سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

413

سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

انٹرنیٹ دورجدید کی حیران کن ایجاد ہے جسکو عام کرتے وقت شاید یہ گمان بھی نہ ہوگا کہ آگے چل کر فیس بک، ٹوئیٹر، واٹس اپ اور یوٹیوب جیسی انقلابی سہولیات انسانی معاشرے کے سُدھار یا بگاڑ کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کریں گی، سابق امریکی صدر اوباما کی انتخابی مہم میں جہاں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا وہیں عرب اسپرنگ میں مضبوط ترین آمریتیں زمین بوس کرنا سوشل میڈیا کی بدولت ہی ممکن ہوسکا۔آج روائتی میڈیا سمیت تمام ادارے سوشل میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور ہوچکے ہیں، دنیا بھر کے اخبارات ای پیپرز کی شکل میں انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں، صبح سویرے ہاکر اخبار لیکر بعد میں آتا ہے پہلے ہی ای پیپز متعلقہ اخباری ویب سائٹ پر ملاحظہ کرلیا جاتا ہے، ویب ٹی وی یا موبائیل ایپ پر تمام ٹی وی چینلز موجود ہیں، حاکمِ وقت ہو یا پھرفلمی ستارے یا عام شہری، سب سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کا اظہار دلانے میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب جبکہ ہم کسی بھی اہم واقعے کی اطلاع سوشل میڈیا کی بدولت برق رفتاری سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں وہیں پاکستان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں جو ضرورت محسوس کی جارہی ہے وہ صحیح اور غلط معلومات کے درمیان تفریق کرنا ہے۔کسی بھی مشہور شخصیت کا نام فیس بک یا ٹوئیٹر پر سرچ کرکے دیکھا جائے تو اتنے زیادہ رزلٹ ظاہر ہونگے کہ سمجھ نہیں آئے گی کہ اصلی اکاؤنٹ ان میں سے کونسا ہے، سب سے زیادہ قابلِ تشویش صورتحال جب پیدا ہوتی ہے جب ان سے منسوب کوئی جعلی بیان سوشل میڈیا کی بدولت روائتی میڈیا میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتاہے، مختلف سیاسی جماعتوں کے تنخواہ دارسوشل میڈیا سیل کے ہاتھوں مخالفین کی کردار کشی کی شکایات عام ہیں، انٹرنیٹ پر گالم گلوچ کاکلچر عام کرنے میں ایک سیاسی جماعت مبینہ طور پر ملوث بتائی جاتی ہے، ٹوئیٹر پر روزمرہ کے ٹاپ ٹرینڈز پر نظر ڈالی جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان میں سے کتنے حقیقت پر مبنی اور کتنے پیسے کے بل بوتے پر مصنوعی رائے عامہ کی عکاسی کررہے ہوتے ہیں، قدرتی آفات و حادثات کی صورت میں جعلی تصاویر وائرل ہوجاتی ہیں ۔یہ صورتحال درحقیقت ان تمام شہریوں کیلئے پریشان کن رہی ہے جو سوشل میڈیا کے مثبت انداز میں استعمال کے خواہاں ہیں لیکن حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا کی وجہ سے ماڈل قندیل بلوچ اورمردان یونیورسٹی میں نوجوان طالب علم مشال خان کے المناک قتل ، توہین مذہب کے بڑھتے ہوئے واقعات اوردفاعِ وطن کیلئے کوشاں افواجِ پاکستان اورمعزز اعلیٰ عدلیہ پر بلاجواز تنقیدنے معاشرے کے ہر ذی الشعور طبقے کو ہلاکر رکھ دیا ہے،میری نظر میں ایسے افسوسناک واقعات کے پس منظر عوامل میںآزادی رائے کی آڑ میں ذاتی ایجنڈے کو پروان چڑھانا، رائے عامہ کو مذہبی تعلیمات کے حوالے سے کنفیوز کرنا، ملکی سلامتی کے اداروں سے عوام کو متنفر کرنا اور معاشرے میں انتشار پھیلانا ہی ہے۔خراجِ تحسین کے مستحق ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب جنہوں نے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی بروقت روک تھام یقینی بنانے کی ٹھان لی ہے۔ میری نظر میں سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیزی کے رحجان کی سب سے اہم ترین وجہ گمنام فیک آئی ڈیز کی موجودگی ہے، مجھے وہ زمانہ یاد آجاتا ہے جب ماضی میں پی ٹی سی ایل ٹیلیفون صارفین کو روزمرہ کے حساب سے غیراخلاقی رانگ نمبرکالز کا سامنا کرنا پڑتا تھا، سی ایل آئی سہولت متعارف ہوتے ہی رانگ کالز کا گراف یک دم نیچے گرگیا، آج موبائیل فون پر اگر کوئی رانگ کال مِل جائے تو کالر مہذب انداز میں معذرت کرتا ہے۔ یہی میکانزم ہمیں سوشل میڈیا پر اپنانے کی ضرورت ہے،ایک انسان کی زبان سے نکلنے والے کلمات بہت اہمیت کے حامل ہوا کرتے ہیں جبکہ تحریری صورت میں تو انکی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے ،اگر ایک انسان کو یہ یقین محکم ہے کہ وہ جو کہہ رہا ہے صحیح حق پر مبنی ہے تو وہ اپنی شناخت پوشیدہ رکھ کر فیک آئی ڈیز کا سہارا کیوں لینا چاہتا ہے؟ میں مانتا ہوں کہ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا کوئی آسان عمل نہیں لیکن معاشرے میں بہتری مضبوط کردار والے اور بہادر افراد ہی لایا کرتے ہیں ، گمنام طریقوں سے نفرت آمیز مواد کی نشر واشاعت کرنا دنیا کے کسی بھی قانون کی نظر میں فساد اور شرانگیزی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مہذب معاشرے سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے مصروفِ عمل ہیں، متحدہ عرب امارات میں متعدد ایسی ویب سائیٹس بلاک ہیں جنکے ویب ماسٹر زکا اتا پتا معلوم نہیں جبکہ سوشل میڈیا پرکسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانا الیکٹرانک وارفیئرگردانتے ہوئے قابل گرفت جرم ہے۔ اب پاکستان کا حال ملاحظہ کیا جائے جہاں ہر دوسری گمنام ویب سائیٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ غیرمصدقہ ذرائع کے حوالے سے نیوز فراہمی کے نام پر پراپیگنڈہ کرنے میں ملوث ہے، مختلف مسالک کے علمبردار ممالک کی جنگیں پاکستانی سوشل میڈیا پر لڑی جارہی ہیں، سب سے زیادہ تشویشناک امر مخالفین کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو تمام نیوز ویب سائیٹ مالکان اور بلاگرزکو اعتماد میں لینا چاہیے کہ وہ اپنا رابطہ تفصیلات ویب سائیٹ پر عام کریں، کوئی بھی نیوز پوسٹ کرنے سے قبل اچھی طرح تسلی کرلیں اور جائز شکایت کی صورت میں پوسٹ ڈیلیٹ یا تصحیح کا میکانزم وضح کریں،نیوز پوسٹ کے نیچے کمنٹس تبصروں میں اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے، میں سمجھتا ہوں کہ ایڈیٹر کے کردار کو مستحکم کرنے کے اقدامات بلاگرز کے احساسِ ذمہ داری میں اضافہ کرتے ہوئے انکے اپنے مفاد میں بھی جاتے ہیں کہ مصدقہ خبروں اور شائستہ اندازِ بیان کی بناء پر قارئین انہیں سنجیدہ لیں گے، وہیں اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بیرون ممالک سے چلنے والی گمنام ویب سائٹس کو اپنی شناخت عیاں نہ کرنے پر بلاک کردیا جائے۔سوشل میڈیا پر بے بنیاد انفارمیشن کو مزید آگے پھیلانے سے روکنے کیلئے ایک ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت بھی ہے جس میں مختلف مذہبی تعلیمات کے حوالے سے تلقین کی جائے کہ انسان اپنے تمام اعمال کیلئے خداوند تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے اور بناء تصدیق کسی بھی غلط پوسٹ کو آگے شیئر کردینا ثواب کا کام نہیں ۔اب جبکہ پاکستان میں تمام موبائیل فون صارفین کی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہوچکی ہے تو حکومت کو سوشل میڈیاکے استعمال کو موبائیل فون سمزسے منسلک کرنے پر غور کرنا چاہیے،میں بذاتِ خود لندن ایئرپورٹ سمیت دیگر عالمی پبلک مقامات پر فری وائی فائی سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے لوکل موبائیل نمبرفراہم کرتارہا ہوں ،فیس بک اور ٹوئیٹرانتظامیہ سے بھی حکومتی سطع پر بات کی جاسکتی ہے کہ اکاؤنٹس رجسٹریشن اور لاگ ان کیلئے موبائیل نمبرز کا استعمال کیا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا اداروں کے پاکستان میں دفاتر کی عدم موجودگی میں صورتحال پیچیدہ ہوسکتی ہے اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں دشواری سے انتشاری قوتوں کے حوصلے بلند ہونے کا خدشہ ہے، میں ان حالات میں یہ تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ ترجیحی بنیادوں پر عوام میں سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کیلئے شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ ناپسندیدہ موا د کی تشہیرکا باعث نہ بن سکیں۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے توسط سے انٹرنیٹ سروس پروائیڈرز یقینی بنائیں کہ کوئی بھی انٹرنیٹ صارف آن لائن دنیا میں قدم رکھنے سے قبل اپنا موبائیل نمبر فراہم کرے جس کے بعد ویریفکیشن کوڈ موبائیل فون پر ہی فراہم کیا جائے، اس سلسلے میں گوگل کی معروف ای میل سروس جی میل کیلئے ٹو اسٹیپ سیکورٹی میکانزم کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ جب ایک صارف کو پتا ہوگا کہ انٹر نیٹ استعمال کرتے وقت بائیومیٹرک تصدیق شدہ موبائیل نمبرحکومتی اداروں کے پاس ہے تووہ خودبخود اپنے آپ کو قانون کے دائرے میں محسوس کرتے ہوئے دہشت گردی ودیگرسماج دشمن منفی سرگرمیوں سے باز رہے گا، دوسری طرف ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں کی پامالی بھی اتنی آسان نہیں ہوسکے گی۔ان حالات میں جب دنیا بھرکے معاشرے آزادی اظہار رائے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حدود و قنود کا تعین کررہے ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ حکومتِ پاکستان کی سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق کیلئے کی جانے والی کاوشوں کو کامیاب بنانا معاشرے کے تمام طبقات کی قومی ذمہ داری ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Dawn (December 13, 2018)