دو نہیں ایک پاکستان تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

140

تحریک انصاف کے مینارپاکستان جلسہ کے بعد آج کل ہرخاص وعام کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان، پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کیا گیا یہ سلوگن کچھ یوں مکمل ہوتا ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان، ہم سب کا ایک نیا پاکستان۔میری سیاسی جدوجہد میں تحریک انصاف میں شمولیت کے بعدمجھے پہلی مرتبہ ایک عظیم الشان جلسے میں شرکت کا موقع ملا، وہاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا کہ کیسے ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ قومی جوش و ولولے سے ایک ایسے پاکستان کو یقینی بنانے کیلئے اپنی مرضی سے شریک ہوئے جسکا خواب قائداعظم اور تحریک پاکستان کے اکابرین نے دیکھا تھا، ایک ایسا پاکستان جہاں امیر غریب، عورت مرد یا اکثریت اقلیت کی تفریق نہ ہو بلکہ تمام پاکستانیوں کو میرٹ کے مطابق ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ کسی بھی انسانی معاشرے کی ترقی کا راز امن و امان کے قیام میں پنہاں ہے اور امن کیلئے ضروری ہے کہ وہاں سماجی انصاف کا دور دورہ ہو، اسی طرح جو معاشرے طاقتور اور کمزور کیلئے دو مختلف پالیسیاں پروان چڑھاتے ہیں ، وہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتے ہوئے آخرکار اپنا وجود کھو ڈالتے ہیں۔ انگریزی کی مشہور کہاوت ہے کہ یونائیٹڈ وی سٹینڈ ڈیوائیڈڈ وی فال یعنی کہ اتفا ق و اتحاد کی بدولت کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے جبکہ نفاق کا رستہ تنزلی اور ناکامی کی طرف جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے سامنے ایک کامیاب مثال قائداعظم کی زیرقیادت تحریک پاکستان کی ہے، قائداعظم نے اپنا سیاسی سفر انڈین کانگریس سے شروع کیا، انکا شمار انڈین کانگریس کے سرکردہ راہنماؤں میں ہوتا تھا ، بطور جمہوری لیڈر قائداعظم ایک ایسے پرامن معاشرے کے قیام میں یقین رکھتے تھے جہاں سب کو یکساں حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جاسکی، قائداعظم کی یہی جمہوری سوچ انہیں آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف لے آئی اور اپنی اصول پسندی، بلند کردار اور انتھک جدوجہد کی بدولت پاکستان کی صورت میں ایک معجزہ ممکن کردکھایا، قائداعظم کے سفر میں انکے ہمراہی جوگندرناتھ منڈل جیسے غیرمسلم لیڈران بھی تھے۔ قائداعظم نے گیارہ اگست کی تقریر میں بالکل واضح کردیا کہ ریاست کی نظر میں پاکستان میں نہ کوئی اکثریت ہوگی اور نہ اقلیت، یعنی کہ سب کیلئے ایک پاکستان ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور میری نظر میں دنیا کا پہلا متوازن پرامن معاشرہ مدینہ منورہ میں قائم کیا گیا تھا، میثاق مدینہ کے مطابق مسلم اور غیرمسلم تمام شہریوں کو برابر حقوق فراہم کیے گئے، آخری حج کے خطبے میں اعلان کردیا گیا کہ کسی عربی کو عجمی اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، اسلامی معاشرے کے مستحکم نظام عدل کی ایک مثال پیغمبراسلام ﷺکا فرمان ہے کہ اگر بیٹی بھی چوری کرے تو اسے سزا دینی چاہیے ۔ قائداعظم کے وژن کے مطابق قیام پاکستان کا مقصد اخوت، مساوات اور بھائی چارے کو یقینی بنانا ہے لیکن بدقسمتی سے آزادی کے فقط ایک سال بعد بانی پاکستان کی وفات نے ہمیں انکے وژن سے بھی دور کردیا۔ میں نے اپنے ایک کالم “غیرمسلموں کا پاکستان” میں ان تمام عوامل پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی جس کی وجہ سے نظریاتی طور پردو طرح کے پاکستان بنا دیئے گئے، قائداعظم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 1949 ء میں ان شدت پسند عناصر کا دباؤ قبول کرتے ہوئے قراردادِ مقاصد منظور کرلی جوخود قیامِ پاکستان کے کٹر مخالف تھے، اس موقع پر مشرقی پاکستان کے ہندو سیاستدان بھوپندرکماردت نے خبردار کیا تھا کہ اس قرارداد کے نتیجے میں پاکستانی معاشرہ مذہبی تفریق کے باعث انتشار کا شکار ہوجائے گا ، غیرمسلم سیاستدانوں کے خدشات بہت جلد صحیح ثابت ہوگئے جب مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں نے سیاسی تنقید کو مذہب مخالفت کا رنگ دیکر عوام کے جذبات مشتعل کرکے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کردیاگیا۔