پائیدار ترقی اہداف(ایس ڈی جیز) تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

73

پائیدار ترقی اہداف(ایس ڈی جیز)
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

رواں صدی کے آغاز میں اقوام متحدہ نے اپنے تاریخی میلینئم سمٹ اجلاس میں دنیا بھر میں ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پندرہ برسوں پر محیط ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز(ایم ڈی جیز) مقررکیے تھے ،ایم ڈی جیز میں 2015 ؁ء تک غربت و بھوک کا خاتمہ، پرائمری تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانا، صنفی امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی،نوزائیدہ بچوں کی اموات میں کمی، زچہ و بچہ کی صحت، ایچ آئی وی ایڈز، ملیریا جیسے موزی امراض کا مقابلہ، ماحولیاتی تحفظ اور ترقیاتی مقاصد کیلئے عالمی شراکت کاری کو مستحکم کرنا شامل تھے، اجلاس میں پاکستان سمیت دنیا کے 193 ممالک اور23 بین الاقوامی تنظیموں نے ترقیاتی ترجیحات کے تعین کے اس عہدنامے پر دستخط کیے ، یوں تو ایم ڈی جیز اپنی مدتِ اختتام کے موقع پر پوری دنیامیں ہی ناکامی سے دوچار ہوگئے لیکن پاکستان میں سرے سے ایم ڈی جیز کے اہداف کے حصول کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، پاکستان میں ناکامی کی بنیادی وجوہات میں ڈکٹیٹر حکومت کی عدم توجہی، سیاسی عدم استحکام، منصوبہ بندی کا فقدان اورملک میں دہشت گردی کا عروج سرفہرست قرار دیے جاسکتے ہیں، ایک اور اہم وجہ ایم ڈی جیز کو غیرملکی ایجنڈا سمجھتے ہوئے مقامی سطع پر قبول نہ کیا جانا بھی تھا۔ ملینیئم ڈویلپمنٹ گولزکی مدتِ اختتام کے بعد اقوامِ متحدہ نے ایم ڈی جیز کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے سترہ اہداف پر مشتمل سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز یعنی پائیدار ترقیاتی اہداف کی ڈیڈ لائن2030 ؁ٗ ؁ء مقرر کی توخوش قسمتی سے پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں عوام کی منتخب جمہوری حکومت برسراقتدار تھی جس نے نئے متعارف کردہ اہداف کو قومی ترقی کا ایجنڈا قرار دیکر تیزی سے کام شروع کردیا، اقوام متحدہ میں ایس ڈی جیز کی تقریب رونمائی سے ایک برس قبل حکومت پاکستان نے وژن 2025کے تحت ملک کو ایشیائی ٹائیگربنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا، پائیدار ترقی اہداف ملکی ترقی کے روڈمیپ وژن 2025 کے عین مطابق قرار دیے گئے ہیں اور ایس ڈی جیز ایجنڈے کے حصول کیلئے وفاقی بجٹ سے35 بلین روپے خرچ کیے جا رہے ہیں ۔پہلے مرحلے میں حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کے اشتراک سے وفاقی و صوبائی سطع پر ایس ڈی جیز سپورٹ یونٹس کے قیام کی منظوری دی جسکا مقصداہداف کے حصول کیلئے اٹھارویں ترمیم کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی، اقتصادیت اور شماریات سے متعلقہ سرکاری وزارتوں اور محکموں کے مابین تعاون کو فروغ دینا ہے۔ کوآرڈینیشن مکینزم وضع کرتے ہوئے وفاقی سطع پر پلاننگ کمیشن میں ایس ڈی جی یونٹ جبکہ صوبائی سطع پر متعلقہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیوژن میں ایس ڈی جی یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے علاوہ صوبائی سطع پربھی مختلف شعبوں کے مابین آرڈینیشن کو یقینی بنایا گیا ہے، اس حوالے سے موجودہ دورِحکومت میں وفاقی کیبنٹ کمیٹی،صوبائی کیبنٹ کمیٹی اور پارلیمانی سیکرٹریٹ برائے ایس ڈی جیزکا قیام عمل میں لایا گیا، وزیراعظم نواز شریف نے پرائم منسٹر ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جیز کا بھی اعلان کیاہے، حکومتِ پاکستان کی طرف سے ملک میں پائیدار ترقی اہداف کے حصول کیلئے جو حکمت عملی تیار کی گئی اس میں پلاننگ اور بجٹ کو ایس ڈی جیز کے مطابق تیار کرنا، ڈیٹا کی مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور نتائج طریقہ کار میں بہتری لانا ،ایس ڈی جیز ایجنڈا 2030کے مطابق فنانسنگ کو یقینی بناتے ہوئے جدت لانا ہے۔ میری معلومات کے مطابق ایس ڈی جیز کے نفاذ میں جو مشکلات درپیش ہیں ان میں سب سے اہم ترین معلومات کا فقدان ہے، مختلف ادارے اپنی آسانی کیلئے مختلف طریقوں سے ڈیٹا کا اندراج کرنے میں مصروف عمل ہیں، کہیں ڈیٹا باقاعدگی سے دستیاب ہے تو کہیں ڈیٹا دستیاب ہے لیکن باقاعدگی سے نہیں اور کہیں نہ تو ڈیٹا دستیاب ہے اور نہ ہی باقاعدگی کا کوئی تصور ہے، اسی طرح اقوامِ متحدہ نے جو انڈیکٹر بیان کیے ہیں انکو مقامی سطع پر لاگو کرنے کیلئے لوکلائزیشن کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہے۔ موجودہ حکومت نے ایم ڈی جیز کی ناکامی سے جو سبق حاصل کیا ہے وہ پندرہ سالہ لانگ ٹرم حکمت عملی کے ساتھ ساتھ شارٹ ٹرم حکمت عملی بھی وضع کرنا ہے تاکہ پائیدار ترقی اہداف کی جانب گامزن سفر پر پیشرفت کا جائزہ لیا جاسکے،یو این ڈی پی کے تعاون سے تین سال کے دورانئے پر پنجاب ایس ڈی جیز اسپورٹ پروجیکٹ کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یقینی بناتے ہوئے جوفریم ورک وضع کیا گیا ہے ان میں ہیلتھ، ایجوکیشن،اسکل ڈویلپمنٹ، اربن ڈویلپمنٹ اورایگریکلچر سمیت دیگر شعبوں میں بہتری لاتے ہوئے 2018 ؁ء تک پنجاب میں 8فیصد اکنامک گروتھ ریٹ کا حصول، صوبے میں پرائیویٹ سیکٹر کی سالانہ سرمایہ کاری کو ساڑھے سترہ بلین امریکی ڈالرز، ہر سال ایک ملین روزگاری مواقعوں کو یقینی بنانا، 2ملین کی تعداد میں گریجویٹس کو مختلف ہنروں میں تربیت کی فراہمی، سالانہ ایکسپورٹ میں پندرہ فیصد اضافہ اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بناتے ہوئے جرائم پر قابو پانا شامل ہے، اسی طرز پر صوبہ سندھ میں ایس ڈی جیز اسپورٹ پروجیکٹ کیلئے پچاس فیصدی مالی معانت یو این ڈی پی نے فراہم کی ہے جبکہ اٹھارویں ترمیم کے تحت دیگر صوبوں کو بھی ایس ڈی جیزکے حصول کیلئے ایسا ہی طریقہ کاراختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ پاکستان میں پائیدار ترقی اہداف کے سفر کا جائزہ لیا جائے توا یس ڈی جیز کوپاکستان وژن 2025میں ڈھالنا، ایس ڈی جیز کو بطور پاکستان ڈویلپمنٹ گولز قبول کرنا، ایس ڈی جیز ایجنڈا 2030کے تحت قومی پروگرام کا اجراء، پارلیمنٹ میں متفقہ قرارداد کی منظوری سے پائیدار ترقی اہداف کو قومی ترقی اہداف کا ایجنڈا قرار دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹریٹ برائے ایس ڈی جیز کا قیام، پنجاب سندھ سمیت صوبائی اور وفاقی سطع پر پلاننگ کمیشن میں ایس ڈی جیز اسپورٹ یونٹ کا قیام اہم ترین پیش رفت قرار دی جا سکتی ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ عملی طور پر کامیابیوں کے حصول کیلئے ہمیں ڈرائنگ روم اور فائیو سٹار ہوٹلز سے باہر آکر عوا م کو اس جدوجہد میں شامل کرنا ہوگا، عوام کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ یہ ترقی کا ایجنڈا عوام کا اپنا ایجنڈا ہے،اس حوالے سے ایس ڈی جیز اسپورٹ یونٹ کو صوبائی یونٹس کے اشتراک سے پائیدار ترقی اہداف پر پیش رفت سے عوام کو باقاعدگی سے آگاہ کرنا چاہیے اور آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے لیکن اب تک ایس ڈی جیز یونٹس سے متعلق ایک مخصوص ویب سائٹ تو دور کی بات متعلقہ وزارتوں محکموں میں اس حوالے سے ایک ویب پیج بھی دستیاب نہیں جسکی بناء پر ایس ڈی جیز یونٹس سے متعلق پراسراریت میں اضافہ ہورہا ہے، دوسری طرف یو این ڈی پی کو بھی اس عوامی تاثر کی نفی کرنی ہوگی کہ غیرملکی امداد عام طور پر سرکاری اداروں کو بطور رشوت غیرملکی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کیلئے فراہم کی جاتی ہے ، ایس ڈی جی یونٹس کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے افرادکی تعنیاتی بغیر کسی سیاسی دباؤ کے خالصتاً میرٹ پر کی جائیں اور ان کے مکمل سی وی بمعہ تعلیمی و پیشہ ورانہ قابلیت ویب سائٹ پر دستیاب ہوں، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم اہداف کے حصول کیلئے روڈ میپ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جائے،انڈیکیٹرز کی نشاندہی کیلئے ایمانداری سے صحیح ڈیٹا استعمال کرکے درست نتائج سے عوام کو باخبر رکھا جائے ، ڈیٹا کے یکساں اندراج کیلئے ایک قابل فہم اسٹینڈرڈ کی تیاری ایس ڈی جیز یونٹ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ عوامی سطع پر شعور اجاگر کرنے کیلئے ایک بھرپور آگاہی مہم بھی وقت کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں میرا ارادہ ہے کہ ملک وقوم کی بہتری کیلئے ایس ڈی جیز کے سترہ اہداف پر پاکستان میں پیش رفت پر وقتً فوقتاً عوام کو آگاہی اپنا قومی فریضہ سمجھ کر فراہم کروں۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Daily Jang (22 June, 2017)