ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کا تیرہ سالہ ہندو نابالغ بچی کے اغواء پر قومی اسمبلی میں احتجاج ریکارڈ

157

اسلام آباد/کراچی (یکم نومبر2014ء): پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں صوبہ سندھ سے تیرہ سالہ نابالغ ہندو بچی کے اغواء اور مدرسے میں موجودگی کے خلاف سخت الفاظ میں احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔ انہوں نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے علاقے ڈھیرکی سے انجلی نامی تیرہ سالہ نابالغ بچی کو29 اکتوبر کو اغواء کرلیا گیا ہے ، اغواء کار کا نام سیال معلوم ہوا ہے جوکہ اس وقت مغویہ کو ایک مقامی بدنام زمانہ سیاسی کردار کی آشیرباد پر ایک مدرسے میں مذہبی ہم آہنگی اوررواداری کے برخلاف زبردستی مذہب تبدیلی پر مجبور کررہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹررمیش کمارنے کہا کہ ہم مدرسوں کے خلاف نہیں بلکہ ایسے تمام شرپسند عناصر جو کمزور اقلیتوں کو ہراساں کرنے کیلئے مدرسوں کا سہارا لیکر وطن عزیز میں نفرتوں کو پروان چڑھاتے ہیں، ان تمام کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی ، مظلوموں کی دادرسی اور آئین پاکستان میں اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق و تحفظ کی فراہمی یقینی بنائے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہندو برادری کا پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں کلیدی کردار ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں، مذہبی دہشت گردی کے سامنے قانون بھی بے بس نظرآتاہے، ڈاکٹر رمیش نے مزید بتایا کہ پاکستان ہندو کونسل کی تازہ مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق ہر سال لگ بھگ پانچ ہزار ہندوؤں کو پاکستان سے دیگر ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمار کی جانب سے پیش کردہ ایشوڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انسانی حقوق کو ریفر کردیا ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Disaster reduction by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Every year on October 13, the world observes the International Day for Natural Disaster Re…