سینیٹ الیکشن 2018 تحریر ڈاکٹر رمیش کماروانکوانی،

226
سینیٹ الیکشن 2018
تحریر ڈاکٹر رمیش کماروانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

دنیا کے مختلف جمہوری ممالک کی طرز پر پاکستان میں بھی دوایوانوں پر مشتمل پارلیمانی نظام رائج ہے، ایوان بالا سینیٹ کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھے تعداد کے نشست کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں جبکہ سینیٹر ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے، اس وقت ایوان بالا میں 104 نشستیں ہیں جن میں سے 18 خواتین کی ہیں، اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں غیرمسلم اقلیتوں کیلئے چار نشستوں کا اضافہ کردیا گیا ہے۔۔آج جب ایوان بالا کے الیکشن کا وقت قریب آیا ہے تو ہر طرف افواہوں کا بازار گرم ہوگیاہے،کبھی ایک مخصوص سیاسی جماعت کی صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی توڑنے کا امکان ظاہر کرکے غیریقینی صورتحال پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی دوسری سیاسی جماعت کے سربراہ کی جانب کے ایک ایسے صوبے سے سینیٹر منتخب کرانے کا اعلان کیا گیا جہاں انکی اسمبلی میں عددی اکثریت ہی نہیں، ملکی سیاست میں نمایاں لسانی جماعت کی اعلیٰ قیادت کے مابین سینیٹ ٹکٹ کے فیصلے پر پھوٹ پڑجانا بھی افسوسناک امر ہے۔پیسے کے زور پر سینیٹ ٹکٹوں کی خرید وفروخت ، ہارس ٹریڈنگ کے الزامات نے جہاں عام آدمی کو سیاستدانوں سے متنفر کیا وہیں سینیٹ کا الیکشن میڈیا کیلئے موضوع بحث بن گیاہے۔میری نظر میں وفاق کی علامت ایوان بالا کا مقصدایوان زریں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے اور سیاسی قیادت کا من پسند غیر سیاسی افراد کوایوان بالا میں بھیجنا ملکی سیاست کیلئے شرم کا باعث ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کچھ مخلص سینیٹر ز کو چھوڑ کر اکثریت اپنا تعلق عوام کی بجائے سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت سے قائم رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے ،یہی وہ آمرانہ رویہ ہے جسکی بناء پر ایک وفادار سیاسی کارکن اپنی اعلیٰ قیادت سے اختلاف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مختلف ممالک کے جمہوری نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ امر سامنے آتا ہے کہ دنیا کے کم و بیش تمام جمہوری ممالک میں ایوان بالا کے قیام کی بنیادی وجوہات میں وفاق کی تمام اکائیوں کو یکساں نمائندگی دینا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی اہم وجہ تمام صوبوں کو پارلیمنٹ میں برابری کی سطح پر نمائندگی نہ ملنا تھا اور یہی وجہ تھی کہ 1971ء کے بعد پاکستان میں وفاق کی علامت سینٹ کاقیام عمل میں لایا گیا تاکہ ہر صوبے کی طرف سے برابر تعداد میں نمائندگی یقینی بنائی جاسکے، قومی اسمبلی سے منظور شدہ ہر قانون کیلئے لازم ہے کہ وہ سینیٹ سے بھی منظور ہو، سینیٹ کا سربراہ ملک کے صدر کا قائم مقام بھی ہوتا ہے۔ برطانیہ کو جمہوریت کی ماں سمجھا جاتا ہے ، وہاں کے ایوان بالا کو ہاؤس آف لارڈز یعنی طبقہ اشرافیہ اور امراء کا ایوان بھی کہا جاتا ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھے جانے والے بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے انتخابات میں بھی پیسے کے استعمال کی شکایات زبان زد عام ہیں۔امریکہ میں وفاقی حکومت کے قیام کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ امریکی سینیٹ درحقیقت دو لت مندوں کے ایک ایسے کلب میں ڈھل چکا ہے جو اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں، اس سلسلے میں1913ء میں امریکی آئین میں سترہویں ترمیم عمل میں لائی گئی تاکہ عوام سینیٹرز کا انتخاب ڈائریکٹ ووٹ کی بنیاد پر کرسکیں، آج وہاں پاپولر ووٹ کے ذریعے عوام اپنے حقیقی نمائندے سینیٹ میں بھیجتے ہیں۔ پاکستان کی طرح فلپائن میں بھی کثیرالجماعتی سیاسی نظام رائج ہے ، فلپائن کی سینیٹ چوبیس نمائندوں پر مشتمل ہے جہاں چھ سال کیلئے منتخب ہونے والے سینٹرز صرف دو بار انتخابات لڑ سکتے ہیں، فلپائن میں سینیٹ کا ادارہ امریکی سینیٹ کے ماڈل پر قائم کیا گیا ہے۔