برداشت، صبر و تحمل پر مبنی پاکستان کی جانب پہلا قدم

177

برداشت، صبر و تحمل پر مبنی پاکستان کی جانب پہلا قدم
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ترقی و خوشحالی ہمیشہ سے ہی پرامن معاشروں کا مقدر بنی رہی ہے ، قدیم یونانی سلطنتیں ہوں یا دورجدید کے ممالک، اولین ترجیح پرامن معاشرے کا قیام ہے اورایسا معاشرہ تبھی وجود میں آسکتا ہے جب میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ،برداشت، درگزر اورسماجی انصاف جیسی اعلیٰ خصوصیات سماجی رویوں کا حصہ ہوں۔ یونانی تاریخ585قبلِ مسیح میں متحارب سلطنتوں میڈیس اور لیڈیا کے باشندوں نے پندرہ سالوں کی طویل آپسی جنگ و جدل سے تنگ آکر ایک دوسرے کے خلاف لڑائی سے انکار کرکے امن کو ترجیح دیکرایک مثال قائم کی، قدیم فلسفیوں ارسطو، سقراط،چانکیہ، کنفیوشس، افلاطون وغیرہ سب کی تعلیمات امن اور خوشحالی کے پیغامات سے بھرپور ہیں۔ بائبل کے مطابق مبارک ہیں وہ لوگ جو رحم دل اور امن پسند ہیں۔ہندوازم کی تعلیمات میں اہنسا یعنی کسی جاندار کو تکلیف نہ دینا کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، برصغیر کی تاریخ میں لاتعداد انسان دوست سادھو جوگی گزرے ہیں جنکی زندگی کا مقصد محبت، بھلائی اور بھائی چارے کا پیغام عام کرنا تھا،مشہور ہندو شہنشاہ اشوک اعظم نے جنگ و جدل کا راستہ ترک کرکے امن کو اپنا مقصدِ زندگی بنالیا،جدید تاریخ میں اہنسا عدم تشددپر مبنی اصولوں پرزندگی گزارنے والی نمایاں شخصیات میں مہاتماگاندھی جی شامل ہیں، جین مت میں کیڑے مکوڑوں کو بھی نقصان پہنچانے سے منع کیا گیا۔ پیغمبر اسلام کوتو تمام دنیا کیلئے رحمت العالمین کہا گیا جنہوں نے مسلم غیرمسلم عورت مرد چرند پرند قیدی غلام سب کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی اعلیٰ تعلیمات دیں، میثاقِ مدینہ کی صورت میں ایسا منفرد امن پسندانہ تحریری معاہدہ غیرمسلم شہریوں سے کیا جس میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کیے گئے ۔میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے تمام مذاہب کا ایک ہی مقصد ہے کہ خداوندتعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات کی روشنی میں انسان اپنے اندر اعلیٰ اوصاف کو پروان چڑھاکر ایک ایسا معاشرہ قائم کرے جس میں ہر کسی کو زندگی گزارنے کا اختیار ہو لیکن یہ سب تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب معاشرے میں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہو۔ موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ انسان نے برداشت، رواداری اور وسیع قلبی جیسی اعلیٰ روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے آپ کو ایک ایسا کنویں کا مینڈک بنا ڈالا ہے جس میں سے نہ وہ نکلنے کو تیار ہے اور نہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کا روادار، ایسے ناپسندیدہ رویوں کا مظاہرہ ہم قومی، علاقائی اور عالمی ہر سطع پر ملاحظہ کرسکتے ہیں، چاہے وہ پاکستان میں مشال خان کا المناک قتل ہو یا پارلیمنٹ میں دھینگا مشتی،مغرب میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا ہو یا لسانی ، مذہبی و قومیتوں کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق، ا ن تمام انسانیت دشمن واقعات کے عوامل میں سرفہرست عدمِ برداشت اور اپنے آپ کو صحیح قرار دیکر دوسرے فریق سے زندگی کا حق چھین لینا ہے۔ میری نظر میں انسان کا انسان سے انسانیت کے ناطے تعلق مضبوط ترین بنانے کیلئے صرف زبانی کلامی بیانات، عالمی دن منا لینے سے کام نہیں چلنے والا بلکہ اس کیلئے ایسی موثر عملی جدوجہد کی ضرورت ہے جس میں والدین، اساتذہ، میڈیا اور سیاسی لیڈران کا کلیدی کردار اس بناء پر ہے کہ یہ لوگ معاشرے کیلئے رول ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں، بچہ اپنے والدین سے بنیادی باتیں سیکھتا ہے،استاد اسکو عملی زندگی کیلئے زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتا ہے، انسان جو کچھ اخبار میں پڑھتا ہے یا ٹی وی سیکرین پر دیکھتا ہے ویسا ہی اپنے خیالات کو پروان چڑھاتا ہے، اور سیاسی لیڈران کا طرزِ زندگی کارکنوں کیلئے قابلِ تقلید مثال ہوتا ہے۔بانی پاکستان قائداعظم کی 11اگست1947 ؁ء کی تقریر گواہ ہے کہ قیامِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسی فلاحی ریاست کا قیام تھا جہاں کے باشندے بلاخوف و خطراپنے عقائد کے مطابق زندگی بسر کرسکیں، جمہوری نظام حکومت کے مطابق بھلے سے حکومت اکثریتی مسلمان ہی کریں لیکن غیرمسلم باشندوں کا تحفظ حکومتی ترجیحات میں شامل ہو ۔ آج پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی خوفناک لہر کی شروعات کوئی لمحاتی یا حادثاتی طور پر نہیں بلکہ قیامِ پاکستان سے ہی ہو گئی تھی جب مذہبی تفریق کی بناء پردونوں اطراف میں لاکھوں معصوم جانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ماضی میں قراردادِ پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے قراردادِ مقاصد کی منظوری،اکثریتی حصے کی زبان بنگالی کو برداشت کرنے سے انکار، مشرقی پاکستان پر فوج کشی ، جنرل ضیاء کا مارشل لاء ، امریکی سرپرستی میں افغان جہادسمیت ریاستی سطع پر ایسے لاتعداد اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں جنکا خمیازہ آج پاکستان بھگت رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس وقت کے حالات کے مطابق انکی ضرورت ریاست کو ہو لیکن زندہ قومیں حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتے ہوئے ناکام پالیسیوں پر نظرثانی اور مستقبل کیلئے موثر لائحہ عمل کے تعین پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں، ماضی کاقدامت پسند چین آج تمام دنیا کیلئے اوپن ہے، کالے امریکیوں کو ریسٹورنٹ میں برداشت نہ کرنے والا امریکہ سیاہ فام صدر منتخب کررہا ہے،مذہبی آزادی کے دشمن سویت یونین کا شیرازہ بکھر چکا ہے، ماضی کاتعصب پسند جنوبی افریقہ سیاہ اور سفید باشندوں کے مابین تعاون کی بہترین مثال بن چکا ہے، یورپی یونین کا قیام جرمنی فرانس سمیت ان مغربی ممالک نے عمل میں لایا جو صدیوں سے ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے تو پھر وہ کیا وجوہات ہیں جو پاکستانیوں کوترقی و خوشحالی سے روک کر عدم برداشت اور تشدد پر اکسا رہی ہیں؟ میری نظر میں پاکستانی معاشرہ مختلف قومیتوں، زبانیں بولنے والوں اورمذاہب کو ماننے والوں پر مشتمل ہے لیکن ہمارے معاشرے میں میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ،برداشت، درگزر اورسماجی انصاف جیسی اعلیٰ خوبیوں کا فقدان ہے ۔ ریاست اپنے شہریوں کیلئے ماں کا سا درجہ رکھتی ہے اور جیسے ماں اپنے تمام بچوں کا ایک سا خیال رکھتی ہے ویسا ہی رویہ ایک جمہوری اور سماجی ریاست کو روا رکھنا چاہیے لیکن افسوس ہے کہ سندھ اسمبلی کاجبری مذہب تبدیلی کی روک تھام کیلئے متفقہ طور پر منظور کردہ بل قانون بننے سے تو محروم ہوجاتا ہے لیکن معاشرے کیلئے زہر قاتل شراب کی غیرمسلموں کے نام پر خرید وفروخت کو نہیں روکا جاسکتا۔ مذہب کے نام پر قتل و غارت کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ تمام مذاہب کی تعلیمات ایک دوسرے کا احترام یقینی بناتے ہوئے امن کا فروغ دینے کی تلقین کرتی ہیں، تازہ مثال مردان میں طالب علم مشال خان کی ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں بہیمانہ قتل کی دی جاسکتی ہے جہاں قاتلوں نے اقبالی بیانات میں تسلیم کیا ہے کہ انکے مقتول سے ذاتی و نظریاتی اختلافات تھے لیکن معاملہ کسی صورت توہین مذہب کا نہ تھا،یہ المناک واقعہ پاکستانی معاشرے پرسنجیدہ سوالیہ نشان ہے، ماضی میں بھی ایسے بے شمارافسوسناک واقعات وقوع پذیر ہوچکے ہیں،ذاتی جھگڑوں میں توہین مذہب کے جھوٹے الزامات اور بلاسفیمی قانون کے غلط استعمال پر کڑی سزائیں ہونی چاہیے،سماجی ناسور شراب پر مکمل پابندی عوامی حلقوں کی آواز بن چکی ہے، سپریم کورٹ نے میرا نقطہ نظر سن کرکے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے 19جون 2014 ؁ء کو جوتاریخی فیصلہ دیا تھااس پر ریاست من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے قاصر نظر آتی ہے، آج بھی خیبرپختونخواہ اپنے نصابِ تعلیم سے نفرت انگیز مواد خارج نہیں کرسکا، دیگرصوبوں میں بھی سینکڑوں باشندے فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیںیا اپنی مذہبی شناخت پوشیدہ رکھ کر خوف کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔اب جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری اور جنرل راحیل شریف کی بطور سپہ سالار اسلامی افواج سمیت متعدد واقعات سے پاکستان کے عالمی منظر نامے میں قائدانہ کردار کی عکاسی ہوتی ہے توریاست کو بھی ماضی کی فرسودہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے ، میں میڈیا، پارلیمانی نمائندوں اور سول سوسائٹی سے بھی استدعا کرنا چاہوں گا کہ ملک اب مزیدانتہاپسندانہ رویوں کا متحمل نہیں ہوسکتا،ہم سب کوپرُامن معاشرے کو یقینی بنانے کیلئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا ہوگا، پرتشدد واقعات کے رونما ہونے کے بعد مذمتی بیانات کا انتظار نہیں بلکہ ایسے ناپسندیدہ واقعات کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے معاشرے سے عدم برداشت، تشدد اور تفریق کو ختم کرنا ہوگا، اس سلسلے میں ہم سب کو اپنے اپنے پیشے سے مخلص رہتے ہوئے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے احترام کا کلچر عام کرنا ہوگا۔ برداشت، صبر و تحمل پر مبنی پاکستان کی جانب پہلا قدم بڑھا کرہی ہم عالمی امن اور ترقی و خوشحالی کے حصول کی منزل سے ہمکنار ہوسکیں گے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

National Minorities Day By Dr Ramesh Kumar Vankwani

National Minorities Day By Dr Ramesh Kumar Vankwani Today, the National Minorities Day is …