انٹرنیشنل نرسنگ ڈے تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

173

انٹرنیشنل نرسنگ ڈے
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

بارہ مئی کو عالمی برادری انٹرنیشنل نرسنگ ڈے منا رہی ہے جسکا مقصد نرسوں کے انسانی معاشرے میں اعلیٰ مقام کا اعتراف کرنا ہے، افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم خدمتِ انسانیت سے نہ صرف غافل ہوتے جارہے ہیں بلکہ نرسنگ کے باوقارشعبے کو بھی عزت و احترام دینے سے قاصر ہیں، قیامِ پاکستان سے تاحال ملک میں متعدد ایسی انسان دوست شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کیلئے تیاگ دی، پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا تعلق ایک نواب گھرانے سے تھا لیکن پاکستان کی محبت میں انہوں نے سب قربان کردیا، انتقال کے موقع پر انکا پھٹا ہوابنیان زیب تن کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے غریب عوام کیلئے جو کہا وہ کردکھایا، انکی بیگم رعنا لیاقت علی خان نے نرسنگ کے پیشے کے وقار کی سربلندی کیلئے ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیں،انہوں نے قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کیلئے قائم خدمت کیمپس میں نادار مریضوں کی تیمارداری یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے، اس زمانے میں پاکستانی ہسپتالوں میں خواتین نرسوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی، بیگم رعنا کی ذاتی دلچسپی سے عوام نے نرسوں سے متعلق سماجی تعصبات کو ختم کرتے ہوئے اپنے رویوں میں نظرثانی کی اور آج ہمارے ہسپتالوں میں جو نرسیں نظر آتی ہیں وہ بیگم رعنا کی عظیم جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔بارہ مئی کا دن جدید نرسنگ کی بانی برطانوی نرس فلورنس نائٹ انگیل کی سالگرہ کا دن ہے اورمیرے آج کے اس کالم کا مقصد فلورنس، رعنا لیاقت علی خان سمیت تمام نرسوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کچھ تجاویز پیش کرنا ہے ، فلورنس نائٹ انگیل نے 21 مئی1820 ؁ء کو پھولوں سے منسوب شہر فلورنس میں ایک جاگیردار امیر گھرانے میںآنکھ کھولی لیکن اس نے اپنی ساری عمر دھُکی انسانیت کی خدمات میں تیاگ دی، کہا جاتا ہے کہ جب وہ بارہ سال کی تھی تویہ سوچ سوچ کر بے چین رہا کرتی کہ ایک امیر زادی کیلئے عیش و آرام کی زندگی کیونکر جائز ہے جبکہ دنیا تکالیف کا گھر بن چکی ہے؟ انہی سوالات کا جواب تلاش کرنے کیلئے فلورنس نے عملی زندگی کیلئے نرسنگ کا شعبہ منتخب کرلیا، ایک تن تنہا جوان خاتون کیلئے یہ فیصلہ ان حالات میں کوئی آسان نہ تھا جب مغرب میں نرسنگ کا شعبہ نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا، ایسی صورتحال میں نہ صرف فلورنس نے اس شعبے میں قدم رکھا بلکہ اپنی ہمت، بہادری، خلوص سے ایسی خدمات سرانجام دیں کہ آج تمام دنیا نرسنگ کے شعبے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ فلورنس نے چونتیس سال کی عمر میں اپنی خدمات کریمیا کے محاذِ جنگ کیلئے پیش کردیں، شہری سہولیات کی عدمِ دستیابی میں جنگ سے متاثرہ مریضوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہرممکن حد تک اپنے آپ کو وقف کیا، جب رات کو ڈاکٹر آرام کررہے ہوتے تو فلورنس لالٹین ہاتھ میں اٹھائے مریضوں کی دلجوئی کیا کرتی، تمام عمر انسانیت کی خدمت میں مشغول رہنے والی فلورنس نائٹ انگیل نوے سال کی عمر میں 13اگست 1910 ؁ء کوپرسکون انداز میں انتقال کرگئی۔فلورنس کی داستانِ حیات نہ صرف ہم سب کیلئے مشعلِ راہ ہے بلکہ سبق آموز بھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے آپ کے پاس صرف ایک دردمند دل ہونا ہی کافی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا کامیاب بنانے کیلئے معاشرے کی نازیبا باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے زندگی کا ایک واضح مقصد بھی پیش نظر ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ آج سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود فلورنس نائٹ انگیل کا نام دنیا بھر میں امر ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2 کروڑ سے زائد نرسیں دنیا کے مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں،عالمی ادارہ برائے صحت کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ نرسیں امریکہ میں ہیں ۔