پاناما دستاویزات پر سپریم کورٹ کا فیصلہ خصوصی مضمون: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی،

176

پاناما دستاویزات پر سپریم کورٹ کا فیصلہ
خصوصی مضمون: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

بالآخر سپریم کورٹ کے معزز پانچ رکنی بینچ نے پاناما دستاویزات کے حوالے سے وہ فیصلہ سنا ہی دیا جسکا قوم کو شدت سے انتظار تھا، پاکستان میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے پورا ایک سال پاناماایشو کو زندگی اور موت کا مسئلہ بناتے ہوئے سیاسی ہنگاموں کی نذر کیے رکھا، میڈیا پر بھی پورے سال پاناما ہی چھایا رہا، جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیاں پاناما ایشو پرخرچ کرتی نظر آئیں وہیں موجودہ وزیراعظم نے اپنی تین نسلوں کو احتساب کیلئے اعلیٰ عدلیہ کے روبرو پیش کردیا۔نظا مِ عدل میں ہمیشہ قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ٹھوس دلائل اور ثبوت کی بناء پرفیصلہ دیاجاتا ہے، سپریم کورٹ کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے اور یہی وجہ جوائینٹ انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دینے کا باعث بنی ہے اور یہ جے آئی ٹی حکومت نہیں بلکہ سپریم کورٹ آرٹیکل 10اے کے تحت بنارہی ہے۔ میرے خیال میں پاناما پیپرز چوری شدہ غیرمصدقہ دستاویزات ہیں جنکی تحقیقات کرانا ناگزیرہے، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی معزز بینچ کا فیصلہ سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہیے اور اب جبکہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی تشکیل دے رہی ہیں، عمران خان اور آصف زرداری کی حکومت مخالف پریس کانفرنسیں سمجھ سے بالاتر ہیں، غیریقینی سیاسی صورتحال پیدا ہونے سے ملک و قوم کا جومسلسل نقصان کیا جارہاہے اسکے ذمہ داران کا تعین کرنا بھی ضروری ہے۔دنیا بھر میں سیاسی بحران کا باعث بننے والے پاناما پیپرز کا اجراء ہی نہایت مشکوک ماحول میں ہوا جب ایک نامعلوم شخص نے جرمن اخبار کو پاناما میں قائم قانونی مشاورتی ادارے موساک فونسکاکے لگ بھگ ساڑھے گیارہ ملین کاغذات ادارے کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر فراہم کیے، پاکستان میں پاناما کی آڑ میں منفی سیاست کرتے ہوئے ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے تمام کی تمام پاناما دستاویزات صرف وزیراعظم پاکستان کی کرپشن کا احاطہ کرتی ہیں، درحقیقت دستاویزات میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف کا ذکر نہیں بلکہ انکے چار میں سے تین بچوں سمیت اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی بیشتر نامور شخصیات کا تذکرہ ہے، اسی طرح روسی صدر پوتن کے قریبی رفقا، چینی صدر کے بہنوئی، یوکرین کے صدر، ارجنٹینا کے صدر، برطانوی وزیر اعظم کے آنجہانی والدکو بھی آف شور کمپنیاں قائم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، حیران کن امر یہ ہے کہ کسی ایک امریکی شخصیت کا پاناما دستاویزات میں نام نہیں پایا جاتا، متعدد مواقعوں پر اس تشویش کا اظہار کیا جاچکا ہے کہ آیا پاناما دستاویزات کایوں مشکوک حالات میں افشاء ہونا ترقی کی راہ پر گامزن ممالک کی قیادت کی کردار کشی کرنا تو نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں پاناما کے نان ایشو پر اتنا زیادہ شور شرابہ ہونے کے باوجود دنیا کے دیگر عوام کی جانب سے پانامادستاویزات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیاہے، آئس لینڈ کے وزیراعظم نے پاناما دستاویزات میں اہلیہ کا نام آنے کی بناء پر استعفیٰ تو دے دیا لیکن عوام نے اظہارِ ناپسندیدگی کرتے ہوئے انکی جگہ جس کو نیاوزیراعظم منتخب کیا اسکا نام بھی پاناما دستاویزات میں شامل ہے،یورپی ملک اینڈورا کے وزیرخزانہ کے موقف کو عوام نے تسلیم کرلیا کہ اگر انکا نام پاناما دستاویزات میں آنے سے امورِحکومت متاثر ہوتے ہیں تو وہ مستعفیٰ ہوجائیں گے ،بھارتی حکومت نے شہریوں کے پاناما دستاویزات میں نام کو صرف ٹیکس بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا،کینیڈین وزیراعظم نے پاناما دستاویزات کو مسترد کرتے ہوئے عوام کو صفائی پیش کی، اسی طرح برطانیہ اور مالٹا سمیت دیگر ممالک کے عوام نے بھی پانامادستاویزات کی آڑ میں انتشار کی سیاست کو ناکام بنا دیا ۔پاکستان میں پاناما پر منفی سیاست کرتے ہوئے وہ عناصر سرگرم نظر آتے ہیں جنکے اپنے رفقاء کے نام بھی پاناما دستاویزات کی زینت ہیں، عمران خان پاناما ایشو پر جمہوری وزیراعظم کا نام نہ ہونے کے باوجود بلاجوازاستعفیٰ کا مطالبہ کرتے وقت بھول جاتے ہیں کہ پانامالیکس میں علیم خان، زلفی بخاری سمیت دیگر پی ٹی آئی قائدین کا بھی نام شامل ہے، جہانگیر ترین کی بھی آف شور کمپنی ہے،عمران خان کی اپنی آف شور کمپنی 1983 ؁ء میں آئی لینڈ جزیرے میں رجسٹرڈ ہوئی ۔ آصف زرداری بلاول بھٹو زرداری اور اعتزاز احسن کو دائیں بائیں بٹھا کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے معزز عدلیہ کے فیصلے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی مرضی کا فیصلہ دینے والے جج حضرات کی تو تائید کرتے ہیں لیکن دیگر جج حضرات سے بے بنیاد گلہ کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو کبھی عدلیہ سے انصاف نہیں مِلا، زرداری صاحب ایک نہایت منجھے ہوئے سمجھدار سیاستان ہیں جنکی مفاہمت کی سیاست کا ہر کوئی معترف ہے،انہیں ایسی منفی باتیں زیب نہیں دیتی، انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ عمران خان ایک ناتجربہ کار سیاستدان ہیں،میرے خیال میں زرداری صاحب کو میثاقِ جمہوریت پر عمل پیرا ہوکرموجودہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، انہیں بے بنیاد الزام تراشی کرکے عمران خان کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہیے۔اگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں موجودہ وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنے کا نہیں کہا تو اپوزیشن کو بھی ایسے مطالبات کرکے معاملے کو پیچیدہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے، اگر پاناما ایشو پر تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی کا موقف موجودہ قیادت کی مخالفت نہیں بلکہ اصولی تھا تو کیوں اعتزاز احسن اپوزیشن کے متفقہ وکیل بننے میں کامیاب نہ ہوسکے ، اگر پاناما دستاویزات میں اہل خانہ کا نام آ جانا عہدے سے الگ ہونے کا معیار بنا لیا جائے تو اپوزیشن جماعتوں کو سب سے پہلے اپنے ان تمام عہدے داران سے استعفیٰ طلب کرلینا چاہیے جن کے نام پاناما دستاویزات کی زینت ہیں۔میں نے رواں سال کے آغاز جنوری میں اپنے تحریر کردہ مضمون بعنوان “تحریکِ انصاف کی جمہوریت سے ناانصافیاں”میں عمران خان کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا تھا وہ پاناماکیس پرسپریم کورٹ فیصلے کے بعد ردعمل سے مزید واضح ہوگئے ہیں،میں نے ان خدشات کا متعدد مرتبہ اظہار کیا ہے کہ قیاس آرائیوں پر مبنی الزامات کی بناء پرمنتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کی باتوں سے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے جمہوری نظام کو کمزور ثابت کرنا ہے، پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہوئے غیرملکی ایجنڈے کو پروان چڑھانا ہے، بیرونی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین ملک قرار دیے جانے والے پاکستان کا امیج خراب کرنا ہے،یہاں میں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ جمہوری نظام حکومت میں کسی سربراہِ مملکت کااحتساب کوئی معیوب بات نہیں بلکہ ایک نارمل بات سمجھی جاتی ہے۔ انڈیا، اسرائیل، امریکہ سمیت متعدد جمہوری ممالک کے سربراہانِ مملکت نے عدلیہ کے سامنے پیش ہوکر اپنا موقف پیش کیا، مونیکا لیونسکی کیس میں امریکی صدر بل کلنٹن کا اعلیٰ عدلیہ میں پیش ہونا ابھی کل ہی تو بات ہے، کیا امریکی صدرامورِ حکومت چھوڑ کرمستعفیٰ ہوئے ؟پاکستان میں گزشتہ ایک برس کے عرصے میں پاناما کے نان ایشو پراپوزیشن کی بے بنیاد الزام تراشی کرنے کا مقصد میری نظر میں عوام کو جمہوریت اور جمہوری نظام سے بدظن کرنا تھا۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ کرلیا ہے تواپوزیشن کو بھی نکتہ چینی کی بجائے عدلیہ کے فیصلے کے آگے سرتسلیم خم کرلینا چاہیے، اپوزیشن کو چوبیس گھنٹے پاناما پاناما کا راگ الاپے رکھنے کی بجائے حقیقی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، بجٹ تجاویز، غیرمسلموں کو دوہرے ووٹ کا حق، خواتین اور معذور افراد کی بااختیاری، نوجوانوں کیلئے معیاری تعلیم اور روزگاری مواقعوں کی فراہمی ، پاک چین اقتصادی راہداری، پائیدار ترقی اہداف کا حصول جیسے ایسے بیش بہا ایشوز ہیں جو حکومتی ترجیحات میں شامل تو ہیں لیکن اپوزیشن کی طرف سے ریاستی امور میں خلل ڈالنے کی بناء پر متاثر ہورہے ہیں، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو2018 ؁ء کے آئیندہ الیکشن کی تیاری کرنی چاہیے جس میں عوام نے اپنافیصلہ الزام تراشی پر نہیں بلکہ اپنے اپنے صوبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے پر کرنا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جے آئی ٹی صرف وزیراعظم کے اہل خانہ تک ہی محدود نہ رہے بلکہ ان تمام پاکستانی شہریوں کے بارے میں بھی صاف شفاف تحقیقات کا راستہ ہموار کرے جن کے نام پاناما دستاویزات میں موجود ہیں ۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Disaster reduction by Dr Ramesh Kumar Vankwani

Every year on October 13, the world observes the International Day for Natural Disaster Re…