پاکستانی صحرائے تھر، ایک لمحہ فکریہ :تحریر ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی

50

گزشتہ ہفتے محترم چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے مجھے سپریم کورٹ میں طلب کرکے تھر کی صورتحال کے حوالے سے پوچھا چونکہ میرا اپنا تعلق تھر پارکر سے ہے اس لئے میں معزز عدلیہ کو وہاں کے مسائل کے بارے میں آگاہ کروں۔ میں نے اپنے جواب میں یہ کہا تھا کہ پاکستان کے پسماندہ ترین ضلع تھرپارکر کی بدقسمتی ہے کہ گزشتہ ستر سالہ ملکی تاریخ میں کسی نے تھر واسیوں کیلئے لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا نہیں سوچا،جو بھی شارٹ ٹرم اقدامات اٹھائے جاتے ہیں انکا پچاس فیصدکرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غربت اورمعاشی بدحالی کی وجہ سے خودکشیوں اور غذائی قلت ،بیماریوں کی وجہ سے معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں برس تھرپارکر میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرگئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ماہ میں پچاس کے قریب لوگ خودکشیاں کرچکے ہیں اور اتنی ہی تعدادمیں معصوم بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں، تھر پارکر کی سڑکوں پرجابجا مویشیوں کے ڈھانچے دیکھ کر دِل خون کے آنسو روتا ہے، یہ وہ جانور ہیں جو بھوک پیاس کی وجہ سے دنیا چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے۔میں نے چیف جسٹس صاحب سے درخواست کی کہ صحرائے تھر کے حالات پر نظر ڈالی جائے، وہ صحرائے تھر جسکاایک بڑا حصہ انڈیا کی ریاست راجستھان میں ہے آخر کیا وجہ ہے کہ ہم نے پاکستانی صحرائے تھرکو ایسا پسماندہ ترین علاقہ بنا دیا ہے جہاں سے صرف منفی خبریں ہی آتی ہیں۔ ہمسایہ ملک میں واقع راجستھان کے باسی بھی ہماری طرح کے صحرا میں جنم لیتے ہیں لیکن زندگی کے ہر شعبے میں تیزی سے اپنا مقام بنارہے ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے 9ویں بڑے صحرا تھرکا لگ بھگ60فیصدحصہ انڈیا کی ریاست راجستھان، 15فیصد بھارتی پنجاب، گجرات اور ہریانہ میں واقع ہے جبکہ بقایا 25فیصد پاکستان کے صوبہ سندھ کا حصہ ہے۔ دونوں اطراف کے صحرائے تھر میں ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے ہنسی خوشی رہ رہے ہیں، تھر کو مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ تقسیم ِ ہند کے موقع پر جب ہر جگہ دنگا فساد ہورہےتھے، سرزمین تھر میں مکمل امن قائم تھا۔ تھر کا نام تھل سے اخذ کیا گیاہے جو مقامی زبان میں نمک کیلئے استعمال ہوتا ہے، ہندودھرم میں صحرائے تھرکو تاریخی اور ثقافتی طور پر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، قدیم مقدس کتاب رامائین میں اسے لاوان ساگر (نمک کا سمندر) کہا گیا ہے۔ روایت ہے کہ رام جب لنکا پر حملہ کرنے اپنے لشکر کے ساتھ جارہے تھے تو انہوں نے اپنے آتشی ہتھیار کے ذریعے سمندر کو خشک کردیا تھا، اسی طرح دریائے سرسوتی کو رِگ وید کے مطابق مقدس دریا کا درجہ حاصل ہے، دورِ جدید کی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ قدیمی دریاکسی زمانے میں پاکستانی صحرائے تھر میں بہا کرتا تھا، مہابھارت میں درج ہے کہ سرسوتی دیوی نے ایک صحرا کو بالکل خشک کردیا تھا جو آج کا تھر صحرا بتایا جاتا ہے، راجستھان کا قدیمی نام راجپوتانہ یعنی راجاؤںکا علاقہ ہے،راجستھان کی خشک زمین کو سیراب کرنے کیلئے خوبصورت نہروں اور جھیلوں کا ایک جال بچھایا گیا ہے، مشہور جھیلوں میں آنند ساگر جھیل، اناساگر جھیل، بال سمند جھیل، دودھ تلائی جھیل، فتح ساگر جھیل، گدی سر جھیل، گیب