خوبصورت ماریشس میں بسنے والوں کے نام تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

52

خوبصورت ماریشس میں بسنے والوں کے نام
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

میں آجکل اپنے دس روزہ دورہ افریقہ کے دوران ماریشس کی خوبصورت سرزمین پر موجود ہوں اور یہ سطور تحریر کرنے کے بعد میرا ارادہ اگلے پڑاؤ کینیا اور جنوبی افریقہ کی طرف کوچ کرجانے کا ہے۔ دارالحکومت پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اترتے ہی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بحرِہند پر واقع قدرتی خوبصورتی سے مالامال جزیرہ ماریشس ایک ایسا بے مثال ملک ہے جہاں مشرقی اور مغربی معاشرے کا ملن عام ہے، جمہوریہ ماریشس کا قومی پرچم چار رنگوں پر مشتمل ہے جو وہاں کے معاشرے کی کثیرالجہتی رواداری اورسماجی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے، ماریشس کہنے کو تو ایک افریقی ملک ہے لیکن اسے آباد ایشیائی باشندوں بالخصوص برطانوی ہندوستان سے تعلق رکھنے والوں نے کیا ہے اور آبادی کے تناسب سے ہندودھرم کے ماننے والے اکثریت میں ہیں جواکاون فیصدی ہیں جبکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں مسلمان، عیسائی، بدھ اور دیگر شامل ہیں لیکن مجال ہے کہ کبھی کسی قسم کی مذہبی کشیدگی کی خبر ماریشس سے آئی ہو، اسکی بنیادی وجہ افریقہ کے خوشحال ترین ملک سمجھے جانے والے ماریشس کے معاشرے میں صبر و تحمل، برداشت جیسے وہ اعلیٰ اوصاف ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کیلئے ضروری ہوا کرتے ہیں، فی الوقت ماریشس کی صدر کا عہدہ بی بی امینہ فردوس کے پاس ہے جبکہ وزیراعظم پروند جوگناتھ ہیں، اپوزیشن لیڈر پال ریمنڈ برنگر وہ واحد سیاسی راہنماء ہیں جو عیسائی اقلیت ہوتے ہوئے بھی ماضی میں وزیراعظم کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہوئے۔ بی بی امینہ ایک نامور سائنسدان ہیں ، جہاں وہ ایک طرف ماریشس کی پہلی خاتون صدر ہیں وہیں انہوں نے سائنس کے میدان میں عالمی اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔مجھے بی بی امینہ سے تبادلہ خیال کا موقع ملا تو میں نے انہیں عجز و انکساری اور خدمتِ خلق کے جذبے سے بھرپور پایا، خاتون صدر پاکستان سے حکومتی اور عوامی سطع پر دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں خاصی دلچسپی رکھتی ہیں۔جمہوریہ ماریشس آئینی طور پر تمام شہریوں کو یکساں مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے اور مذہبی تفریق کی سختی سے ممانعت ہے، دیوالی، عید، کرسمس اوردیگر مذہبی تہوارات کے موقع پرسرکاری تعطیلات ہوتی ہیں اور تمام مذاہب کے ماننے والے ایک دوسرے کی خوشیوں میں بھرپور انداز میں شریک ہوتے ہیں۔ جزیرے بھر میں قائم مندر، مسجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی عبادتگاہوں کی موجودگی ریاست کی مذہبی ہم آہنگی پر مبنی امن دوست پالیسی کی نشاندہی کرتی ہے، ماریشس کی پہلی مسجد مسجدالاقصیٰ انیسویں صدی کے اوائل میں تعمیر کی گئی، برصغیر کے ایک صوفی جمال شاہ کے سنگِ مرمر سے تعمیر شدہ مقبرے سے ملحقہ جمعہ مسجد کو خوبصورت ترین مذہبی مقام کا اعزاز حاصل ہے۔ ماریشس کے خوبصورت پہاڑوں میں واقع گنگا تلاؤ جھیل ہندوؤں کا مقدس ترین مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں یاتری حاضری دیتے ہیں، دریائے گنگا سے منسوب مقدس جھیل کے کنارے ساگر شِو مندر، ہنومان مندر، گنیش مندر اور گنگا دیوی مندر بھی قائم ہیں، مہاشِویاتری کے موقع پر ہندو زائرین اپنے گھروں سے گنگا تلاؤ تک کا سفر ننگے پاؤں طے کرتے ہیں۔ مختلف اقوا م کے ماریشس پر اثرات کا تاریخی طور پر جائزہ لیا جائے تو اس خوبصورت ترین افریقی جزیرے کو 9ویں صدی عیسوی میں جب عرب تاجروں نے دریافت کیا تو یہاں ہر طرف گھنے جنگلات اور جنگلی حیات کے علاوہ کوئی انسانی آبادی نہ تھی، سولہویں صدی میں پرتگالی جہاز رانوں نے بھی یہاں قدم رکھے لیکن سب سے پہلے یہاں آباد ہونے والے ڈچ تھے جنہوں نے سولہویں صدی کے اختتام پر قبضہ کرکے جنوب مشرقی حصے میں ایک بستی بسائی، جہاں یہ کالونی آباد ہوئی اسے گرینڈپورٹ کا نام دیا جاتا ہے،تقریباََ دس سال گزارنے کے بعد ڈچ باشندے اپنے غلاموں کو جزیرے پر چھوڑکرواپس چلے گئے جس کے بعد فرانس نے قبضہ کرکے جزیرے کا نام آئی لینڈ ایلی ڈی فرانس رکھ دیا ،فرانسیسی باشندوں کی قائم کردہ بندرگاہ سے منسلک پورٹ لوئس شہر آج کے جمہوریہ ماریشس کا دارالحکومت ہے۔ جزیرے کو ماریشس کا نام دینے والے برطانوی انگریز تھے جنہوں نے فرانسیسوں کو شکست دیکر جزیرے کو تاجِ برطانیہ کا حصہ بنا دیا، 1835 ؁ء میں غلامی کو سرکاری طور پر ختم کردیا گیا اور برطانوی ہندوستان کے باشندوں کی کثیر تعداد نے ماریشس کا رخ کیا جنہوں نے گنے کی کاشتکاری، ماہی گیری اور مزدوری جیسے پیشے اپنائے، علاوہ ازیں انگریزخطے میں عسکری مقاصد کے حصول کیلئے لگ بھگ ساڑھے آٹھ ہزار ہندوستانی فوجیوں کوبھی سرزمین ماریشس میں لے کر آئے ۔اس زمانے میں وہاں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا ، کہا جاتا ہے کہ ماریشس میں مقیم ہندوستانی باشندوں نے ایک جرمن سماجی کارکن کے توسط سے برطانوی گورنر گارڈن کو خط لکھا جس پر شکایات کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیشن مقرر کیا گیاجس نے اپنے مشاہدات کے بعد ہندوستانی تارکین وطن کی حالتِ زار میں بہتری لانے کیلئے سفارشات مرتب کیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں مہاتما گاندھی نے ماریشس کا تاریخی دورہ کیا جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں، مہاتما نے دو ہفتوں پر محیط اپنے دورے کے دوران ماریشس میں بسنے والوں پر زور دیا تھا کہ وہ تمام تر تعصبات سے بالاتر ہوکر اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں،آج ماریشس میں قائم مہاتما گاندھی انسٹیٹیوٹ فروغِ تعلیم بالخصوص برصغیر کے ثقافتی ورثے کو پروان چڑھانے کیلئے کوشاں ہے، اردو زبان کے فروغ کیلئے مشاعروں سمیت مختلف ادبی تقریبات کی میزبانی کا اعزازبھی اس ادارے کو حاصل ہے۔بالآخر ماریشس نے 12 مارچ1968 ؁ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور بابائے قوم سرشِو ساگر رام غلام پہلے وزیراعظم نامزد ہوئے ، آج ماریشس دنیا کے نقشے پر ایک آزاد جمہوری ملک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے اور عوام عام انتخابات کے نتیجے میں اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ ماریشس کی اقتصادی خوشحالی کی بات کی جائے تو براعظم افریقہ میں سب سے زیادہ فی کس آمدنی ماریشس کے عوام کی ہے،ماضی میں مختلف اقوام کے زیراثر رہنے والا آج کا ماریشس سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی جیتی جاگتی مثال ہے جہاں کے بسنے والے مذہبی و لسانی تعصبات سے بالاتر ہوکر اپنے خوبصورت وطن کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ماریشس کے سادہ طبیعت کے عوام اپنی پرخلوص مہمان نوازی کیلئے دنیا بھر میں مشہورہیں، ماریشس کے صاف و شفاف پانی کے ساحل سیاحوں کیلئے خصوصی دلچسپی کا باعث بنتے ہیں جبکہ واٹر اسپورٹس کو بھی خاصی اہمیت حاصل ہے، عالمی سیاحتی مقام ہونے کی بناء پر چائنیز، انڈین، مغربی ہر قسم کے کھانے باآسانی دستیاب ہیں۔ ماریشس کے عوام اور حکومت پاکستان سے دِلی لگاؤ رکھتے ہیں اور اردو زبان پورے ماریشس میں بولی اور سمجھی جاتی ہے لیکن اہلِ ماریشس پاکستانیوں سے عدمِ توجہ کا بھی گِلہ کرتے نظرآتے ہیں۔ میں نے اپنے حالیہ دورے کے دوران محسوس کیا کہ ماریشس میں بھارتی لابی تیزی سے اپنا اثرورسوخ بڑھا رہی ہے تو بدقسمتی سے پاکستانی سفارتخانہ غیر متحرک ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ علامہ اقبال، مرزا غالب اور دیگر تاریخی شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے بھارتی تو نمایاں نظر آتے ہیں لیکن پاکستان کا کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا۔میں نے دیگر ممالک میں بھی ایسی ہی ناپسندیدہ صورتحال کا سامنا کیا ہے کہ پاکستانی سفاتکار قومی مفاد کی بجائے ذاتی عیش و آرام کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں، حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ بیرون ممالک سفارتکاروں کی تعنیاتی کیلئے فیورٹ ازم نہیں بلکہ رائٹ پرسن ایٹ رائٹ پلیس کا اصول مدنظر رکھا جائے تاکہ پاکستانی کاز کا حصول ثقافتی اور تجارتی سطع پر کامیابی سے ممکن ہوسکے۔ میں اپنا آج کا یہ کالم ماریشس میں بسنے والوں کے نام کرتے ہو ئے کہنا چاہوں گا کہ ماریشس کے امن پسند معاشرے کو بطور رول ماڈل اپنانا موجودہ حالات کا تقاضا ہے ۔ میرا ارادہ ہے کہ وطن واپسی کے بعد ماریشس کے امن پسند، برداشت پر مبنی کثیر الثقافتی سماج سے روشناس کرانے کیلئے ایک سیمینار کا انعقاد کرواؤں جبکہ میں ماریشس سفارتخانے سے بھی خصوصی درخواست کروں گا کہ وہ دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلئے پاکستانی باشندوں کیلئے ثقافتی اور صحافتی تبادلہ پروگرام متعارف کروائے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Together For Peace by Dr Ramesh Kumar Vankwani

At a time when the international community is in panic mode due to North Korea’s recent mi…