ریمنڈ ڈیوس کتاب اور پاک امریکہ تعلقات تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

39

ریمنڈ ڈیوس کتاب اور پاک امریکہ تعلقات
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

تقسیم برصغیر کے نتیجے میں پاکستان جب معرضِ وجود میں آیا تو اس وقت دنیا دوبلاکوں میں بٹی ہوئی تھی، نظریاتی مملکت پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے سپرپاور سویت یونین کے زیرسایہ مذہب بیزارآمریت پسند کمیونسٹ بلاک کے مقابلے میں جمہوریت، شخصی آزادی ، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے علمبردار مغربی بلاک کو ترجیح دی جسکی قیادت دوسری سپرپاور امریکہ کے پاس تھی۔پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کے پہلے دورہِ امریکہ کے دوران امریکی صدر ہیری ٹرومن بذاتِ خود پاکستانی وفد کے استقبال کے لیے امریکی ریاست لوزیانا میں موجود تھے،پاکستانی وفدکونہایت عزت و احترام سے نیویارک لایا گیا ، جہاں امریکی صدرکے احکامات پر پاکستانی وفد کے اعزاز میں سرکاری پریڈ کا انعقاد کرتے ہوئے ریڈکارپٹ ویلکم کیا گیا اور یوں پاکستان اور امریکہ کے مابین دوطرفہ تعلقات کی بنیادیں برابری کی سطع پر باعزت انداز میں رکھی گئیں جو وقت گزرنے کے ساتھ آج اس نہج پر پہنچ چکی ہیں کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے امریکی کردار نہ صرف پاکستانی سرزمین میں سنگین جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ رہا ئی پانے کے بعد کتاب لکھ کر سفارتی آداب کی دھجیاں اڑاتے ہوئے زہریلا پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔ ایسے افسوسناک واقعے کے عوامل کو سمجھنے کیلئے ہمیں پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لینا پڑے گا، قیام پاکستان سے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ مدتِ حکمرانی کا اعزاز ڈکٹیٹروں کوحاصل رہا، صدر ایوب خان نے امریکی مفادات کے حصول کیلئے ہر ممکن حد تک تعاون کیا،انہوں نے دورہ امریکہ کے دوران امریکی اعلیٰ قیادت کو سویت یونین کے خلاف سرد جنگ میں بھرپور عسکری تعاون کی یقین دہانی کروائی، پشاور کے ہوائی اڈے سے سویت یونین کے خلاف پہلا جاسوسی مشن یوٹو لانچ کیا گیا جسکے امریکی پائلٹ کو سویت یونین نے زندہ گرفتار کرکے پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیں، صدر ایوب کو اپنی تما م تر امریکہ نوازیوں کے باوجوداپنی سوانح عمری میں امریکی تعلقات کے تلخ پہلوؤں کو اجاگر کرنے کیلئے فرینڈز ناٹ ماسٹرز (آقا نہیں بلکہ دوست)جیسی کتاب لکھنی پڑ گئی، بعدازاں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں مشرقی پاکستان کا سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے، پاکستانی امریکہ کی طرف سے مدد کیلئے روانہ ہونے والے بحری بیڑے کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور ملک دولخت ہوجاتا ہے۔ صدر ضیاء الحق کے زمانے میں ہمسایہ ملک افغانستان میں سویت جارحیت کا آغاز ہوتا ہے اور پاکستان افغان مہاجرین کی کثیر تعداد کا اپنی سرزمین پر خیرمقدم کرتے ہوئے سویت یونین قبضے کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کرلیتاہے، سویت یونین کی تاریخ گواہ رہی تھی کہ اس نے جس ملک کا رخ کیا وہاں پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوا، ویت نام جیسے محاذِ جنگ میں امریکی سپرپاور کو شکست سے دوچار کیا، افغانستان کے بعد سویت یونین کا اگلا ٹارگٹ پاکستانی ساحلوں پر گرم پانیوں تک بزورِ طاقت رسائی ہی تھا لیکن امریکہ کی حمایت سے پاکستان نے جب افغانستان میں سویت قبضے کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ کا درجہ سنبھالا تو ایک دنیا نے دیکھا کہ کیسے سویت یونین کو شکست فاش دی گئی، نہ صرف افغانستان کی سرزمین سے سویت یونین کی واپسی ممکن بنائی جاسکی بلکہ خود سویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا، اس جدوجہد میں امریکہ کو تو اپنا عسکری نقصان کروائے بغیر واحد سپرپاور کا درجہ حاصل ہوگیا لیکن پاکستانی اعتدال پسند معاشرے پرشدت پسند عناصر حاوی ہونے میں کامیاب ہوگئے، صدر ضیاء کو ایک ایسے فضائی حادثے میں اس دارِ فانی سے کوچ کرجانا پڑاجس میں امریکی سفیر بھی انکے ہم سفر تھے،تاریخ کے اس ہائی پروفائل فضائی حادثے کی تفصیلات آج تک منظرعام پر نہ آسکیں۔نوے کی دہائی کا دورِ جمہوریت دوسیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی چپقلش سے بھرپور رہا جس میں کسی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع نہ مل سکا، جمہوری نظام کی کمزوری نے سیاسی قیادت کو امریکہ کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا جسکا فائدہ امریکہ نے ہی اٹھایااور پھر جنرل مشرف پاکستان پرمسلط ہوجاتے ہیں۔ امریکی صدر بِل کلنٹن اپنے دورہ برصغیر کے دوران آمریت کے شکنجے میں جکڑے پاکستان کو مختصر دورانئے کیلئے شرفِ میزبانی بخشتے ہوئے عوام کو جمہوریت کی برکات پر بھاشن دیکررخصت ہوجاتے ہیں اور پاکستان کی امریکہ کیلئے ماضی کی قربانیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں لیکن جلد ہی امریکہ کو نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے کیلئے پاکستانی حمایت کی ضرورت پڑجاتی ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے پاکستان ہی سے ڈومور کا تقاضا کیا جاتا رہا، خودکش حملوں کے نتیجے میں ملک کا چپہ چپہ خون آلود ہوگیا، ڈرون حملوں سے پاکستانی سرزمین کی خلاف ورزی معمول بن گئی اور امریکی اقدامات کے نتیجے میں شدت پسند عناصر نے اپنی بندوقوں کا رخ پاکستان کی طرف کرلیا۔ پاکستان میں استحکام جمہوریت کیلئے دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ( ن )اورپیپلزپارٹی کی پرامن جدوجہد کو کلیدی نوعیت کی اہمیت حاصل ہے، دونوں جماعتوں کے مابین میثاقِ جمہوریت ملکی سیاسی تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے جس کے تحت مسلم لیگ (ن) نے قومی انتخابات کے نتائج میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے پیپلزپارٹی حکومت کو تعاون فراہم کیا لیکن بدقسمتی سے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نتیجے میں ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنے والی پیپلز پارٹی حکومت عوام کی امنگوں کا خیال رکھنے میں ناکام ثابت ہوئی، پیپلزپارٹی دورِ حکومت میں تین بڑے اہم ترین واقعات ریمنڈ ڈیوس، اسامہ بن لادن اور میموگیٹ منظرعام پر آئے اور تمام میں امریکی عناصر ملوث نکلے لیکن پیپلز پارٹی حکومت عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے سے قاصر رہی، اسی دور میں سب سے زیادہ ویزے امریکی جاسوسوں کو جاری کئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ریمنڈ ڈیوس واقعہ کوئی حادثاتی سانحہ نہیں بلکہ پاک امریکہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے جس میں پاکستانی قیادت ہمیشہ سے امریکہ کے سامنے سرنگوں ہوتی رہی، پاکستانی عوام اس حوالے سے قصوروار امریکہ کو نہیں بلکہ پاکستانی قیادت کو قراردیتے ہیں جسکا ثبوت پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا امریکہ میں شاندار استقبال تھا، اس وقت امریکہ نے پاکستان کو اپنے غلام ملک کے طور پرنہیں دیکھا بلکہ باہمی مفادات کی بنیادوں پر دوطرفہ تعلقات کو باعزت انداز میں پروان چڑھانے کیلئے سنجیدہ کوشش کی لیکن ہمارے حکمرانوں نے پاک امریکہ تعلقات کو اپنے دورِ اقتدار کو دوام بخشنے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے جائز ناجائز غیرمشروط تعاون کرتے ہوئے امریکی غلامی کا طوق قوم کے گلے میں ڈالا، آمریتوں کے مقابلے میں کہیں کم دورانئے پر مشتمل جمہوری حکومتوں کو ماضی میں کرپشن اور چپقلش کی نذر کیاجاتا رہا ہے جسکی بناء پر سیاسی قیادت نے بھی امریکی حمایت کے حصول کی خاطر ملکی مفادات کو ترجیح نہ دینے میں اپنی عافیت سمجھی ۔ موجودہ قیادت کے دورِ حکومت میں ملک استحکام اور امن و ترقی کی جانب بڑھ رہاہے اور آپریشن ضربِ عضب ، ردالفساد کی کامیابی نے دہشت گردی کے مراکز ختم کردیے ہیں تو ریمنڈ ڈیوس کی کتاب منظرعام پر لاکر سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پرپھیلانے کا مقصدمیری نظر میں پاکستانی عوام کو سیاسی اور عسکری قیادت سے بدظن کرنا ہے، امریکہ کو سمجھ لیناچاہیے کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے ناپسندیدہ کردار دوطرفہ تعلقات کیلئے زہرقاتل کی سی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ کتاب صرف پاکستان کی بدنامی کا باعث نہیں بنی بلکہ امریکی عزائم کو بھی شدید دھچکا لگا ہے اورمستقبل میں دنیا کی کوئی بھی حکومت امریکہ سے آؤٹ آف دی وے تعاون کرنے میں ہچکچائے گی،میرے خیال میں ؂ ایسے قابل مذمت واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی و جمہوری نظام کو مستحکم کرتے ہوئے قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے اور امریکہ سمیت عالمی برادری سے خوشگوار تعلقات برابری کی سطع پر استوار کرنے کیلئے سیاسی اور عسکری قیادت باہمی طور پرقومی مفاد کا تعین کرتے ہوئے ٹھوس حکمت عملی وضع کرے تاکہ مستقبل میں ریمنڈ ڈیوس، اسامہ بن لادن اور میموگیٹ جیسے واقعات کسی صورت وقوع پذیر نہ ہوسکیں، ضرورت ا س امر کی بھی ہے کہ قومی نوعیت کے فیصلے بغیر کسی دباؤ کے عدل و انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں لیکن یہ اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب پاکستان عالمی منظرنامے میں ایک مضبوط اقتصادی قوت کے طور پر سامنے آئے۔

*********

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

The Times of India (21 August 2017)