اقلیتی مذہب کے نام پر شراب کا دھندا توہین مذہب ہے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی

520

کراچی /اسلام آباد (27اکتوبر2016 ؁ء): پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی طرف سے سندھ بھر میں شراب خانے بند کرنے کے آرڈرز کا خیرمقدم کیاہے، ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے اپنے تبصرے میں سندھ ہائی کورٹ کے بہادرانہ فیصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شراب نوشی تمام مذاہب میں ممنوع ہے، شراب کی خرید وفروخت میں مذہب کو ملوث کرنا توہین آمیز اقدام ہے، ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ معاشرے کو شراب سے پاک کرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی سطع پر پارلیمنٹ میں قانون سازی یقینی بنائی جانے کے احکامات صادر کیے جائیں، انہوں نے اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں شراب کی پابندی کے حوالے سے اپنے مسترد شدہ بِل عدلیہ کے روبرو پیش کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا، ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے ہندو دھرم کی مذہبی کتاب شری مد بھگواتھ پرن کے اشکنڈ دوسرا ، ادھیا سترہ ، شلوک اڑتیس ، انتالیس ، چالیس ، اکتالیس کا حوالہ دیتے ہو ئے کہا کہ دیوالی، ہولی جیسے ہندو تہواروں کے موقع پر بھی شراب نوشی کی اجازت نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتی مذہب کے نام پر شراب کا گھناؤنا دھندا توہینِ مذہب کے ضمرے میں آتا ہے اور اسلامی معاشرے کا قیام یقینی بنانے کیلئے سال کے بارہ مہینے اور 365دن شراب کی پابندی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے نام پر شراب کے دھندے میں کونسے تین بڑے اثرورسوخ رکھنے والے گینگ ملوث ہیں،اگر انہوں نے یا سندھ حکومت یا شراب اڈوں کے مالکان نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کی کو شش کی تو وہ بطور ہندو لیڈر عدالتی فیصلے کا دفاع کرنے کیلئے بذاتِ خود پیش ہونگے، انہوں نے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ کے 19جون 2014 ؁ء کے تفصیلی فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شراب کے خلاف بھی ایسے ہی اقدامات کی توقع کا اظہار کیا، انہوں نے مزید کہا کہ عدالت پولیس کو پابند بنائے کہ شراب خانوں کے ساتھ ساتھ عام آبادی میں قائم غیرقانونی شراب کے اڈوں کا بھی خاتمہ کیا جائے، ڈاکٹر رمیش ونکوانی کا کہنا تھا کہ وہ ایسے غیرقانونی اڈوں کی کافی مرتبہ پولیس کو نشاندہی کرچکے ہیں اورشراب کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے عدالت سے بھرپور تعاون کریں گے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU
Comments are closed.

Check Also

The News International (November 9, 2018)