میری نظر میں پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منزل سے دور کرنے کی ایک بڑی وجہ میرٹ کو نظرانداز کرکے نااہل افراد کو نوازنا ہے، کارکردگی کی بجائے ذاتی پسند ناپسند کی بنیادوں پر فیصلے ہر شعبے میں منفی نتائج مرتب کررہے ہیں، عوام کی حمایت کی بجائے چاپلوسی اور خوشامد کے بل بوتے پر آنے والے ممبران پارلیمنٹ عوامی مسائل کے حل سے زیادہ اپنے ذاتی کاروبار کے پھیلاؤ پر توجہ دیتے ہیں،آج عوام کو بھی پارلیمان سے یہی شکایت ہے کہ وہاں عوام کی بجائے خاص طبقے کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔تہتر کے آئین پر پورے ملک کا اتفاق ہے ، اس عرصہ طویل میں بہت سی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ پارلیمان میں عوام کی حقیقی نمائندگی یقینی بنانے کیلئے کوئی ایسی پائیدار پالیسی مرتب کی جائے جسکی بناء پر عوام سے گراس روٹ لیول پر تعلق رکھنے والا غریب اور مخلص باشندہ روائتی سیاستدانوں کو شکست دیکر ایوان بالا تک پہنچ سکے۔ یہ اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے کہ وہ کارکردگی کی بنیاد پر امیدواروں کو سلیکٹ یا ریجیکٹ کرسکیں۔ میں مختلف مواقعوں پر اظہار خیال کرتا رہتا ہوں کہ ایک ہوتی ہے گورنمنٹ اور دوسری گورنس، افسوس ہماری ترجیحات میں اچھے طریقے سے حکومت کرنے سے زیادہ حکومت میں رہنا بن گیا ہے۔ میری نظر میں یہ پاکستانی عوام کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے حقوق کی حفاظت کیلئے اپنے حقیقی نمائندوں کی موجودگی پارلیمان میں یقینی بنانے کیلئے آواز بلند کریں ، اس وقت ملک کو ایسے پارلیمانی لیڈران کی ضرورت ہے جنکی ترجیحات میں مخالف سیاسی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ سیاست کو عبادت سمجھتے ہوئے عوام کی خدمت کا ایجنڈا سرفہرست ہو اور وہ پاکستان کا موقف احسن انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرسکیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ عوام موجودہ جمہوری سیاسی نظام پر اپنے اعتماد کا اظہار کریں تو سب سے پہلے ہمیں سینیٹ کے ادارے میں ایسے قابل اور حقیقی عوامی نمائندوں کی موجودگی یقینی بنانی ہوگی جو عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں امیدواروں کے پاس سیاسی تجربہ بھی ہونا چاہیے، اس حوالے سے لازم کرنا چاہیے کہ سینیٹ امیدوار نے اپنے سیاسی کیریئر میں کم از کم ایک مرتبہ قومی اسمبلی یا کونسلر کا الیکشن لڑا ہو۔اب جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری سینیٹ الیکشن شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہوگیاہے اور چاروں صوبوں سے سینٹ کی خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حتمی فہرست بھی جاری کردی گئی ہے تو ملکی سیاسی نظام کے استحکام کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ پارلیمان میں ایسے عوامی نمائندے پہنچیں جو اپنی جڑیں عوام میں رکھتے ہوں ۔ سینیٹ الیکشن ٹکٹ کی بندربانٹ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ امریکی سینیٹ انتخابات کی طرز پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا سسٹم اپنایا جائے،پاکستان کے ہر صوبے سے کم از کم 23حلقے سینیٹ عوام سے براہ راست ووٹ کیلئے کھول دیئے جائیں یا پھرسینیٹر بننے کے خواہش مند امیدوار اپنے صوبے سے ووٹ لیں اور جو امیدوار زیادہ پاپولر ووٹ حاصل کرے اسکو فاتح قرار دیا جائے، اسی طرح قومی اسمبلی کی خواتین اور غیرمسلموں کی مخصوص نشستوں کو بھی ختم کرکے ڈائریکٹ ووٹ کا سسٹم متعارف کروایا جائے۔مجھے اپنی سیاسی قیادت سے جب بھی تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملتا ہے تو میں اپنا یہی موقف دہراتا ہوں کہ عوام میں غیرمقبول ممبران کی پارلیمان میں موجودگی ملکی سیاسی نظام کیلئے کسی صورت فائدہ مند نہیں اور حقیقی عوامی نمائندوں پر مشتمل مضبوط پارلیمان ہی اپنے آپ کو سپریم ثابت کرکے قومی اداروں کے مابین ٹکراؤ کے خدشات کا سدباب کرسکتی ہے ۔حالیہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے میں تمام ساتھی ممبران قومی اسمبلی سے کہنا چاہوں گا کہ ہم عوام کو تو بہت زیادہ تلقین کرتے ہیں کہ ووٹ کوقوم کی امانت سمجھ کر استعمال کیا جائے، اب سینیٹ الیکشن کے موقع پر ہمیں بھی اپنے طرزعمل سے ثابت کرنا چاہیے کہ ہمارا ووٹ بکاؤ نہیں اور ہم خدا کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اپنے ضمیر کی آواز پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔

**********

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

پاکستان افغانستان، امن کا سفر تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

دنیا بھر میں ہر سال21ستمبر عالمی یوم امن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں میں امن …