پاکستان ہندو کونسل کا وزیراعظم کی زیرنگرانی سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا مطالبہ

68

phc_nov9-2014

کراچی /اسلام آباد (9نومبر 2014ء): پاکستان ہندو کونسل کے سرپرستِ اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے اقلیتوں کے خلاف ملک میں بڑھتے ہوئے مظالم کی روک تھام، تشدد سے پاک معاشرے کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے وفاقی سطع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی زیرنگرانی سرگرم سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل فعال کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی ہے جسکی متفقہ طور پر تائید ہندوؤں کی ملک گیر نمائندہ تنظیم پاکستان ہندو کونسل کی ایگزیکٹو باڈی نے کرتے ہوئے دیگر نمائندہ جماعتوں سے رابطے کا ٹاسک ڈاکٹر رمیش کمار کو سونپ دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز پاکستان ہندوکونسل کی ایگزیکٹو باڈی کا ہنگامی اجلاس چیلا رام کیلوانی کی زیرصدارت کراچی میں طلب کیا گیا جسکا مقصداقلیتوں کے خلاف ملک میں بڑھتے ہوئے مظالم کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں پنجاب کے شہر قصور میں بے قصور عیسائی جوڑے کے ظالمانہ قتل کی مذمت کو خصوصی طور پر شامل کرتے ہوئے انسانیت سوزسانحہ قرار دیا، شرکاء نے ہندوڈاکٹر درشن کے حالیہ اغوا ء و بازیابی، ڈھیرکی سے تیرہ سالہ نابالغ بچی انجلی، نواب شاہ سے کرن، حیدرآباد سے جیوتی کے اغواء سمیت ملک بھر میں اقلیتوں کے خلاف مظالم پر اظہارِ تشویش کیا اور وزیراعظم اور صوبائی وزراء اعلیٰ سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے موثر قانون سازی اور عملی نفاذ کا پرزور مطالبہ بھی کرتے ہوئے بین المذاہب ہم آہنگی اور شادی ایکٹ کوناگزیر قرار دیا ۔

چیلا رام کیلوانی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے صادر کیے گئے احکامات سے مظلوم اقلیتی برادری کو امید کی کرن نظر آئی تھی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ریاستی ادارے روائتی غفلت کی بناء پر عملی نفاذ سے قاصر ہیں، موجودہ حکومت سے اقلیتوں کو وابستہ امیدیں بھی دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں، اقلیتیں آج بھی ویسے ہی عدمِ تحفظ کا شکار ہیں جیسے ڈیڑھ سال پہلے تھیں، گزشتہ دورِ حکومتوں کی طرح آج بھی مذہبی مقدس مقامات پر قبضہ مافیا کا راج ہے اور ہندو لڑکیوں کا اغواء جاری ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا ضامن آئین پاکستان ہے، عوام کو بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 11اگست1947 ؁ء کوپاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں کی جانے والی تقریرسے روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ ریاست کی پہلی ذمہ داری شہریوں کے فلاح و بہبود کا خیال رکھنا اورتمام شہریوں کو بلاتفریق مذہب برابری کی سطع پر حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، پاکستان کے قومی شاعرعلامہ اقبال نے بھی ایک فلاحی مملکت کا خواب دیکھا تھا۔ پاکستان ہندو کونسل نے وزیراعظم کی زیرنگرانی مذہبی ہم آہنگی کمیٹی کے اراکان کے نام وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ، مولانا شیرانی (جمعیت علمائے اسلام ف)، میر حاصل بزنجو (بلوچستان نیشنل پارٹی)، خواجہ سہیل (ایم کیو ایم)، عبدالقہرخان ودان (پختونخواہ ملی عوامی پارٹی) تجویز کیے ہیں جبکہ ہندو برادری سے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی، عیسائی برادری سے کامران مائیکل سمیت جماعتِ اسلامی اور مذہبی جماعتوں سے کم از کم ایک نمائندے کی شمولیت یقینی بنانے کی تلقین کی ہے۔ ہنگامی اجلاس میں انجینئر ہوت چند کرمانی نائب صدر، ڈاکٹر دیپک سیکرٹری جنرل، گوپال داس، راجا اسرمال، بھارت کمار، پمن لال سمیت ملک بھر سے ہندو کونسل کے نمائندان و مشیران نے شرکت کی۔

بعد ازاں،پاکستان ہندو کونسل کے سیکرٹریٹ میں صحافیوں کو ہنگامی اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش کمار نے بتایا کہ اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پرمعصوم ہندو لڑکیوں کواغواء ، جبری مذہب تبدیلی ، زبردستی شادی جیسے انسانیت سوز مسائل کا سامنا کرنے کی بنیادی وجہ ملک میں ہندو شادی رجسٹریشن کی عدم موجودگی قرار دیتے ہوئے ہندو شادی ایکٹ کی اہمیت پر زور دیا ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سندھ کی صوبائی حکومت اقلیتوں کے مذہبی مقدس مقامات، عبادتگاہوں، قبرستانوں کو قبضہ مافیا کے شر سے بچانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ، ذاتی دشمنیاں و مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے توہینِ رسالت قانون کا بے دریغ غلط استعمال کرکے اقلیتوں کو خوف و ہراس کا شکار کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر رمیش نے عیسائی میاں بیوی کو زندہ جلانے کے واقعے کے تناظر میں کہا کہ اس بھیانک اقدام سے ملک بھر کی اقلیتی باشندوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے ، حملہ آوروں نے ملکی و عالمی سطع پر وطنِ عزیز کا نام بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے،اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار نے میڈیا، سول سوسائٹی کے نمایندوں سمیت تمام اہلِ وطن سے تشدد سے پاک معاشرے کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی دردانہ اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آج جس آگ کا ایندھن بھیانک طریقے سے نہتے پرامن محب وطن اقلیتی باشندوں کو بنایا جارہا ہے، مستقبل قریب میں اسکی لپیٹ میں تمام امن پسند پاکستانی شہری بلاتفریق مذہب آسکتے ہیں۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Pakistan Observer (May 24, 2017)