فیصلہ سازی میں اقلیتوں کی شمولیت نہ ہونے سےانسدادِ دہشت گردی مہم مزید پیچیدہ ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان ہندو کونسل

380

کراچی /اسلام آباد (24دسمبر 2014ء):دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات میں ملک بھر کے ہندو اور دیگر اقلیتی باشندوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن انسدادِ دہشت گردی کیلئے قائم کردہ حکومتی ایکشن پلان کمیٹی میں اقلیتی نمائندوں کومکمل طور پر نظراندازکرنے سے اقلیتوں میں پائی جانے والی مایوسی و بے چینی میں مزید اضافہ ہوا۔

ان تاثرات کا اظہارپاکستان ہندوکونسل کے صدر چیلارام کیلوانی نے اسلام آباد میں منعقدہ ایکشن پلان کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیاکہ وطن عزیز میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بناء پر انسدادِ دہشت گردی کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے ،جب تک دہشت گردی سے متاثرہونے والے طبقات کا موقف واضح طور پر سمجھنے کیلئے انہیں فیصلہ سازی کے امور میں شامل نہیں کیا جائے گا، دہشت گردی پر قابو پانامشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔

پاکستان ہندوکونسل مذہبی انتہا پسندی، اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم، زبردستی مذہب تبدیلی، جبری شادی سمیت دیگر جرائم کو ملک کو لاحق سنگین اندرونی خطرات میں شمار کرتی ہے۔ صدر چیلا رام نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ الیکشن اصلاحات کمیٹی ، متروکہ وقف املاک بورڈ سمیت اقلیتوں سے متعلقہ دیگر فیصلہ سازی کے امور میں بھی اقلیتی نمائندوں کو شامل نہیں کیا جارہا

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU
Comments are closed.

Check Also

The News International (October 12, 2018)