شمالی بمقابلہ جنوبی کوریا،امن جیت گیا! تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

182

گزشتہ برس مجھے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں منعقدہ عالمی امن کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا، بعد ازاں میں نے اپنے کالم ’’جزیرہ نما کوریا میں امن کی تلاش‘‘ بتاریخ 21ستمبر2017ء کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ طاقت کے زور پر کسی کو زبردستی الگ تو کیا جاسکتا ہے لیکن امن کی خواہش کو دبا یا نہیں جاسکتا ، مجھے خوشی ہے کہ وقت نے میرے الفاظ کو سچ ثابت کردکھایا جب شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان نے قیام امن کی خاطر جنوبی کوریا کا تاریخی دورہ کرتے ہوئے پیدل سرحد پار کی، حالیہ دورہ 65سال بعد کسی بھی شمالی کورین رہنما ء کا پہلا دورہ ہے جسکا دنیا بھر میںبھرپور خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ جنگ عظیم دوئم سے قبل جزیرہ نما کوریا ایک متحد ملک تھا جس نے اپنے وقت کے سامراج سے پندرہ اگست 1948ء کو آزادی حاصل کی لیکن بہت جلد عالمی سامراجی قوتوں نے دو حصوں میں تقسیم کرکے گھروں محلوں کے درمیان بارودی سرنگوں اور آہنی باڑوں کی سرحد قائم کردی، 1950ء کی تباہ کن کورین جنگ میں دونوں اطراف کے ہزاروں لاکھوں کورین باشندے جنگ کا ایندھن بن گئے۔جنوبی کوریا میں اپنے قیام کے دوران مجھے اپنے میزبانوں سے تبادلہ خیال کا بھی موقع ملا، بیرون ممالک دوروں کے موقع پر میری ہمیشہ سے یہی کوشش رہتی ہے کہ میں ان عوامل کو سمجھ سکوں جو عاشروں کو ترقی و خوشحالی کی طرف لیکر جاتے ہیں،اس سلسلے میں دونوں کوریاؤں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کچھ دلچسپ حقائق بھی میرے سامنے آئے۔جنوبی کوریا کا قومی پرچم امن کی علامت سفید بیک گراؤنڈپرمشتمل ہے ، درمیان میں سرخ ونیلے رنگ کا دائرہ برابری اور مساوات کا درس دیتا ہے جبکہ دائرے کے چاروں طرف نشان متحرک اور ترقی کی جانب گامزن معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ شمالی کوریا کا سرخ پرچم روایتی طور پر ایک سوشلسٹ کمیونسٹ ملک کا جھنڈا ہے جس میں سرخ ستارہ کمیونزم نظام کو ظاہر کرتا ہے، پرچم کے اوپر نیچے نیلے اور سفیر رنگ کی پٹیاں ہیں۔کمیونزم کے علمبردار شمالی کوریا کے پرچم کا استعمال جنوبی کوریامیں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے موبائل فون ، واٹس ایپ وغیرہ میں شمالی کوریا کے پرچم کا نشان نہیں پایا جاتا۔دونوں ممالک کا ایک مشترکہ سفید پرچم عمومی طور پر اسپورٹس ایونٹس میں استعمال ہوتا ہے ۔ قابل توجہ امر ہے کہ دونوں ممالک نے آزادی تو ایک ہی دن حاصل کی لیکن شمالی کوریا روزاول سے خاندانی بادشاہت کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، شمالی کوریا پر تاحال تین نسلوں نے حکومت کی ہے، دوسری طرف جنوبی کوریا میں آزادی کے بعدسے گیارہ مختلف حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں، جنوبی کوریا کی سابق خاتون صدرپارک جوئن ہوئی کو جنوبی کوریا اور مشرقی ایشیا کی پہلی منتخب خاتون جمہوری حکمراں ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ شمالی کوریا عالمی سطح پر اپنا موقف منوانے کیلئے تباہ کن ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے، شمالی کوریا کی فوج دنیا کی چوتھی بڑی عسکری طاقت ہے ، شمالی کوریا کے کم و بیش ہر باشندے پر عسکری تربیت لازمی ہے،شمالی کوریا کے پاس کم از کم دس کی تعداد میں نیوکلیئر وار ہیڈز ہیں۔ ہتھیاروں کی دوڑ سے دور جنوبی کوریا کی ترجیحات میں ریسرچ،ا سمارٹ فون ، الیکٹرونکس اورجدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنا شامل ہے، جنوبی کورین کمپنی سام سنگ کا شمارموبائیل فون سیٹ بنانے والی دنیا کی نمایاں کمپنیوں میں ہوتا ہے۔شمالی کوریا کی پچیس ملین کی آبادی میں فقط تین ملین باشندوں کے پاس موبائل فون ہیں ، اس تعداد کے مطابق دس میں سے صرف ایک کو موبائل فون کی سہولت میسر ہے ، شمالی کوریا کے عوام کیلئے انٹرنیٹ کی رسائی بھی محدود ترین ہے، ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا میں صرف 28ویب سائٹس عوام کیلئے اوپن ہیں جن میں زیادہ تر پر سرکاری پروپیگنڈےکا مواد موجود ہے۔