آج بدقسمتی سے پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ بھی اسی طرح سماجی امتیاز کا شکار ہے جیسا فلورنس کے زمانے میں مغرب میں تھا، اس سلسلے میں ہمیں اپنے معاشرے کا مائینڈ سیٹ بدلنے کیلئے بیگم رعنا لیاقت کی شدید کمی محسوس ہورہی ہے،میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ باوجود اس امر کہ بہترین نرسنگ کیئر کے بغیرعلاج معالجے کی بہترین سہولتوں کی فراہمی کسی طور ممکن نہیں توآخرہم لوگ خواتین کے نرسنگ کا شعبہ جوائن کرنے کو معیوب کیوں سمجھتے ہیں،ہمارا معاشرتی المیہ ہے کہ جب ہمارے اپنے گھرانوں کی خواتین ہسپتالوں میں داخل ہوتی ہیں تو ہم سب کی کوشش ہوتی ہے کہ انکی تیمارداری کیلئے رات کو خواتین نرسوں پر مشتمل بااخلاق سٹاف تعنیات ہو، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریض کیلئے نرم گفتار، دلجمعی اور اخلاص سے خدمت کرتی نرس کا وجود ناامیدی کے اندھیرے میں امید کی کرن ہواکرتا ہے لیکن ہم خود اپنی خواتین کو نرس بنانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے بلکہ جو خاتون اس باوقار پیشے میں اظہار دلچسپی کردے تو اسکی حوصلہ شکنی کرنا خاندانی غیرت کا تقاضا بنادیتے ہیں، ہمارے انہی تحقیر، ناقدری اور تذلیل پر مبنی رویوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے مصروفِ عمل نرسوں کو قدم قدم پر سماجی و معاشی مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور کردیا ہے،ڈاکٹر کے اظہارِ غصے کے علاوہ متعدد مواقعوں پر نرس کو مریض یا اسکے لواحقین کی جانب سے بدتمیزی اور جسمانی تشدد تک کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے، نرسوں کو بھی ڈاکٹروں کی طرح ہسپتال میں طویل دورانئے کی ڈیوٹی نبھانی پڑتی ہے جبکہ ایمرجنسی صورت حال کے پیش نظر نرسوں کو اوورٹائم بھی لگانا پڑ جاتا ہے مگراجرت کے بغیر، پاکستان میں مہنگائی کے اس ہوشربا دور میں ایک نرس کم تنخواہ پربیک وقت متعدد ہسپتالوں میں کام کرنے پر مجبور ہے جبکہ نجی ہسپتالوں میں نرسنگ اسٹاف کے ساتھ استحصال کی شکایات عام ہیں۔ جہاں ایک طرف سماجی رویوں میں بہتری ضروری ہے وہیں دوسری طرف اعلیٰ سطع پر بھی نرسنگ کا شعبہ حکومتی توجہ کا مستحق ہے،میڈیا اطلاعات کے مطابق ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں بالخصوص آئی سی یو، سی سی یو، آپریشن تھیٹرز اور ایمرجنسی وارڈز میں نرسوں کی تعداد مطلوبہ شرح سے نہایت کم ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں صرف پیشہ ور نرسوں کی تعداد ستر ہزار سے بھی کم ہے ، ملک بھر میں نرسنگ کی تعلیم و تربیت کیلئے عالمی معیار کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے جہاں بیرونی دنیا میں قائم ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دینے والی نرسوں کے تجربے سے بھی استفادہ حاصل کیا جاسکے،پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک میں نرسنگ کے شعبے میں ڈپلومہ اور ڈگری پروگرام پیش کرنے والے اداروں کی تعداد صرف پانچ ہے، اس حوالے سے پاکستانی نرسوں کیلئے بیرون ممالک اسکالرشپ ، فیلوشپ اور پروفیشنل تبادلہ پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت بھی ہے۔سماجی امتیاز، ناانصافی اور دیگر منفی رویوں کا مظاہرہ لامحالہ طور پر نرس کی کارکردگی پر اثرانداز ہوتاہے لیکن ایک ذمہ دار اور فرض شناس نرس کو فلورنس نائٹ انگیل کی داستانِ حیات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہیے کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی سکون نہیں، اس کٹھن جدوجہد میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن ایک نرس کو کسی صورت صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، میں آج نرسوں کے عالمی دن پرفلورنس نائٹ انگیل اور بیگم رعنا لیاقت علی کے نقشِ قدم پر چلتی خدمتِ انسانیت میں دلجمعی سے مشغول تمام پاکستانی نرسوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مریضوں اور انکے لواحقین سے استدعا کروں گا کہ آج اگر انکا سامنا کسی نرس سے ہوتا ہے تو وہ ہیپی نرسنگ ڈے کہہ کر انکی اعلیٰ خدمات کو سلام پیش کریں کیونکہ ڈاکٹر کے شانہ بشانہ مریض کی دلجوئی کرتی ہوئی انجیکشن لگاتی ہوئی، ڈِرپ چڑھاتی ہوئی اور آپریشن تھیٹر میں طبی آلات پکڑاتی ہوئی نرس بھی اسی طرح عزت و احترام کی مستحق ہے جیسے ایک ڈاکٹر۔ میں یہ تجویز بھی پیش کرنا چاہوں گا کہ حکومت کو صوبائی اور قومی سطع پر ہرسال بارہ مئی کو نرسنگ کے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والی نرسوں کیلئے سالانہ نرسنگ ایوارڈز کا انعقاد کروانا چاہیے تاکہ اس معزز پیشے سے وابستہ نرسوں کوہمارے معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاسکے ۔

******

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Right To Information by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Article 13 of the Universal Declaration of Human Rights, adopted by the UN General Assembl…