سندھ میں سیاسی بھرتیوں کا ناسور تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

33

سندھ میں سیاسی بھرتیوں کا ناسور
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

قیام پاکستان میں سندھ کے کلیدی کردار کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیاجاسکتا ، بانی پاکستان قائداعظم نے سندھ کے ایک اہم ترین شہر کراچی کو نوزائیدہ مملکت کا دارالحکومت قرار دیکر مزید اہمیت بخشی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج اکیسویں صدی میں دنیا آگے بڑھ رہی ہے تو سندھ میں بسنے والوں کو ترقی و خوشحالی کی دوڑ میں سب سے پیچھے دھکیلا جارہا ہے جسکا ذمہ دارمیں کسی بیرونی قوت کو نہیں بلکہ سندھ کی اپنی صوبائی حکومت کی بیڈ گورننس اور لوٹ مار کی سیاست کو سمجھتا ہوں، مذہبی و لسانی وابستگی سے قطع نظر سندھ کا ہر باسی باعزت روزگار کا متلاشی ہے جس پربدقسمتی سے موجودہ حکومتی جماعت پیپلز پارٹی کے سیاسی عناصر کی اجارہ داری عرصہ دراز سے قائم ہے، عمومی طور پر ووٹ پکے کرنے کی خاطر سیاسی وابستگی رکھنے والے نالائق اور نااہل افراد کو حکومتی اداروں میں بھرتی کرلیاجاتا ہے جبکہ غیرسیاسی یا دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے قابل سرکاری ملازمین کو کھڈے لائن لانے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں نقصان سراسر صوبے اور عوام کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ گزشتہ دنوں نجی ٹیلی وژن چینل پر معروف اینکر کامران خان کا پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا، شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے جب ایک طرف صوبے بھرکے سینکڑوں قابل تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری نوکری کیلئے حکومتی اشتہار کے جواب میں انٹرویو کیلئے پہنچتے ہیں تو تمام امیدواروں کو مسترد کردیا جاتا ہے، بعد ازاں محکمہ اطلاعات کی جانب سے غیرمعروف اخبارات میں دوبارہ سے اشتہار دیکر اپنے من پسند سیاسی عناصر کو پبلک سروس کمیشن کو بائی پاس کرتے ہوئے تحریری امتحان کی بجائے واک ان انٹرویو کی بنیاد پرمیرٹ کے خلاف غیرقانونی بھرتی کرلیا جاتا ہے، بات صرف کنٹریکٹ بھرتی پر ہی نہیں رکتی بلکہ وزیراعلیٰ صاحب کی اشیرباد سے ان انتالیس افسران کو مستقل بھی کرلیا جاتا ہے،تفصیلات کے مطابق سابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل میمن نے نئے انفارمیشن آفیسرز کو 2012 ؁ء میں خلاف ضابطہ بھرتی کروادیا تھا، دنیا بھر میں انفارمیشن اور میڈیا سے متعلقہ افسران کی بھرتی کیلئے ماس کمیونیکیشن کی ڈگری کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن سندھ میں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے جہاں متعلقہ شعبے میں پیشہ ورانہ ڈگری کی بجائے حکومتی سیاسی جماعت کے حق میں نعرہ بازی زیادہ اہمیت کی حامل ہے، سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے مطلوبہ تعلیمی قابلیت نہ ہونے کی بناء پر سرکاری قواعد ہی خلافِ ضابطہ بدل ڈالے جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس غیرقانونی عمل کے نتیجے میں بھرتی ہونے والے تمام انفارمیشن افسران کو مستقل کردیا ہے۔ کامران خان کا پروگرام ایسے ہوشربا انکشافات سے بھرپور ہے کہ کیسے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں غیرقانونی اسامیاں پیدا کی جاتی ہیں اور پھر کیسے قابل نوجوانوں کے ارمانوں کا خون کرتے ہوئے میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من پسند سیاسی افسروں کو بھرتی کرلیا جاتا ہے ، ایک عقل کا اندھا بھی بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ غریب عوام کے ٹیکس کی آمدنی سے تنخواہ پانے والے نااہل آفیسرز فی الوقت کس قسم کی خدمات سرانجام دے رہے ہونگے۔ اگردیگر صوبائی محکموں کی حالت زار کا جائزہ لیا جائے تو معاملہ صرف انفارمیشن آفیسرز کی خلاف ضابطہ تقرریوں تک ہی محدود نہیں بلکہ صوبائی حکومت بحیثیت مجموعی ہر شعبہ زندگی میں گھوسٹ ملازمین اور سیاسی بھرتیوں کا عظیم الشان ریکارڈ بنانے پر تُلی نظر آتی ہے، سندھ میں پائے جانے والے گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ اساتذہ ملک و قوم کے معصوم مستقبل سے کھیل رہے ہیں ، مختلف آزاد ذرائع کی رپورٹس کے مطابق صوبے بھر میں سینکڑوں اسکول غیرفعال ہیں، اسکول کی عمارت اگر قائم ہے تووہاں تعلیمی سرگرمیاں نہیں بلکہ جانوروں کا باڑہ اور دیگر غیرتعلیمی مقاصد کا حصول زوروشور سے جاری ہے تو دوسری طرف ایسے اسکول بھی کثیرتعداد میں ہیں جنکا وجود صرف سرکاری کاغذات میں ہی پایا جاتا ہے، ایسے گھوسٹ اسکولوں کیلئے تعلیمی بجٹ بھی باقاعدگی سے مختص ہوتا ہے اور سیاسی بھرتی ہونے والے نام نہاد اساتذہ کو تنخواہیں بھی ملتی ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین عوام کی خدمت نہیں بلکہ مال