دورہ جرمنی ، کچھ یادیں۔۔ تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

18

اپنے ایک دورہ جرمنی کے دوران فرینکفرٹ ایئرپورٹ پرجو پہلا نظارہ دیکھنے کو ملاتھا وہ آج بھی میرے دل و دماغ میں تازہ ہے، اسکی وجہ وہ کوئی لگ بھگ ستر کے قریب ہوائی جہازتھے جو نہایت منظم انداز میں فضائی آپریشنز میں مصروفِ عمل تھے،میں نے مختلف ممالک کی قومی و نجی ایئرلائنز کے رنگ برنگے طیاروں کی موجودگی میں جس چیز کی شدید کمی محسوس کی وہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کے طیاروں کا وہاں نہ ہونا تھا، کسی زمانے میں پاکستان کی قومی ایئرلائن دنیا بھر میں پسندیدہ ترین ایئرلائن کا درجہ رکھتی تھی لیکن آج زوال کا شکار پی آئی اے دنیا کے فقط اکیس ممالک تک رسائی رکھنے پر مجبور ہے ۔یورپ کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے ایک اس جرمن ایئرپورٹ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ دنیا کی پہلی ایئرلائن گزشتہ صدی کے اوائل میں فرینکفرٹ ایئرپورٹ ہی میں قائم کی گئی تھی۔ ایئرپورٹ سے باہر نکل کرہوٹل جانے کیلئے ٹیکسی ہائر کی تو ڈرائیور شکل و صورت سے پاکستانی لگا،استسفار پرمعلوم ہوا کہ وہ ویسے تو نارووال سے تعلق رکھتا ہے لیکن جرمن قوانینِ شہریت کے تحت پاکستانی نیشنلٹی سرنڈر کرنے کے بعد اب جرمن شہری ہے، جرمنی دنیا کے ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں دہری نیشنلٹی رکھنا قانونی طور پر منع ہے اور جرمنی کی شہریت حاصل کرنے کیلئے اپنے آبائی وطن کی نیشنلٹی کو خیرباد کہنا پڑتا ہے۔مجھے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے دوروں کے دوران پاکستانی تارکین وطن سے تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن جو کرب میں نے نارووال کے اس ڈرائیور کی باتوں میں پایا وہ بھلایا نہیں جاسکتا،پاکستان کے غیریقینی ناسازگار حالات نے اسے ہجرت کا غم سہنے پر مجبور توکیا ہی لیکن پاکستان کی نیشنلٹی گنوا کر وہ اب نفسیاتی طور پر اپنے آپ کودیگر پاکستانیوں کی نظر میں غیرملکی سمجھنے لگا تھا ، دورانِ گفتگو ڈرائیور کا بار بارکہنا تھا کہ اگر جنگِ عظیم دوئم کے بعد شدیدتباہ حال جرمنی کے دونوں حصے آج متحد ہوکر اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکتے ہیں تو آخر پاکستان کیوں ترقی کی دوڑ میں روز بروز پیچھے ہوتا جارہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب کسی ایک فردِ واحد یا ادارے نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکرنہ صرف ان ناپسندیدہ عوامل کی نشاندہی کریں جو قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ اس حوالے سے ایک دیرپا قومی پالیسی وضع کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ شاندار تاریخی تہذیب و تمدن کا حامل جدید ملک جرمنی آج سے فقط کچھ دہائیاں قبل ایک نہ تھا، قدیم رومن دور میں اسے” جرمنیا” کا نام دیا گیا تھا، رومن حکمران جولیس سیزر کے زمانے میں بھی مختلف قبائل میں منقسم جرمنیاکے آثار ملتے ہیں جبکہ مقدس رومن سلطنت میں رقبے کے لحاظ سے جرمن بادشاہت سب سے بڑی تصور کی جاتی ہے، ویسے یہ امر بھی خاصا دلچسپ ہے کہ آج بھی جرمنی شاید دنیا کا واحد ملک ہے جسے اسکے ہمسایہ اور دیگر ممالک مختلف زبانوں میں سو سے زائد مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ہٹلر کے زیرقیادت قوم پرست نازی جرمنی کو جنگ عظیم دوئم کے حوالے سے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے جس میں بلامبالغہ مختلف ممالک کے لاکھوں افرادلقمہ اجل بنے، اس ہولناک خونی جنگ میں نازیوں کے خلاف برسرپیکار برطانوی رائل فوج کے جھنڈے تلے برصغیر پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے بہادر افسران اور جوانوں نے بھی اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے۔ ہٹلر کے عروج و زوال کی کہانی میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں لیکن سب سے اہم ترین میری نظر میںیہ امر ہے کہ معصوم عوام کے جذبات بھڑکا کر قوم پرستی اور تعصب پسندی کی بدولت عارضی کامیابی تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن درحقیقت اپنے ملک کی اقلیت برادری اور ہمسایوں سے نفرت کا راستہ تباہی و انتشارکی طرف لے جاتاہے،آج جرمن قوم کے نام پر ہٹلر کے مظالم پر خود جرمن قوم شرمندہ ہے ، ہٹلر کے جنگی عزائم کا نتیجہ جرمنی کی بدترین شکست اوردو لخت ہونے کی صورت میں نکلا ، مغربی جرمنی یورپ اور امریکہ کے زیرسایہ ترقی و خوشحالی کی را ہ پر گامزن ہوا جبکہ مشرقی جرمنی نے سویت یونین کے زیراثرسوشلزم کو اپنالیا، درمیان میں دیوارِ برلن قائم کرکے سماجی رابطے منقطع کردیئے گئے اور دونوں جرمنیوں میں رہنے والے ایک دوسرے کیلئے اجنبی قرار پائے ،متحد ہونے کا سوچنا تو دور کی بات روزمرہ کے روابط بحال ہونے کی بھی امید نظر نہ آتی تھی لیکن پھر افغانستان میں سویت یونین کی عبرتناک شکست نے مشرقی یورپ اور سینٹرل ایشیائی ممالک کی آزادی کا راستہ ہموار کیا توایک دوسرے سے جدا رہنے پر مجبور دونوں جرمنیوں کے عوام کے دلوں میں پھر سے ایک ہونے کی خواہش جاگ اٹھی اورچالیس سال بعد تاریخ کا وہ ناقابل فراموش لمحہ بھی آگیا جب دونوں اطراف کے جرمن شہریوں نے دیوارِ برلن ڈھا دی۔تین اکتوبر 1990ء کو باضابطہ طور پر دونوں حصوں نے ایک متحد جرمنی میں ڈھلنے کا عمل مکمل کرلیا ، ہر سال جرمن یونیٹی ڈے شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے، جرمنی میں یہ واحد دن ہے جس میں ملک بھر میں قومی سطع پر سرکاری تعطیل ہوتی ہے ، تاریخی دن کی مناسبت سے مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دیوارِ برلن گرائے جانے کے لمحات بطورِ خاص یاد کیے جاتے ہیں اور ہر سال ایک جرمن شہرقومی تقریبات کی میزبانی کا شرف حاصل کرتا ہے۔آج اکیسویں صدی میں متحدہ جرمنی ایک عظیم ترقی یافتہ خوشحال ملک بن چکا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی دنیا کی چوتھی بڑی اقتصادی قوت ہے جبکہ انڈسٹریل اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ ترین مہارت رکھنے کی بناء پر دنیا کے تیسرے بڑے درآمدی و برآمدی ملک کا درجہ رکھتا ہے،علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے جرمنی کو یورپی یونین کے بانی ممالک میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے، عسکری اعتبار سے دیکھا جائے تو جرمنی علاقائی فوجی اتحاد نیٹو کا اہم ممبر اور دفاعی اخراجات پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے، حکومتِ جرمنی کے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ کیئر سہولیات، مفت اعلیٰ تعلیم جیسے شاندا ر اقدامات دنیا جہاں کے تارکین وطن کو جرمنی کی طرف متوجہ کرتے ہیں ، جرمنی یورپ کا وہ واحد ملک ہے جس نے شام کی خون آشام جنگ کے نتیجے میں ہزاروں مہاجرین کو اپنی سرحدوں پر خوش آمدید کہا، ایسے موقع پر جب دنیا کے بیشتر ممالک مہاجرین کو ملکی معیشت پر بوجھ تصور کررہے ہیں جرمن خاتون چانسلر انگیلا میرکل کا کھلے دل سے مصیبت زدہ انسانوں کا خیرمقدم کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگردنیا ایک طرف خود غرض عناصر اور نفرت کا پرچار کرنے والوں کے مظالم کا شکار ہے تو دوسری طرف انسانیت کا درد رکھنے والے بھی موجود ہیں، جرمنی کے عوام جنگ عظیم کی تباہکاریوں کا شکار ہونے کے باعث متاثرین جنگ کا دُکھ بخوبی سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تارکین وطن کو جرمن معاشرے کا فعال حصہ بنانے کیلئے حکومتی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔میری نظر میں کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی میں یہ اہم ترین فیکٹر ہوتا ہے کہ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے ا ہلیت اورقابلیت کی بنیاد پر رائٹ پرسن ایٹ رائٹ پلیس کے اصول پر عمل کرنا چاہیے اور اپنے سیاسی دیرینہ ساتھیوں کو نوازنے کیلئے ملک کی ترقی سے کھلواڑ نہ کیا جائے، اسی طرح آپس کی لڑائیوں سے ملک میں غیریقینی صورتحال قائم ہونے کے ساتھ جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے۔ بطور پاکستانی قوم ہمیں جرمنی کے نظامِ معاشرت سے یہی سبق حاصل کرنا چاہیے کہ اگر ہم عالمی برادری کی نظر میں اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے نفرتوں کو خیرباد کہتے ہوئے بغیر کسی تعصب کے صدقِ دل سے پاکستان کی خدمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

***

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

پاکستان افغانستان، امن کا سفر تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

دنیا بھر میں ہر سال21ستمبر عالمی یوم امن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں امن …