سانحہ پارا چنار کی آڑ میں فروغِ فرقہ واریت خصوصی مضمون: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی،

116

سانحہ پارا چنار کی آڑ میں فروغِ فرقہ واریت
خصوصی مضمون: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی، سرپرستِ اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جب پاکستانی قوم عید الفطرکی تیاریوں میں مصروف تھی ، سفاک دہشت گردوں نے افغان سرحد پر واقع پاراچنا ر کے امن پسند شہریوں کو بزدلانہ حملوں کا نشانہ بنا ڈالا،ملک دشمنوں کی یہ ایک ایسی بھیانک حرکت ہے جسکی مذمت معاشرے کے ہر مکتبہ فکر نے کی، پاکستان ہندوکونسل ملک بھی میں جاری ہر قسم کی دہشت گردی کی پرزور مخالفت کرتی آئی ہیں، انسانیت کے ناطے ہمارا ایمان ہونا چاہیے کہ ناحق بہنے والا خون چاہے کسی مذہب کے ماننے والے کا ہو، اسکا رنگ ایک سا ہی ہوا کرتا ہے، بے گناہ کا خون ایک نہ ایک دن رنگ تو لاتا ہی ہے لیکن معاشرے میں انتشار کا باعث بھی بنتا ہے اورخون خرابے پر مبنی ایسے معاشرے کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ میرے حلقہ احباب میں پاراچنار سے تعلق رکھنے والے طوری اور بنگش قبائل کی کثیر تعداد شامل ہیں اورمیں نے ذاتی حیثیت میں انہیں بہت زیادہ امن پسند اور حساس طبیعت کا پایا ہے، میرا جب بھی ان سے تبادلہ خیال ہوتا ہے وہ اپنی شیریں بیانی اور نرم مزاجی سے یہیں گِلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کی مانند انہیں اہمیت نہیں دی جارہی،میں بطور سرپرستِ اعلیٰ پاکستان ہندوکونسل پارا چنار کے اپنے ہم وطنوں کو یقین دہانی کروانا چاہوں گا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں اپنے جیسا پاکستانی بھائی ہی سمجھتے ہیں۔ غلط فہمیاں ایک چھت کے نیچے رہنے والوں کے درمیان ہونا کوئی انہونی بات نہیں لیکن سمجھدار لوگ انہیں بڑھاوا نہیں دیتے، پاکستان ہم سب کیلئے ایک چھت اور محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھتاہے جسکو دشمن کے شر سے محفوظ رکھتے ہوئے مضبوط بنانا ہم سب کا قومی فریضہ ہے، سانحہ پارا چنار بلاشبہ دشمن کی منظم پلاننگ کا نتیجہ ہے جسکا سامنا میری نظر میں ہم سب کو نہایت سمجھداری سے کرنے کی ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جمعہ الوداع کے موقع پر جب یومِ القدس منایا جارہا تھا،پارا چنار میں حالیہ دہشت گردی کی واردات میں متعدد مذموم مقاصد پوشیدہ ہیں جن میں سب سے اہم بیرونی قوتوں کے ایماء پر ملکی اتحاد پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مذہبی فرقہ واریت کو فروغ دینا ہے۔یوم القدس ایران میں اسلامی انقلاب برپا کرنے والے امام خمینی کی اپیل پر ہر سال رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے روز فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی یاد میں منایا جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانیوں کی فلسطینیوں کے ساتھ دِلی وابستگی قیامِ پاکستان سے بھی قبل کی ہے، 23مارچ1940 ؁ء کو بانی پاکستان قائد اعظم کی صدارت میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قراردادِ لاہور کے ساتھ قراردادِ فلسطین بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی،آج بھی پاکستانی چاہے کسی بھی مذہب یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو، اسکا دِل مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ ایک ایسے وقت جب اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت بیرونِ ملک دورے پر تھی، دہشت گردوں نے پاراچنار کی پرامن سرزمین کو خون میں نہلادیااورپھرایک منظم انداز میں سوشل میڈیا پر نامعلوم عناصر کی جانب سے ملکی قیادت کے فوری طور پر پاراچنار نہ پہنچ سکنے کا وسیع پیمانے پرپراپیگنڈہ شروع ہوجاتا ہے، اس حوالے سے موسم خرابی اورپارا چنار کے جغرافیائی محل و وقوع کو مکمل طور پر نظراندازکیا گیا ۔ میری معلومات کے مطابق پاراچنار جانے کیلئے افغانستان سے ہوتے ہوئے ایک لمبا روٹ اختیا رکیا جاتا ہے جبکہ کچھ پارلیمنٹرین حضرات کو اہلِ پارا چنار سے اظہار یکجہتی کیلئے ہوائی راستہ اختیار کرنے پر ناکامی کا سامنابھی کرنا پڑا، میرے خیال سے پارا چنار کا باقی ملک سے زمینی رابطہ براہ راست منسلک نہ ہونے کی بناء پر میڈیا کو بھی پارا چنار سے اطلاعات کی فراہمی میں مختلف مشکلات درپیش آئیں، ایسے مواقعوں پر انفراسٹرکچر کی اہمیت سمجھ آتی ہے کہ کیوں موجودہ حکومت ملک بھر میں سڑکوں کا جال پھیلا نے کوقومی ترقی کیلئے ناگزیر سمجھتی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے،پاکستانی سابق سپہ سالار کااسلامی عسکری اتحاد کی کمان سنبھالنا، مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندی کی نئی لہر اور