آج 69سال بعد صورتحال اتنی کشیدہ ہوچکی ہے کہ وفاقی وزیرداخلہ کو بھی نشانہ بنا دیا گیا ہے ، اس سے قبل ایک گورنر اور وزراء بھی مذہبی عدم برداشت کی بدولت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ ہمارے سبز ہلالی پرچم میں سبز رنگ تمام پاکستانیوں بشمول مسلمانوں اور غیرمسلموں کی عکاسی کرتا ہے جبکہ سفید رنگ امن کی علامت ہے،افسوس ہم نے اپنے قومی پرچم کو بھی تقسیم کرڈالاہے۔ موجودہ سیاسی پشت پناہی میں لسانیت اور فرقہ واریت کے ساتھ انتہا پسندی کی غلط روایات پاکستان کودن بدن اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں، آج ظالم کے سامنے قانون بھی بے بس نظرآتا ہے اوربے گناہ مظلوم کو قانون کے شکنجے میں جکڑا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں تحریک انصاف کی طرف سے لگایا گیا “دو نہیں ایک پاکستان”کا نعرہ مجھ سمیت ان تمام پاکستانیوں کی دل کی آواز ہے جو قائداعظم کا پرامن پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ مجھے نہایت خوشی محسوس ہوئی جب پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے مینار پاکستان جلسے میں حالیہ تقریر میں گیارہ نکاتی انتخابی منشور پیش کرنے سے قبل میثاقِ مدینہ کا تذکرہ کیااور قائداعظم کے وژن پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کیا جسے آج انکی نام لیوا مسلم لیگ بھی بھلا بیٹھی ہے۔ گزشتہ قومی انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، آج پاکستان میں غیرمسلموں کے لگ بھگ 35لاکھ ووٹ ہیں،الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہندو کمیونٹی ملک کی سب سے بڑی اقلیتی ووٹ بینک کی حامل ہے، میں ان تمام ووٹرز سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ جہاں بھی رہتے ہیں لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف ہی کو دیں ، مجھے یقین ہے کہ غیرمسلموں کا ووٹ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کے “دو نہیں ایک پاکستان”کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ اسی طرح ہمیں پارلیمنٹ میں بھی ایک ہی طرح کا نظام وضع کرنا چاہیے، یہ سراسر ناانصافی ہے کہ جیتنے والی سیاسی جماعت کے لیڈران کی ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر غیرمسلم برادری کی نمائندگی کیلئے من پسند نمائندے پارلیمان میں بھیج دیئے جائیں، غیرمسلم پاکستانیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انکے حقیقی نمائندے ڈائریکٹ اور دہرے ووٹ کے ذریعے منتخب ہوں۔ ایک نیا پاکستان بنانے کیلئے ہمیں سفارش اور رشوت کا زور توڑتے ہوئے میرٹ کو فروغ دینا ہوگا، آج ہمارے قومی اداروں کی تباہی کی بڑی وجہ اقربا پروری اور سیاسی بھرتیاں ہیں۔ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہر قسم کی طبقاتی تفریق کا خاتمہ کیا جائے، ریاست کی نظر میں سب شہری برابر کے پاکستانی ہونے چاہیے، اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اسے مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر صرف مجرم سمجھا جائے،اسی طرح کسی بھی قابل شخص کی ترقی کی راہ میں مذہب یا مخصوص طبقے سے تعلق رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ ہمیں اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ “دونہیں ایک پاکستان”کی منزل اتنی بھی آسان نہیں، گزشتہ سترسالوں سے ہماری ملکی تقدیر کی مالک انگریز سامراج کی گماشتہ وہ قوتیں بن بیٹھی ہیں جو اپنی بقاء کا راز تقسیم کرو اور حکومت کرو میں سمجھتی ہیں، اسٹیٹس کو کی نمائندہ قوتوں کو شکست فاش دینے کیلئے ایسے ہی یقین محکم اور جوش و جذبے کی ضرورت ہے جسکا مظاہرہ تحریک پاکستان کے دوران ہمارے بڑوں نے کیاتھا۔تاریخ پاکستان کا مطالعہ کرتے وقت میں ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ اگر ہمارے اکابرین بے سروسامانی کے عالم میں غلامی کی زنجیریں توڑ کر پاکستان بنانے میں کامیاب ہوسکتے تھے تو آج دور جدید میں ہم کیوں قائداعظم کے وژن کے مطابق ایک پاکستان نہیں بناسکتے؟مجھے اس سوال کا جواب تحریک انصاف کے مینار پاکستان جلسے سے مل تو گیا لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ملک میں تبدیلی تبھی آتی ہے جب کراچی جاگ جاتا ہے، مجھے قوی امید ہے کہ پی ٹی آئی کے کراچی جلسہ محب وطن غیرمسلم پاکستانیوں کی کثیر تعداد “دو نہیں ایک پاکستان” یقینی بنانے کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوگی۔آئیں، آج ہم ایک ایسانیا پاکستان بنانے کی جدوجہد میں تیزی لائیں جہاں قانون کی حکمرانی امیر غریب،طاقتور کمزور ، مسلم غیرمسلم سب کیلئے برابر ہو۔

*******

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Daily Dunya (November 13, 2018)