ساگر جھیل ، پشکار جھیل، تالابِ شاہی وغیرہ سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔صحرائے تھر دنیا کے ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں کے باسیوں کا بڑا دارومدار مویشی بانی اورکھیتی باڑی پر ہے،یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ڈیری فارمز قائم کرنے پرخاص توجہ دی جاتی ہے اور راجستھان کی ڈیری مصنوعات ملکی اور عالمی سطح پراپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ صحرا بھر میں جا بجا نمکین پانی کی جھیلیںبھی پائی جاتی ہیں جو مختلف امراض کا قدرتی علاج ہیں۔ صحرائے تھر کی ثقافت کو مختلف ہالی وڈ اور بالی وڈ موویز میں بھی فلمایا جا چکا ہے، بالی وڈ کی بیشتر تاریخی بلاک بسٹر فلموں کی عکس بندی راجستھان میں کی جاتی ہے۔ جہاں سرحد پار صحرائے تھر میں زندگی اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ چمک دمک رہی ہے تو دوسری طرف یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ اگرہمارے ملک میں کوئی پسماندہ ترین اور آفت زدہ علاقہ سمجھا جاتا ہے تو وہ سندھ کا ضلع تھر ہے جہاں عرصہ دراز سے غذائی قلت،خشک سالی اور قحط کا مستقل سامنا ہے، روزانہ کی بنیاد پر معصوم بچے سسک سسک کردم توڑتے جارہے ہیں لیکن حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی، انڈیا کا صحرائے تھر وسیع پیمانے پر زرمبادلہ کمانے کا باعث بن رہا ہے تو پاکستانی صحرائے تھر کو بوجھ سمجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ میں تھر واسیوں کی طرف سے چیف جسٹس صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے تھر کی فریاد سنی، میں نے جناب چیف جسٹس صاحب سے درخواست کی کہ وہ ایماندار سینئر آفیسر کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کریں جو تھر پارکر کے زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات بھی مرتب کرے اور نفاذ کی اہلیت بھی رکھتا ہو، اس کمیٹی کے دیگر ممبران میں سیکریٹری ہیلتھ، سیکریٹری ایجوکیشن ، سیکریٹری لائیو اسٹاک، سیکریٹری ریونیو، سیکریٹری فوڈ، سیکریٹری ایگری کلچر، سیکریٹری ٹورازم اور سیکرٹری مائنیز اینڈ منرلز شامل ہوں جو باہمی مشورے اور تعاون سے تھرپارکر کو انسانی بحران سے نکالنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تھر پارکر میں میٹھے اور صحت بخش پانی کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے صحت عامہ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے جو صرف فروغ تعلیم سے ہی ممکن ہے،تھر کے معصوم شہریوں کو قبضہ مافیا کے شکنجے سے آزادکراتے ہوئے سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بناناہوگی،اسی طرح ہمیں تھرپارکر میں مال مویشیوں کی دیکھ بھال کیلئے ڈیری فارمزقائم کرنے، ایگری کلچر سیکٹر کو پروان چڑھاتے ہوئے معدنیات کے شعبے کے استحکام پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اگر انڈیا کا صحرائے تھر دنیا کا نمایاں سیاحتی مقام بن سکتا ہے تو آخر ہم تھرپارکر میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کرسکتے؟ میں امید کرتا ہوں اور عہد کرتا ہوں تھر واسیوںسے کہ میں انکا دکھ درد اپنا سمجھتے ہوئے سپریم کورٹ کی ہر پیشی میں بذات خود پیش ہونگا اور معزز عدالتِ عظمیٰ کے روبرو اپنی تجاویز بھی پیش کرتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے احکامات کے نتیجے میں قوم کو تھرپارکر کےانسانی المیےسے نجات حاصل ہوجائے گی۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Daily Dunya (November 13, 2018)