دوسری طرف جنوبی کوریا کو انٹر نیٹ کے استعمال کے حوالے سے ورلڈ لیڈر کہا جاتا ہے جہاں دنیا کا سب سے تیز رفتار انٹرنیٹ اسپیڈ 28اعشاریہ 6ایم بی فی سیکنڈ میسر ہے،کُل 92فیصد آبادی انٹرنیٹ سے منسلک ہے ، جنوبی کوریا میں دستیاب انٹرنیٹ کی رفتار دنیا کے دیگر ممالک کی اوسط رفتار سے 142گنا اور امریکہ سے 79گنا زیادہ تیزہے، جنوبی کوریا کا اگلا قدم ون جی بی فی سیکنڈ برق رفتار انٹرنیٹ فراہمی کا دائرہ کارتیزی سے ملک بھر میںپھیلانا ہے۔ انفرا اسٹرکچر یقینی طور پر کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کا آئینہ دار ہوتے ہیں، شمالی کوریا کی بات کی جائے تووہاں صرف تین فیصد سڑکیں ہموار ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمیابی کی بناء پر سڑک کنارے مسافروں کا ہجوم نظر آتا ہے، ایک اندازے کے مطابق غربت کے شکار شمالی کوریا میں ایک ہزار میں سے صرف گیارہ باشندے اپنی گاڑیوں کے مالک ہیں۔اسکے برعکس جنوبی کوریا کی حکومت اپنے عوام کو نقل و حرکت میں آسانی فراہم کرنے کیلئے سڑکوں، ریلوے لائنز، ہائی ویز، موٹرویز، فضائی راستوں کا جال وسیع تر کرنے میں مصروف عمل ہے، 92فیصد سڑکیں ہموار ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی فراوانی ہے، جنوبی کوریا دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں تیزرفتار مقناطیسی ٹرین کمرشل بنیادوں پر چلائی جارہی ہے۔
شمالی کوریا کی معیشت کا دارومدار کوئلے کی ایکسپورٹ پر ہے جسکا سب سے بڑا خریدارہمسایہ ملک چین ہے ،دوسری طرف جنوبی کوریا کی معیشت براعظم ایشیا کی چوتھی بڑی اور دنیا کی گیارویں بڑی معیشت ہے، دنیا کی بڑی ہائی ٹیک انڈسٹریاں جنوبی کوریا میں قائم ہیں۔ جنوبی کوریا کاہر نوجوان فرفر انگریزی بولنا جانتا ہے اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے، جنوبی کوریا کی یونیورسٹیوں کا شمار دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ شمالی کوریا دنیا سے الگ تھلگ اپنی ہی دنیا بسائے ہوئے ہے تو جنوبی کوریا ہرسال لگ بھگ پندرہ بلین عالمی سیاحوں کو خوش آمدید کہتا ہے، جنوبی کوریا کی فلم انڈسٹری کو مشرق کا ہالی وُڈ بھی کہا جاتا ہے جہاں کی پیش کردہ فلمیں عالمی سطح پر متعدد ایوارڈز جیتنے میں کامیاب ہوتی ہیں لیکن نظام آمریت کو مستحکم رکھنے کیلئے شمالی کوریا کے عوام کو جدید طرز زندگی اور بودوباش سے ناآشنا رکھا جاتا ہے۔ہیلتھ کیئر سہولتوں میںبھی جنوبی کوریا دنیا میں سب سے آگے ہے جبکہ شمالی کوریا کو غذائی قلت اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ میری نظر میں شمالی کوریا کے حکمران کاتاریخی دورہ جنوبی کوریا کئی مثبت پیغامات کا حامل ہے، اول دنیا میں ترقی کا راز عوام کی خوشحالی میں پوشیدہ ہے،ہر وہ معاشرہ جس نے اپنے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے وہ جنوبی کوریا کی طرح ترقی پا گیا، اس کے برعکس اپنے عوام کو مسائل کا شکار کرنے والوں کو تمام تر عسکری قوت کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوتا، اسلئے جتنی جلدی امن کا راستہ اختیار کرلیا جائے اتنا ہی سب کیلئے اچھا ہوتا ہے۔امن پسندوں کیلئے خوش آئند بات ہے کہ شمالی کوریا نے نفرتوں کو خیرباد کہہ دیا ہے، اپنا مقامی وقت جنوبی کوریا سے ہم آہنگ کردیا ہے اور تباہ کن ہتھیاروں سے چھٹکارا پانے کا اعلان کردیا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ اب شمالی کوریا خطے کے کسی ملک کیلئے مزید کوئی خطرہ نہیں رہے گااور جنوبی کوریا کی قابل رشک ترقی کے ثمرات سے شمالی کوریا کے عوام بھی مستفید ہوسکیں گے۔ بطور پاکستانی مجھے یہ جان کربھی خوشگوار حیرت ہوئی کہ کسی زمانے میں پسماندہ ترین ملک سمجھے جانے والے جنوبی کوریا کی ترقی کا ماڈل پاکستان کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے پر استوار ہے جو حکومت پاکستان نے صدر ایوب خان کے دورمیں جنوبی کوریا کو فراہم کیا تھا ، آج بھی جنوبی کوریا کی وزارت خزانہ کے دفاتر میں پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محبوب الحق کی تصاویر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں، صد افسوس کہ ہم اپنے اندرونی اور علاقائی مسائل میں الجھ کراپنے پیارے وطن کو ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں لے جاسکے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Dawn (December 13, 2018)