امریکی صدر کا دورہِ سعودی عرب تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

374
  1. امریکی صدر کا دورہِ سعودی عرب
    تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

    نومنتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں مسلمان مخالف متنازعہ بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اقتدار سنبھالتے ہی چھ مسلمان اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی کاناپسندیدہ حکم نامہ جاری کیا تھاجسکی بناء پر مختلف عالمی مبصرین کی جانب سے خدشہ ظاہر کیاگیاکہ مغرب اور مسلمان دنیا کے مابین ایک اور خوفناک تصادم ہونے کو ہے جس کا نشانہ مسلمان ممالک میں بسنے والے وہ لاکھوں کروڑوں انسان بنیں گے جو پہلے ہی سے دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کے نام پر تباہ حال ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے پہلے غیرملکی دورے کیلئے سعودی عرب کو منتخب کرنا اور وہاں پچپن اسلامی ممالک پر مشتمل عسکری اتحاد کی اعلیٰ قیادت سے خطاب کرنا اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ جہاں امریکہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کے تقاضوں کو بروقت بھانپتے ہوئے اپنی ریاستی پالیسیوں میں تبدیلیاں لانے پر مجبور ہوچکا ہے وہیں عالم اسلام کے اہم ترین ملک سعودی عرب کی زیرقیادت عسکری اتحاد جسکی کمان پاکستان کے جنرل (ر)راحیل شریف کررہے ہیں ، دہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے۔ نائن الیون کے ردعمل میں افغانستان پر حملہ اور بعدازاں عراق جنگ نے خطے میں شدت پسندی کا وہ زہر گھولا ہے جسکے منفی اثرات پر قابو پانا روزبروزدشوار ہوتا جارہا ہے،دورِ حاضر میں دہشت گردی کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسے عالمی عفریت کا روپ دھار چکی ہے جسکے خونی پنجوں سے ترقی پذیر یا ترقی یافتہ دنیا کا کوئی ملک محفوظ ہونے کا دعویٰ کرنے سے قاصر ہے،جہاں ایک طرف دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان دنیا ہورہی ہے وہیں مسلمان ممالک پر ہی دہشت گردی کاالزام تھونپا جارہا ہے، ایسی صورتحال میں میری نظر میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو دہشت گردانہ کاروائیوں کو مذہبی جواز فراہم کرنا ہے، دنیا کے تمام مذاہب انسانی جان کی حرمت اورخدمت انسانیت کا درس دیتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اسلام یقینی طور پر امن و آشتی کا دین ہے جس میں کسی ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانا قرار دیا گیا ہے ، ہندو دھرم اہنسا یعنی عدمِ تشدد کا پرچارک ہے، عیسائی مذہب اپنے پیروکاروں کو ایک گال پر تھپڑ کھانے کے بعد دوسرا گال پیش کرنے کی ہدایت کرتا ہے، یہودیت کی حقیقی تعلیمات امن، سچائی اور انصاف کو یقینی بنانا ہے، دوسری طرف خودکشی کو کسی مذہب میں جائز قرار نہیں دیا گیا ہے، ایک جان خداوندتعالیٰ کا عظیم تحفہ ہے جسکو ناحق لینے کا اختیا ر کسی بشر کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ان حالات میں جب انسانیت کے مہلک دشمن خودکش حملہ آور اپنی ہولناک کاروائیوں کا جواز مذہب میں تلاش کررہے ہیں، سعودی عرب کا امن کے فروغ کیلئے اسلامی عسکری اتحاد قائم کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خطاب کا موقع فراہم کرنا ایک تاریخی اقدام ہے، وہیں امریکی صدر کا تین الہامی مذاہب کے مراکز سعودی عرب ، اسرائیل اور ویٹی کن کا دورہ عالمی سطع پر بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے کی جانی والی کاوشوں کو تقویت فراہم کرتا ہے۔یہ ایک خوش آئین امر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسلامی ممالک کی اعلیٰ قیادت سے اپنے خطاب میں مغرب اور مسلمان دنیا کے مابین مذہبی تصادم کے نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ اسلام بہترین مذہب ہے، امریکہ دنیا میں امن کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ درحقیقت نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان ہے ۔ یہاں یہ وضاحت ایک بار پھر ضروری ہے کہ بدقسمتی سے عالمی دہشت گردی میں ملوث عناصر کا تعلق مسلمان ممالک سے تو ہوسکتا ہے لیکن اسلام سے نہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان عرصہ طویل سے امریکہ اور مغرب کے قریبی اتحادی شمار ہوتے ہیں، بالخصوص سرد جنگ کے زمانے میں جب عرب دنیاسویت یونین بلاک کے زیرسایہ کمیونزم کے نشے میں سرشار تھی،دونوں برادر مسلمان ممالک سعودی عرب اور پاکستان مغرب اور امریکہ کے ہمنوا تھے لیکن نائن الیون کے المناک سانحے نے مغرب کی نظر میں شکوک و شبہات کے بیج بونے میں کلیدی کردار ادا کیا، رہی سہی کسر عرب و فارس کے مابین صدیوں پرانی نظریاتی کشمکش میں اضافے نے پوری کردی،اس امر میں کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے کہ عراق میں صدام حسین کی معزولی اور عرب اسپرنگ نے خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیا جسکے نتیجے میں غیرریاستی عناصر کو مذہبی لبادے کی آڑ میں نفرت انگیز ایجنڈا عوام پر مسلط کرنے کو موقع ملا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سولہ سال بیت جانے کے بعد امریکی نومنتخب صدر کا پہلے غیرملکی دورے میں نظریاتی مملکت سعودی عرب میں مسلمان ممالک کے سربراہان کو یقین دہانی کروانا کہ امریکہ مسلمانوں کا دشمن نہیں اور یہ جنگ اگر باہمی تعاون کی بدولت جیتی نہ جاسکی تو اسکے سنگین نتائج آئیندہ نسلیں بھگتیں گی، ثابت کرتا ہے کہ امریکہ نے بالآخر جان لیا ہے کہ مسلمان ممالک کے تعاون کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ ایک اور غورطلب امر یہ بھی ہے کہ جہاں ایک طرف دنیا بھر کے مسلمان مقدس ترین مقامات کی نگہبانی کی بناء پر سعودی عرب سے عقیدت رکھتے ہیں وہیں عالمی سطع پرسعودی عرب کی حیثیت ایک اقتصادی قوت کی بھی ہے جس کے پاس تیل کے وسیع ترین ذخائر موجود ہیں ، 1973 ؁ء میں سعودی عرب کے ایماء پر عرب ممالک کا مغرب کواسرائیل حمایت کی بناء پر تیل کی سپلائی روکنے کے اقدام نے مغربی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کردیا تھا۔موجودہ صورت حال میں جب کچھ عالمی قوتیں دہشت گردی کو کچلنے کے دعوے کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کیلئے مسلمان ممالک کے خلاف محاذ جنگ کھولے بیٹھی ہیں تو سعودی عرب کا آگے بڑھ کر پہلے تو اسلامی اتحاد کی فوج کی تشکیل اور اس کے بعد مسلمان ممالک کے سربراہان کی کانفرنس کا انعقاد اور امریکی صدر کو خطاب کی دعوت دنیا سیاسی بصیرت سے بھرپور دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ کانفرنس کے اغراض و مقاصد کو مدنظر رکھا جائے تو ڈھکے چھپے الفاظ میں سعودی عرب نے 55مسلمان ممالک کی اعلیٰ قیادت کو ریاض میں اکٹھا کرکے عالمی برادری کو کئی سفارتی پیغام کامیابی سے دے دیئے ہیں جیسے کہ اسلامی اتحاد کی فوج کی تشکیل کے بعد مسلمان ممالک متحد ہیں ، دوئم اسلامی ممالک دہشت گردی کا شکار اور امن کے پیروکار ہیں، امریکی صدر اورانکے اہل خانہ کی بھرپور مہمان نوازی سے سعودی حکومت اس تاثر کی نفی کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے کہ سعودی معاشرہ قرون اولیٰ کا قدامت پسند معاشرہ ہے جبکہ امریکی صدر کے دورے نے عالمی توجہ مسلمان دنیا کی جانب مبذول کرواکر مکالمے کا ایک نیاباب بھی کھول دیا ہے ۔ کانفرنس کے موقع پراسلامی عسکری اتحاد کے پاکستانی سپہ سالار جنرل راحیل کی موجودگی اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مسلمان دنیا سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اسی طرز پر کیا جائے گا جیسا شمالی وزیرستان میں پاکستان کی بہادر افواج نے کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے ملک پاکستان سمیت پورا عالم اسلام خوہاں ہے کہ اب دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کا خونی کھیل مکمل طور پر بند ہو،مسلمان ممالک میں بسنے والے عوام کی دِلی خواہش ہے کہ مغرب تمام تر غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ویسے ہی خوشگوارتعلقات پھر سے استوار کرے جیسے کسی زمانے میں نائن الیون سے قبل تھے، امریکی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ امریکہ کو سپرپاور بنانے والی اسکی عسکری قوت ہی نہیں بلکہ سوفٹ پاور کا بھرپوراستعمال تھا جن میں نت نئی سائنسی ایجادات، ہالی وڈ، تارکین وطن کاکشادہ دلی سے امریکی سرزمین پر خیرمقدم، شخصی آزادی، برداشت اور رواداری پر مبنی امریکی معاشرہ، تعلیمی اسکالرشپ، پروفیشنل ایکسچینج پروگرامز اور دیگر مثبت سماجی رویوں نے کلیدی کردار ادا کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے صرف سعودی عرب میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب اور عسکری معاہدے ہی کافی نہیں بلکہ انہیں مسلمان دنیا کے ساتھ ایجوکیشن، ٹیکنالوجی کا تبادلہ، تجارت، ثقافت اور دیگر سماجی شعبوں میں ٹھوس تعاون فراہم کرکے بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کو یقینی بنانے کا عملی مظاہرہ پیش کرنا ہوگا۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

The News International (October 12, 2018)