پرنس کریم آغا خان تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

63

پرنس کریم آغا خان
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

دنیا بھرمیں پھیلی اسماعیلی برادری اپنے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان چہارم کے حوالے سے ڈائمنڈ جوبلی منا رہی ہے جنہوں نے آج سے ٹھیک ساٹھ برس پہلے 1957 ؁ء میں صرف بیس سال کی عمر میں امامت سنبھالی تھی، دنیا کے کونے کونے میں پھیلے اسماعیلیوں کا شمار ایک ایسی پرامن کمیونٹی کے طور پر کیاجاتا ہے جن کی قیامِ امن ، غربت کے خاتمے اور فروغِ تعلیم کیلئے خدمات بے مثال ہیں، ایک ایسے نازک وقت میں جب دہشت گردی اور شدت پسندی کو عالمی سطع پر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کیا جارہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پرنس کریم آغاخان کی ساٹھ سالہ جدوجہدکامحور اپنے آباؤاجداد کی برداشت، رواداری اور صبروتحمل پر مبنی مثبت تعلیمات کومزید فروغ دیتے ہوئے اقتصادی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے، ماضی کی مصر اور ایرانی سلطنتوں سے تعلق رکھنے والے پرنس کریم آغا خان ایک ایسی بے مثال ریاست کے سربراہ ہیں جسکاآج اپنا تو کوئی مخصوص قطعہ اراضی نہیں لیکن وہ مشرق سے مغرب میں بسے لگ بھگ پندرہ ملین اسماعیلیوں کے دِلوں میں بستے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق آغاخان کااولین خطاب حسن علی شاہ کو انیسویں صدی کے اوائل میں ایرانی بادشاہ کی طرف سے دیاگیا جسے بعد ازاں برطانوی ہندوستان میں وائسرائے ہند نے سرکاری طور پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں پرنس کا خطاب بھی دیا ، برطانوی دورِ حکومت میں آغاخان اول کو واحد مذہبی کمیونٹی راہنماء کا اعزاز حاصل تھا جنہیں سرکاری سطع پر توپوں کی سلامی کا حقدار سمجھا گیا۔انکی وفات کے بعدآغا خان دوم انکے صاحبزادے آقا علی شاہ قرار پائے جنکی اپنے وقت کے معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور دیگر طبقات سے قریبی تعلقات کے فروغ میں خدمات کلیدی نوعیت کی رہیں۔انکے ہونہار صاحبزادے سرآغاخان سوئم سلطان محمدشاہ کی برطانوی مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کیلئے کاوشیں کسی تعارف کی محتاج نہیں ، سرآغا خان سوئم کو آل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن اور پہلے صدر کا اعزاز حاصل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وقف کردی،بانی پاکستان قائداعظم کے قریبی ساتھی اور تحریکِ پاکستان کے راہنماء سرآغاخان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خان کے اس نظریے کے پرزور حامی تھے کہ مسلمانوں کو عملی سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے اپنی سماجی اور اقتصادی حالت مضبوط بنانے کیلئے تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، انہوں نے اپنی بے انتہا دولت کا منہ مسلم لیگ کی سیاسی اور علی گڑھ یونیورسٹی کی تعلیمی سرگرمیوں کو استحکام پہنچانے کیلئے کھول دیا، ان کی طرف سے علی گڑھ کے قابل اسٹوڈنٹس کی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کیلئے آغاخان فارن اسکالرشپ کا بھی اجراء کیاگیا۔ آج پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت جس گوادر بندرگاہ کو ملکی ترقی کیلئے گیم چینجر قرار دیا جارہا ہے، پاکستانی وزیراعظم فیروزخان نون کی درخواست پر سرآغا خان نے اس زمانے کے تین ملین ڈالرز کی خطیر رقم کے عوض مسقط سے خرید کر حکومتِ پاکستان کو تحفے میں دی تھی۔ سرآغاخان سوئم جیسے مخلص اورویژنری لیڈرکے بعد چوتھے آغاخان اوراسماعیلی برادری کے 49ویں روحانی پیشواء کا اعزاز انکے پوتے ہزہائی نس پرنس شاہ کریم الحسینی کوبیس برس کی عمر میں حاصل ہوا جنکی شخصیت اپنے آباؤاجداد کی مثبت تعلیمات کی روشنی میں بذاتِ خود اپنے اندرکثیر الجہتی رواداری سموئے ہوئی ہے، برطانوی شہریت کے حامل پرنس کریم آغاخان یورپ کے خوبصورت ترین ملک سوئیزرلینڈ میں پید ا ہوئے ، افریقی ملک کینیا میں پروان چڑھے ، امریکی اعلیٰ تعلیمی یونیورسٹی ہارورڈ سے فارغ التحصیل ہوئے اور فرانس میں واقع عالیشان رہائش گاہ میں سکونت پذیر ہیں ۔ پرنس صاحب کے تمام مغربی و مشرقی ممالک کے حکمران طبقات سے نہایت قریبی تعلقات قائم ہیں،موجودہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹرودو سمیت متعدد عالمی شخصیات انہیں اپنا ذاتی دوست قرار دیتی ہیں اورسربراہِ مملکت کا پروٹوکول فراہم کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں جب مسلمانوں کو بالخصوص شدت پسندی سے نتھی کرکے ان پر دروازے بند کیے جارہے ہیں، پرنس صاحب برداشت اور رواداری کی جیتی جاگتی تصویر سمجھے جاتے ہیں، اس سلسلے میں ایک واقعے کا بطورخاص تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ کچھ دہائیوں قبل جب افریقہ میں نسلی کشیدگی عروج پر تھی تو اسماعیلی کمیونٹی کو یوگنڈا میں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ گیا تو پرنس کریم کی ذاتی درخواست پر کینیڈا نے اپنے دروازے اسماعیلیوں پر کھول دیئے، یہ مغربی قیادت کا آغاخان پر ایسا اظہارِ اعتماد تھا جسکا صلہ تعلیم یافتہ امن پسند اسماعیلی کمیونٹی نے کینیڈا کی ترقی و خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرکے دیا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ پرنس صاحب نے اپنے پہلے دورہ گلگت بلتستان کے دوران وہاں کے عوام کی حالت زار بزریعہ تعلیم بدلنے کا ارادہ کیا اور آج سب سے زیادہ لٹریسی ریٹ پورے پاکستان میں گلگت بلتستان کا ہے،انہوں نے دنیا بھر کے عوام کیلئے بغیر کسی تعصب کے اقتصادی خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این)قائم کیا جو آج دنیا کے لگ بھگ 35ممالک میں سرگرم عمل ہے،آغاخان فاونڈیشن، آغاخان ہیلتھ سروسز، آغاخان پلاننگ اینڈ بلڈنگ سروسز، آغاخان اکنامک سروسز،آغاخان ایجنسی فار مائیکروفنانس جیسے اعلیٰ منصوبوں کی نگرانی پرنس کریم بذات خود کرتے ہیں، پرنس صاحب ثقافتی ورثے کی حفاظت میں بھی خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اورانکے قائم کردہ آغا خان ٹرسٹ کی بدولت اسلامی تاریخی مقامات کی حفاظت اور تزئین و آرائش ممکن بنائی جارہی ہے خاص طور پر مصر میں فاطمی حکمرانوں کی تعمیر کردہ عمارتوں ، دہلی میں ہمایوں کے مقبرے اور آگرہ میں تاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے آغا خان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پرنس کریم آغا خان کی فروغِ تعلیم اور غربت کے خاتمے کیلئے کاوشوں کو عالمی سطع پر سراہتے ہوئے متعدد خطابات، اعزازات اور القابات سے نوازا گیا ہے، کم و بیش بیس ممالک نے پچاس سے زائد قومی اعزازات پرنس صاحب کے نام کیے ہیں، دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریاں دی ہیں۔ خداوند تعالیٰ نے آج جو آغا خان کو عزت و احترام بخشا ہے اسکے بنیادی عوامل میری نظر میں اپنی کمیونٹی اورانسانیت کی خدمت کیلئے اپنی زندگی کا وقف کردینا ہے، خدا نے آغا خان کو جدی پشتی دولت سے نوازا لیکن تمام آغا خانوں نے خدا کی اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے انسانیت کی بھلائی کو اپنے مقصد زندگی میں فوقیت دی ۔ سرآغاخان کا علی گڑھ یونیورسٹی اور آل انڈیا مسلم لیگ کو مالی تعاون کی فراہمی ، حکومتِ پاکستان کوگوادر کا تحفہ اور پھر ملک بھر میں پھیلے تعلیمی اور فلاحی منصوبوں جیسے اقدامات سے آغا خانوں کی پاکستان سے بے انتہا محبت چھلکتی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم بطور پاکستانی انہیں وہ صلہ نہیں دے سکے جسکے وہ مستحق ہیں اور ہم نے اپنے مذہبی و لسانی تعصبات کی بے رحم آگ جلاتے ہوئے امن پسند اسماعیلی کمیونٹی کو بھی نہیں بخشا جو صرف اور صرف فروغ تعلیم اور غربت کے خاتمے کا ایجنڈا رکھتے ہیں، آج جب پرنس کریم آغا خان کی امامت سنبھالنے کی 60ویں سالگرہ دنیا بھر میں منائی جارہی ہے تو پاکستان کو بھی حکومتی اور عوامی سطع پر آغا خان کی اعلیٰ خدمات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، نئی نسل کو آگاہ کیا جانا چاہیے کہ کیسے سر آغا خان نے تحریک پاکستان اور بعد ازاں نوزائیدہ مملکت پاکستان کو مالی تعاون فراہم کرکے مستحکم کیا،ہمیں سفارتی محاذ پر بھی پرنس کریم آغا خان کے عالمی سطع بالخصوص مغربی دنیا سے قریبی تعلقات سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح میں سمجھتاہوں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے ہمیں کامیاب افراد کے طرز زندگی کو بطور رول ماڈل اپنانا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے 2005 ؁ء میں پاکستان ہندوکونسل کی بنیادیں رکھتے ہوئے پرنس کریم آغا خان کا ماڈل اپنی کمیونٹی کی اقتصادی خوشحالی کیلئے مدنظر رکھا، آج پاکستان ہندوکونسل کے زیراہتمام تھر پارکر میں پندرہ سکول، بے روزگاروں کیلئے روزگار رکشہ اسکیم ،قابل طلباء و طالبات کیلئے ہائی ایجوکیشن اسکالرشپ،بیماروں کیلئے ایمبولنس اور علاج معالجے کی سہولیات،بیواؤں کیلئے سلائی مشین، معذوروں کیلئے وہیل چیئراور ناداروں کیلئے امدادی رقوم کی بروقت فراہمی جیسے فلاحی منصوبے آغا خان کے فلسفہ خدمت انسانیت کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Together For Peace by Dr Ramesh Kumar Vankwani

At a time when the international community is in panic mode due to North Korea’s recent mi…