پچاس ہندو جوڑوں کی اجتماعی شادی کی رنگارنگ تقریب میں دس ہزار افراد کی شرکت

185

کراچی / اسلام آباد (4جنوری2015ء): کیا آل پارٹیز کانفرنس اور قومی ایکشن پلان میں اقلیتوں کو نظرانداز کرنا،اعتماد میں نہ لینا محب وطن اقلیتوں کو قومی دھارے سے الگ کرنے کی حکومتی کاوش ہے، کیا مندروں اور دیگر اقلیتی مذہبی عبادت گاہوں پر حملے دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتے، کیا ملٹری کورٹس ہندوؤں کے خلاف جرائم میں ملوث دہشت گردوں کے مقدمے بھی سنے گیں، کیاپاکستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے کوشاں اقلیتوں کا موقف اورمسائل سمجھے بغیر قومی ایکشن پلان کی تیاری قوم اور ایکشن دونوں کی توہین نہ سمجھی جائے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ہندوکونسل کے زیراہتمام پچاس ہندو جوڑوں کی اجتماعی شادی کی رنگارنگ تقریب کے موقع پر دس ہزار ہندو افراد نے شرکت کی، اس موقع پر شرکاء نے حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کے ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی ، جو کہ پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں،کے سامنے موجودہ ملکی سلامتی کے تناظر میں سوالات کے انبار لگا دیئے۔

phc_jan4-2015انہوں نے پاکستان ہندوکونسل سے پرزور مطالبہ کیا کہ ایسے موقع پر جب دہشت گردوں کی جانب سے امن پسند اقلیتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہورہا ہے، قومی ایکشن پلان کے حوالے سے ہندوبرادری کا موقف واضح انداز میں حکومتِ پاکستان کے سامنے پیش کیا جائے۔ صدر چیلارام کیلوانی نے آگاہ کیا کہ پاکستان ہندوکونسل نے اے پی سی اور قومی ایکشن پلان میں اقلیتوں کو نظرانداز کرنے کا معاملہ اجاگر کیا ہے، اقلیتوں سے وابستہ دیگر فیصلہ سازی کے امور بشمول قومی وقف املاک بورڈ اور الیکشن اصلاحات کمیٹی میں بھی اقلیتوں کو اعتماد میں نہ لینا افسوسناک امر ہے۔

اس حوالے سے موقف لینے کیلئے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ہندو برادری کی جانب سے اٹھا ئے گئے سوالات سے اتوار کووزیرِ اعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بذریعہ ایس ایم ایس آگاہ کردیا ہے اور اس سلسلے میں جلد ہندو کونسل کا نمائندہ وفد وزیراعظم سے ملاقات کا خواہاں ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Beyond Crisis by Dr Ramesh Kumar Vankwani

There is much being said in the media about PIA as it is suffering from a severe crisis. T…