حکومت پاکستان کے مسئلہ کشمیر پر دیرینہ موقف نے علاقائی منظرنامے میں پاکستان کے قائدانہ کردار میں اضافہ کردیاہے جس سے پاکستان کی ترقی کی دشمن قوتیں خائف نظر آتی ہیں،سانحہ پارا چنار کا مقصد عالمی ایجنڈے کو پروان چڑھاتے ہوئے پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنا اور برادرہمسایہ ملک ایران سے تعلقات متاثر کرنا بھی ہوسکتا ہے، وہیں ہمیں افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اب جبکہ آپریشنِ ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے تو انہوں نے آسان ہداف کی تلاش شروع کردی ہے جس میں افغان سرحد پر واقع پارا چنار شہر کو نشانہ بنانا شامل ہے، دشمن قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ پاکستانی قوم نے ماضی میں درپیش تمام چیلنجز کا مقابلہ مردانہ وار متحد ہوکر کیا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اب فرقہ واریت کا زہر پاکستانی معاشرے میں پھیلانے کیلئے سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے۔ایسے موقع پر جب متاثرین پارا چنار کے لواحقین شدید غم سے نڈھال تھے اور الیکٹرانک میڈیا بھی المناک حادثے کو کوریج میں احتیاط سے کام لے رہا تھا، ان تمام خفیہ عناصر کا پتا لگانا نہایت ضروری ہے جنہوں نے آناََ فاناََ سوشل میڈیا پر مظلوم اقلیت کا روپ دھارتے ہوئے نفرت آمیز پراپیگنڈہ شروع کردیا اور دوسری اطراف سے بھی جوابی پراپیگنڈہ منظم انداز میں شروع کردیاگیا،ایسا بہت زیادہ قابلِ اعتراض اورناقابلِ اشاعت مواد واٹس ایپ ، فیس بک وغیرہ پر میری نظر سے بھی گزرا ہے جو سانحہ پارا چنار کے حملہ آوروں اوراسکی آڑ میں دوطرفہ نفرت انگیز مواد کی تیاری اورنشر واشاعت کرنے والوں کے مابین قریبی تعلق کو ظاہر کرتا ہے جبکہ بہت سے جذباتی سوشل میڈیا صارفین اپنی ناسمجھی میں ایسے زہریلے مواد کی آگے تشہیرکرکے نادانستگی میں دشمن کے آلہ کار بن بیٹھے۔ بطور پاکستانی شہری ہم سب کیلئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سانحہ پارا چنار کی آڑ میں سوشل میڈیا پر مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا، ایک دوسرے کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال اور مختلف فرقوں کے مابین دشمنیوں میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مکاتبِ فکر متفقہ طور پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے ایسے حملوں کو کسی مخصوص کمیونٹی پر نہیں بلکہ پاکستانیت پر حملہ قرار دیں، صرف بیان بازی سے کام نہیں چلے گا بلکہ تمام مذہبی طبقات کو عملی طور پر اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا چاہیے کہ دہشت گردوں کا تو واقعی کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن دہشت گردی کے نتیجے میں جان کی قربانی دینے والے کا مذہب ضرور ہوتا ہے اور دنیا کا ہر مذہب ایک دوسرے کا احترام سکھاتا ہے بالخصوص اس دنیا سے چلے جانے والوں کو اچھے الفاظ سے یاد کرنے کی تلقین تو ہر مذہب کی تعلیمات کا حصہ ہے،میں سمجھتا ہوں کہ ملک بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور صبروتحمل کے کلچرکو فروغ دینے کیلئے دارالحکومت اسلام آباد سے نکل کر ہمیں ملک کے کونے کونے میں ایسی تقریبات کے انعقاد کی ضرورت ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے حقیقی نمائندوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔میں اہلیانِ وطن سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ خدارا دشمن کی سازش کو سمجھیں، پاکستانی معاشرہ کو غیرمستحکم اورشدت پسندی کی طرف مائل کرنے میں یقینی طور پر بیرونی عوامل ملوث ہیں جنکا پسندیدہ ہتھیار مخصوص مذہبی اقلیت کونشانہ بناکر دیگر برادریوں کے خلاف نفرت کی دیوار کھڑی کرنا ہے،ہمیں سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کو فروغ دیکر ملک دشمنوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرنے چاہیے، پاکستان کے دشمنوں کی سازش ناکام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اہلیانِ پاراچنار کے ساتھ غیرمشروط اظہاریکجہتی کیا جائے، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے دورہ پارا چنار کے دوران مقامی باشندوں کی غلط فہمیاں کافی حد تک دور کردی ہیں، دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہری قومی یکجہتی کو مستحکم کرتے ہوئے فرقہ واریت پھیلانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیں۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Right To Information by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Article 13 of the Universal Declaration of Human Rights, adopted by the UN General Assembl…