ذوالفقارعلی بھٹو، تاریخی پس منظر میں تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

65
ہر برس کی طرح گزشتہ روز ملک بھر میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی،بھٹو کو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ پالیسیوں سے اختلافات سے قطع نظر بھٹو کی کرشماتی اور طلسماتی شخصیت کا سحر 39برس بعد بھی قائم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ بھٹوکا نام تاریخ کی ان چند شخصیات میں شامل ہے جنہیں بعد از مرگ بھی عقیدت سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہماری ملکی تاریخ میں قائداعظم کے بعد اگر کسی قدآور سیاسی شخصیت نے ملک و قوم پر انمٹ اثرات مرتب کیے ہیں تو وہ ذوالفقارعلی بھٹو ہے۔ لاڑکانہ میں جنم لینے والے ذوالفقار علی بھٹو کے والد گرامی سرشاہنواز بھٹو جوناگڑھ کے وزیراعظم تھے۔ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں بھٹو کو کامرس، معدنیات اور خارجہ جیسے اہم قلمدان سونپے گئے لیکن نوجوان بھٹو کی سیاسی کامیابیوں کا سفر بطور وزیرخارجہ شروع ہوا۔ بھٹو نے سویت اور مغربی بلاک میں منقسم عالمی منظرنامے میں پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی اور نہایت کامیابی سے پاکستان کا موقف عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ پنسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر چین، انڈونیشیا، سعودی عرب، ایران، مصر، ترکی، اردن، کویت اور شام وغیرہ جیسے متعدد ممالک کو پاکستان کی مالی، سفارتی اور اخلاقی امداد پر قائل کیا۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں کشمیر ایشو پر پاکستان کا موقف کھُل کر پیش کیا، اس موقع پر بھٹو نے تاریخی تقریر کی کہ ہم کشمیر کیلئے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھٹو کی سیاسی جدوجہد میں یہی وہ شُبھ گھڑی تھی جس نے انکی عوامی مقبولیت کو یکدم چارچاند لگا دیئے،تاشقند معاہدے پر بھٹو اور ایوب خان کے مابین اختلافات ہوگئے تو وہ حکومتی منصب چھوڑ کر عوام کے درمیان آگئے۔کہا جاتا ہے کہ بھٹو نے ناصر باغ جلسے کے دوران سامعین کو بارش میں بھیگتے دیکھ کر اپنی چھتری ہٹاتے ہوئے اعلان کیا کہ جب مجھے سننے والے بارش میں بھیگ رہے ہیں تو میں کیسے چھتری لے سکتا ہوں،جب بھٹو کی تقریر ختم ہوئی تو شدید بارش کے باوجود جلسہ گاہ سامعین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔اسی طرح جب بھٹو نے راولپنڈی سے لاہور تک کا سفر ٹرین میں کیا تو عوام کا ایک سمندر انکی جھلک دیکھنے امنڈ آیا،بھٹو نے پنڈی تا لاہوراپنے فن خطابت کے خوب جوہر دکھائے، لاہور پہنچے تو ہزاروں لوگ انکے استقبال کیلئے موجود تھے۔کسی بھی سیاستدان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اسکے موقف کوعوام میں پذیرائی مل جائے، بھٹو کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت مل گئی تو انہوں نے قریبی ساتھیوں کی مشاورت سے ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پرایک نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ بھٹوکے ابتدائی قافلے کے سرگرم راہنماؤں کی اکثریت ترقی پسند اور سوشلسٹ نظریات کی حامل تھی، اس حوالے سے کچھ نمایاں ناموں میں جے اے رحیم، غلام مصطفے کھر، معراج محمد خاں،، عبدالحفیظ پیرزادہ، خورشید حسن میر، باسط جہانگیر، رفیع رضا، حیات شیرپاؤ اور کمال اظفروغیرہ شامل تھے۔ بھٹو نے خود پیپلزپارٹی کا تین رنگا جھنڈا ڈیزائین کیا جومختلف سماجی و مذہبی پس منظر پر مبنی ایک کثیرالجہتی پاکستانی معاشرے کی عکاسی کرتا تھا۔ بھٹو نے پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دینے کے ساتھ روٹی، کپڑا اور مکان کا بھی نعرہ بلند کردیا۔ بھٹو کی کامیاب سیاسی تحریک نے جنرل ایوب کواقتدار سے بے دخل کردیا ۔ پہلے عام انتخابات جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں منعقد کرانے کا اعلان کیا تو بھٹو کی زیرقیادت پیپلزپارٹی اپنے عوامی منشور کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھرپور انداز میں انتخابی میدان میں اتری۔عوام نے مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی اور مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کو بھاری مینڈیٹ سے نوازدیا۔ قائداعظم کا پاکستان کیسے دو لخت ہوا، اس موضوع پر ابھی تک بہت کچھ لکھا جارہا ہے لیکن زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو میرے خیال میں اس سانحہ کا ذمہ دار اکیلے بھٹو کو ٹھہرانا تاریخ سے ناانصافی ہے۔ایک ہزار میل کی دوری پر واقع مشرقی حصے کو سماجی و ثقافتی تفریق کی بناء پر ایک نہ ایک دن الگ ہو ہی جانا تھا۔ بھٹو نے اقتدار سنبھالا تو پاکستان تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا تھا، ملک ٹوٹنے کی وجہ سے عوام کا مورال ڈاؤن تھالیکن بھٹو نے تمام درپیش چیلنجز پر بخوبی قابو پالیا۔ بھٹو کے دور حکومت میں نہ صرف بھارت سے نوے ہزار جنگی قیدیوں کی باعزت واپسی ہوئی بلکہ دشمن سے پانچ لاکھ مربع میل کا مقبوضہ علاقہ بھی واگزار کرالیا گیا۔بھٹو نے جوہری پروگرام شروع کرتے وقت اس عزم کا اعادہ کیا کہ گھانس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ وقت نے ثابت کردیا کہ بھٹو کے بروقت اور دوراندیش فیصلے کی بدولت آج ملکی دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا ہے۔ بھٹو کا عظیم کارنامہ پارلیمانی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر انیس سو تہتر کا متفقہ آئین ہے ، وفاق کی تمام اکائیوں کی یکساں نمائندگی پارلیمان میں یقینی بنانے کیلئے سینیٹ کا ادارہ بھی قائم کیا گیا۔بھٹو نے مسلمان ممالک پر مشتمل مضبوط اسلامی بلاک کے قیام کیلئے اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد کرائی جس میں پاکستان کو متفقہ طور پر لیڈر منتخب کرلیا گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ بھٹو نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان کو دورہ پاکستان کی دعوت دیکر حقیقت پسندانہ رویے کا مظاہرہ کیا، تاہم یہ غورطلب امرہے کہ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام مسلمان راہنماء بشمول یاسر عرفات، شاہ فیصل، شیخ مجیب الرحمان، انور سادات، معمر قذافی اور ذوالفقار علی بھٹو غیرفطری موت کے شکار ہوئے۔ بھٹو نے قوم کے معماروں کو استحصالی قوتوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تعلیمی اداروں کو قومیالیا۔ اسی طرح بھٹو کی دیگر خدمات میں مفت علاج معالجے کیلئے بڑے ہسپتالوں کا قیام، تعلیم بالغاں کا فروغ، فاصلاتی تعلیم کیلئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، قائداعظم یونیورسٹی اور متعدد میڈیکل کالجوں کا قیام شا مل ہے۔ غریب ہاریوں میں زمین تقسیم کی گئی، شناختی کارڈ کا اجراء کیا گیا، پاسپورٹ کی سہولت کی بدولت بے شمار پاکستانی شہریوں کو بیرون ممالک روزگار کے مواقع میسر آئے، روس کے تعاون سے سٹیل مل قائم کی، صنعتوں کو قومیاتے ہوئے لیبر قوانین نافذ کیے، سرکاری ملازمین کو سہولیات فراہم کی گئیں، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ علاقوں کے طلباء و طالبات کیلئے کوٹہ مقرر کیا، مزدور ٹریڈ یونین کو جمہوری انداز میں پنپنے دیا گیا، طلباء و طالبات کو مفت سفر کی سہولت دی گئی۔میری نظر میں بھٹو کا ایک اور عظیم کارنامہ غیرمسلم اقلیتوں کو ترقی کے سفر میں شامل کرنے کیلئے قومی اداروں میں ملازمتوں میں شمولیت یقینی بناناتھا۔ الغرض ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیات کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کیلئے کیے جانے والے ایسے بے شمار اقدامات ہیں جنہوں نے آج بھی بھٹو کو عوام کے دِلوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ بھٹو کی دوران قید تصنیف کردہ کتاب “اگر مجھے قتل کیا گیا”ان تمام تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے جسکی وجہ سے تاریخ کے عظیم لیڈر کو اتنی جلدی ہم سے جدا ہوجانا پڑا۔ بھٹو عوام کی خاطر اپنی جان دیکر امر ہوگیاتو بھٹو کی بہادر بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنے باپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔میری نظر میں بھٹو کسی انسان کا نام نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے اور نظریہ کبھی مرتا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج بھٹو کو دنیا سے گزرے چار دہائیاں بیتنے کو ہیں لیکن بھٹو کا نام زبان زدعام ہے، آج بھی پیپلزپارٹی کا نظریاتی ووٹر بھٹو کے نام پر ہی ٹھپہ لگاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں عظیم باپ بیٹیوں کے بعد پیپلزپارٹی اپنے حقیقی مشن سے ہٹ گئی ہے، بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی پورے ملک کی تقدیر بدل ڈالی لیکن آج کی پیپلز پارٹی برسوں سندھ میں حکومت میں رہتے ہوئے بھی عوام کی بھلائی کیلئے کچھ خاص نہ کرسکی۔ بھٹوکی 39ویں برسی کا دن تمام سیاستدانو ں سے تقاضا کرتا ہے کہ تاریخ میں زندہ رہنے کیلئے بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جمہوری جدوجہد کا محور عوام کی فلاح و بہبود کو بنایا جائے۔

********

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Donating Blood by Dr Ramesh Kumar Vankwani

World Blood Donor Day is celebrated across the globe on June 14 annually. The purpose behi…