکنے بے شمار سکھ پاکستان آتے ہیں،سکھوں کا مشہور گوردوارہ پنجہ صاحب بھی حسن ابدال میں واقع ہے۔ مغلیہ دور کی بادشاہی مسجدلاہور اور دورِ جدید کی شاہکار فیصل مسجد اسلام آباد کودیکھے بغیر غیرملکی سیاحوں کا دورہ تشنہ ہی رہ جاتا ہے، وفاقی دارالحکومت میں واقع بری امام مزار اور گولڑہ شریف ہر وقت زائرین سے بھرے رہتے ہیں، رائے ونڈمیں اپنی نوعیت کا سب سے متاثرکن مذہبی اجتماع منعقد ہوتا ہے ۔بطور پاکستانی لمحہ فکریہ ہے کہ جب دنیا کا ہرسمجھدار ملک اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھارہا ہے اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں مذہبی سیاحت کے موضوع پر ریسرچ کی جارہی ہے تواتنے زیادہ اہم مقدس مقامات ہونے کے باوجود پاکستان فروغ مذہبی سیاحت کی دوڑ میں کوسوں پیچھے کیوں ہے حالانکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف جنوبی کوریا، جاپان اورملائشیاکے امیر سیاحوں کی آمد سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی آمدنی قومی خزانے میں جمع ہوسکتی ہے، یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے غیرمسلم اقلیتوں کے مذہبی مقامات کو سیاسی بھرتیوں اور ناقص کارکردگی کی بناء پر جگ ہنسائی کا باعث بننے والے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کرکے مزید زبوں حالی کا شکارکردیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاک فوج کی قربانیوں کی بدولت آج کا پاکستان ماضی کے پاکستان سے کہیں زیادہ پُر امن ہوگیاہے تو اب یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرتے ہوئے فروغِ سیاحت کیلئے ٹھوس پالیسیاں وضع کرے، ہماری خارجہ پالیسی میں غیرملکی مذہبی سیاحوں کیلئے نرم ویزے کا اجراء یقینی بنانا چاہیے، میری نظر میں مذہبی سیاحت کا فروغ ہماری ملکی معیشت کے استحکام کیلئے اتنا اہم ہے کہ نئے پاکستان میں اس کیلئے ایک باقاعدہ محکمہ قا ئم کیا جانا چاہیے، مجھے یقین ہے کہ ہم مذہبی سیاحت سے اتنا زیادہ ریونیو جمع کرسکتے ہیں جو نہ صرف ہمیں بیرونی قرضوں سے نجات بلکہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا ضامن ثابت ہوسکتا ہے۔

****

Attachments area
Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Daily Dunya (November 13, 2018)