بنانے کی خاطر رشوت خوری، لوٹ مار، کمیشن اور دیگر سماج دشمن سرگرمیوں میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں، بہت سے ایسے واقعا ت سامنے آئے ہیں جن میں جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے سیاسی بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین کو بطور سہولت کار استعمال کیا گیاہے، سیکیورٹی ادارے بھی اہم ترین سرکاری اداروں میں وسیع پیمانے پر سیاسی بھرتیوں کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا عندیہ دیتے آرہے ہیں، سندھ رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیاسی و عسکری تنظیموں کے بھرتی کردہ گھوسٹ ملازمین دہشت گردی میں ملوث ہیں، سابق آئی جی غلام حیدر جمالی پر صوبائی حکومت کے مبینہ ایما پرلگ بھگ 1400 سیاسی کارکنوں کو سندھ پولیس میں غیرقانونی بھرتی کرنے کے الزامات کی وجہ سے اعلیٰ عدلیہ کو حرکت میں آنا پڑا، سپریم کورٹ احکامات کے تحت جائزہ کمیٹی نے ان پولیس اہلکاروں سے دوبارہ امتحان لیا تو نوے فیصد اہلکاروں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ایک ایماندار پولیس آفیسر ہیں جنہوں نے صوبے کو سماج دشمن عناصر سے پاک کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا لیکن پو لیس کے محکمے میں سیاسی بھرتیوں کی مخالفت سندھ حکومت کی جانب سے انہیں جبری رخصت پر بھیجے جانے کی ایک اہم ترین وجہ بن گئی ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق لاتعداد غیر قانونی بھرتیوں کی ایک طویل ترین فہرست میں واٹر بورڈ، کے ایم سی ، کے ڈی اے ، تحصلیں، ٹاؤن کونسلیں سرکاری ہسپتالوں اور دیگر قومی اداروں کی بھی ہے ، اسی طرح سیاسی بنیادوں پر جعلی تقرر نامے دینے کی شکایات بھی زبان زد عام ہیں، گزشتہ برس سندھ کے محکمہ بلدیات میں جعلی بھرتیوں کا انکشاف ہونے کے بعد 100سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کردیاگیا تھا،سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوشن میں جعلی تقرر ناموں کا ایک بہت بڑا اسکینڈل ابھی تک انصاف کا منتظر ہے لیکن صوبے بھر کے تحقیقاتی ادارے سراغ لگانے میں تاحال ناکام نظرآتے ہیں ، دوسری طرف ایک انگریزی روزنامے کے مطابق سندھ اسمبلی کا سابق سیکرٹری ہادی بخش بریرو اپنے پانچوں صاحبزادوں کو راتوں رات گریڈ بیس میں خلاف ضابطہ لگوانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، نیب کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ منظور قادر کے خلاف غیرقانونی سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے سرکاری خزانے کومبینہ طور پر ڈیڑھ بلین روپے کا نقصان پہنچانے پر اعلیٰ سطعی انکوائری شروع کرنی پڑی ہے،پیپلز پارٹی کے طویل دورِ حکومت میں سندھ بھر میں ایسے قابلِ مذمت اقدامات تیزی سے فروغ پارہے ہیں ۔بطور ذمہ دار شہری ہماری اس حوالے سے دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے کہ سرکاری اداروں کے قیام کا مقصد عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے اور سرکاری اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے آزادانہ انداز میں خدمات سرانجام دینے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں سیاسی اثرورسوخ سے پاک رکھا جائے۔ آج صوبہ سندھ ایک ایسی دھرتی کا روپ دھار گیا ہے جہاں لاقانونیت ، غنڈہ گردی اور جرائم کا راج نظر آتا ہے، جہاں تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں اٹھائے نوکری کی تلاش میں دربدر بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ مندروں، زمینوں پر ناجائز قبضے کا معاملہ ہو یا تعلیمی اداروں اور سماجی جرائم کی روک تھام میں پولیس کی خراب کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سیاسی طور پر بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین اپنے فرائض کی سرانجامی کی بجائے اپنے محسنوں کی اطاعت گزاری میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ا ور اعلیٰ حکام کی طرف سے پڑنے والے سیاسی دباؤ کو فوراََ قبول کرلیتے ہیں ،حقدار کا حق مارنا اور کسی کو ناحق نوازنا میری نظر میں سخت گناہ اور سماجی ناانصافی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی بھرتیوں کے اس ناسور سے نجات پانے کی مہم میں سب سے زیادہ اہم ترین کردار عوام اور میڈیا کا ہے، میں سندھ میں بسنے والے ہر شہری سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ اپنے صوبے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ایسے ناپسندیدہ اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں کیونکہ میڈیا کی جانب سے خلاف قانون سیاسی بھرتیوں کو بغیر خوف و خطر بے نقاب کرنے سے ہی ہمارا معاشرہ بہتری کی جانب گامزن ہوسکے گا۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

The Times of India (21 August 2017)