پاکستان کیلئے جان کی بازی یا جاندار پالیسی؟؟ تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

131

پاکستان کیلئے جان کی بازی یا جاندار پالیسی؟؟
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

پاکستان ہمارا ملک ہے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے سیاسی اور ع سکری قیادت کا اتفاق ہے لیکن پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں اس قسم کی باتیں عام ہیں کہ ہم پاکستان کیلئے جان کی بازی لگادیں گے، پاکستان کیلئے جان بھی حاضر ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی جذباتی نعرہ بازی نے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہونے دیا، عالمی برادری حیران ہوتی ہے کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں کے شہری ترقی کیلئے حقیقی جدوجہد کرنے کی بجائے مصنوعی نعرہ بازی سے کام چلاتے ہیں، میں خود سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے بیانات نے پاکستان کو بجائے آگے کی طرف بڑھنے کے پیچھے کی طرف دھکیلا ہے ۔مجھے دنیا کے مختلف ممالک جانے کا موقع ملتا رہتا ہے اور میری توجہ کا مرکز وہاں ہونے والی ترقی کا مشاہدہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک ایک دم سے ترقی یافتہ نہیں ہوئے ، کم و بیش تمام کی تاریخ ایک طویل جدوجہد سے عبارت ہے، جہاں لیڈرشپ کا قومی وژن وہیں ملک دشمن عناصرکی سازشیں اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنا مشترک ہے، پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے ممالک آج دنیا میں ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں، سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ان ممالک نے اپنی ترقی کیلئے شہریوں سے کوئی جانوں کا نذرانہ طلب کیا ؟ میری نظر میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ میرا آج کے اس کالم کا مقصدان عوامل کا جائزہ لینا ہے جسکی بناء پر پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنایا جاسکتا ہے۔ جہاں ایک طرف ہر انسان کی اپنی کہانی ہوتی ہے وہیں عام زندگی میں عقلمندی کا تقاضاسمجھا جاتا ہے کہ کامیاب افراد کے طرز زندگی، اصولوں اور پالیسیوں کا مطالعہ کرکے خود کو بھی ویسا ہی ڈھالنے کی کوشش کی جائے، یہی اصول قوموں کیلئے بھی کارآمد ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک نے اپنی ترقی کا سفر شروع کرتے وقت کسی نہ کسی ترقی یافتہ ملک کے رول ماڈل کو فالو کیا ہے، خطے میں ہمارا عظیم دوست ملک چین ہے جو ہماری آزادی کے دو سال بعد 1949 ؁ء میں آزاد ہوا لیکن آج کا چین ایک ترقی یافتہ اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت گردانا جاتا ہے، چین نے اپنی آزادی کے بعد اپنے وقت کی سپر پاور اور ہمسایہ ملک سویت یونین کی اقتصادی پالیسیوں کی بنیاد پر قومی ترقی کا سفر شروع کیا،اسی طرح ایک اور دوست اسلامی ملک ملائشیا نے بھی قومی ترقی کا سفر ہمارے بعد شروع کیا جو آج ایک مضبوط اقتصادی طاقت ہے،میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے دوست ممالک کے سفرترقی کا مطالعہ کرتے ہوئے چین اور ملائشیا کو اپنا ترقی کا روڈ میپ بنانے کی ضرورت ہے۔ چین کی بے مثال ترقی کے پیچھے مخلص چینی قیادت کا قومی وژن ، پے در پے ناکامیوں کے بعد کامیابی کے حصول کیلئے جدوجہد، قدرتی آفات کا مردانہ وارسامنا کرنا، بیرونی تنازعات سے حتی الامکان بچنا اور چینی قوم کی انتھک محنت کارفرما ہے، دوسری جنگ عظیم نے چین کو شدید تباہ حال کردیا تھا، ایسے حالات میں جب 1949 ؁ء میں چیئرمین ماؤزے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ لانگ مارچ کے نتیجے میں برسراقتدار آتی ہے تو پہلی ترجیح تباہ حال معیشت کی بحالی قرار دی جاتی ہے ، حکومت چین کا مقصد طویل المدتی اقتصادی اہداف کے حصول کیلئے ملک کو ایک جدید، ترقی یافتہ، سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کرنا ہوتا ہے جہاں صنعتی شعبے میں ترقی کرتے ہوئے عوام کیلئے روزگاری مواقعوں کی فراہمی، معیارِ زندگی میں بہتری، سماجی حیثیت میں برابری اور دفاع کو مستحکم کرنا یقینی بنایا جاسکے۔اس حوالے سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ آزادی کے پہلے تین سال معیشت کی بحالی کیلئے ذرائع ابلاغ اور نقل و حرکت پر خصوصی توجہ دی گئی جبکہ پہلا قومی پانچ سالہ پلان برائے 1953-57 ؁ء پیش کرتے ہوئے سویت یونین کااقتصادی ماڈل مدنظر رکھا گیا جس میں موثر اقتصادی ترقی کیلئے انڈسٹریل گروتھ اور سوشلائزیشن پر خصوصی توجہ دی گئی تھی ۔ زرعی اور صنعتی شعبے میں عدمِ توازن اور غیرحوصلہ بخش نتائج کی بناء پر جلد ہی ماؤزے تنگ اور زیرک چینی قیادت بھانپ گئی کہ سویت یونین کاسینٹرلائزڈ اقتصادی ماڈل چین میں قابلِ عمل نہیں جسکی بناء پر 1957 ؁ء میں دستبرداری اختیار کرکے ایک اور گریٹ لیپ فارورڈ مہم کا آغازکیا جاتا ہے، 1960 ؁ء تک جاری رہنے والی اس مہم میں معاشی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے زرعی سے صنعتی شعبوں کی طرف منتقلی کا عمل شروع کیا گیا، بدقسمتی سے ان حکومتی اقدامات کا نتیجہ ایک ایسے ہولناک قحط کی صورت میں نکلا جس میں سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 15ملین افراد لقمہ اجل بنے ۔ ان بدترین حالات میں بھی چینی حکومت نے حوصلہ نہ ہارا اور 1961میں ایگریکلچر فرسٹ سب سے پہلے زراعت پر مبنی قومی پالیسی جاری کردی۔ دوسری طرف 1962 ؁ء میں چین کو بھارت کی جانب سے متنازعہ علاقے تبت میں مداخلت کی بناء پر جنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن پیش قدمی کے باوجود نومبر1962 ؁ء میں چینی حکومت سیزفائر کا اعلان کرتے ہوئے علاقے سے فوجیں نکال کر اپنے عوام کی مشکلات دور کرنے میں مصروف عمل ہوجاتی ہے۔اسی طرح عوام کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے 1966-76 ؁ء پر محیط دس سالہ کلچرل ریوولیشن ثقافتی انقلاب کو بھی معاشرتی انتشار کی بناء پر بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑ گیا، بعد ازاں،ماؤزے تنگ کی وفات کے بعدچین کی اگلی قیادت ڈینگ شیاؤپنگ نے ملک کو چین کو قدامت پسندی سے جدیدیت کی راہ پر گامزن کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا، عالمی برادری سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ماضی کی فرسودہ پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے وسیع پیمانے پرعالمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی اصلاحات نافذ کی گئیں، یونیورسٹیاں اور تعلیمی درسگاہیں پھر سے کھل گئیں، ریسرچ اور جدید تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی، بیرونی تجارت کیلئے حکمت عملی وضع کی گئی، عالمی برادری سے تعلقات استوار کرنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے گئے،ملکی ترقی کیلئے ناگزیر فارن ٹیکنالوجی اور مشینری امپورٹ کی گئی۔انہی ایام میں 1976 ؁ء میں چین کو بیسویں صدی کے سب سے ہولناک زلزلے کا بھی سامنا کرنا پڑجاتا ہے جس میں سرکاری ذرائع کے ابتدائی تخمینے کے مطابق 6لاکھ55ہزار شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ آج جہاں ساری دنیا موجودہ چینی صدر شی چن پنگ کی قیادت میں چین کوبطور ناقابل شکست معاشی طاقت تسلیم کرنے پر مجبورہے وہیں ہم پاکستانیوں کیلئے یہ سبق ہے کہ ہمارے عظیم دوست ملک چین کی ماضی کی ناکام پالیسیوں پر بروقت نظرثانی نے آج کے کامیاب چین کی راہ ہموار کی ہیں، دوسری طرف چین کے ترقی و خوشحالی کے سفر میں نمایاں کردار بیرونی تنازعات سے کنارہ کشی کرتے ہوئے چینی عوام کی اقتصادی ترقی کو اولین ترجیح قرار دینا بھی تھا، چین نے باوجود عالمی طاقت ہونے کے بیشتر جنگی اور عالمی تنازعات کے موقع پر صبر و تحمل سے کام لیا، تبت تنازعے پر خود سیزفائر کرتے ہوئے واپسی کا راستہ اختیار کیا، ہانگ کانگ اور مکاؤ کی عالمی سامراج سے پرامن واپسی کیلئے مناسب وقت کا انتظار کرتے ہوئے کسی قسم کی عسکری طاقت کا استعمال نہیں کیا، دنیا کے تمام ممالک بشمول بھارت، جاپان اور تائیوان سے مخالفت کے باوجود تجارتی تعلقات قائم رکھے، تائیوان کو اپنا باغی صوبہ تو قرار دیا لیکن ترک تعلق نہیں کیا،عوام کی آمد و رفت اور تجارت کیلئے تائیوان میں بسنے والوں کیلئے خصوصی اجازت نامے کا اجراء کیا، اقوام متحدہ میں شام کے تنازعے میں روس اور امریکہ کے مابین ہونے والی حالیہ بدمزگی کے موقع پر قرارداد کی مخالفت یا حمایت سے اجتناب کرکے امن دوستی کا ثبوت دیا۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہم بھی اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں، نعرہ بازی کی جذباتی فضاء اور الزام تراشی پر مبنی نفرت انگیزسیاست کو ترک کرکے اپنی توانائیاں ملک و قوم کی بہتری کیلئے وقف کردیں، پاکستان کو ہماری جان کی نہیں بلکہ جاندار پالیسیوں کے نفاذ کی ضرورت ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

The News International (21 July, 2017)