عظیم فلسفی چانکیہ جی کے نام تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

180

عظیم فلسفی چانکیہ جی کے نام
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی

یہ نظام قدرت ہے کہ مختلف ادوار میں ایسے ذہین و فطین لوگ جنم لیتے رہے جنہوں نے بنی نوع انسانوں کے لئے بڑی ہی دانائی کی باتیں رقم کیں، سالہاسال کے تجربوں کا نچوڑیہ تعلیمات کتابی شکل میں ہزار ہا سالوں سے محفوظ چلتی چلی آ رہی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ دانااور فلسفی لوگ قدرت کا انمول تحفہ ہوتے ہیں اورتاریخ گواہ ہے کہ جن علم دوست انسانوں نے ان فلسفیوں کے علم و تجربے سے استفادہ کیا وہ زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہوگئے۔دورجدید میں علم سیاسیات یا پولیٹیکل سائنس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں،اس حوالے سے ارسطو، افلاطون، کنفیوشس اورمیچی ویلی کی فلسفیانہ تعلیمات کو بہت شہرت حاصل رہی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانہ قدیم میں موجودہ پاکستان کے تاریخی شہر ٹیکسلا میں ایک ایسا فلسفی پیدا ہوا جس کاتاحال کوئی ثانی سامنے نہیں آسکا ہے اوراس فلسفی کا نام چانکیہ ہے جس نے ایک کنیز زادے چندرگپت موریا کواپنی دانائی و حکمت کے ناقابلِ شکست ہتھیاروں سے لیس کرکے ہندوستان کی عظیم الشان موریا سلطنت کا بانی بنا دیا،اس زمانے میں جب آدھی دنیایونانی فاتح سکندراعظم کے گھوڑوں کے آگے سرنگوں تھی، چانکیہ جی کی سیاسی راہنمائی میں چندر گپت موریا ہندوستان کے طول و عرض میں بکھرے راجوا ڑوں کو متحد کرکے یونانی افواج کو شکستِ فاش دیکر تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں۔ مورخین کے مطابق چانکیہ جی، جو کوٹلیا اور وشنو گپت کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کی پیدائش 371قبل مسیح کے عرصہ میں ٹیکسلا میں ہوئی اور انہوں نے ٹیکسلا ہی میں ساری زندگی گزاردی، ٹیکسلا ہی میں اپنی فلسفیانہ کتاب ارتھ شاستر تحریر کی جس کی روشنی میں چانکیہ جی نے عملی طور پر ثابت کیاکہ دنیامیں کامیابی کا حصول ناممکن نہیں ،یہی وجہ ہے کہ آج دورجدید میں بھی چانکیہ جی کی تعلیمات کا بول بالاہے،حیرت انگیز طور پر چانکیہ جی کی شہرہ آفاق تصنیف میں انسانی معاشرے کے تمام تر شعبوں کو زیرقلم لایا گیا ہے ، یہ لازوال کتاب اس وقت تحریر کی گئی جب دنیا تاریکی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، ارتھ شاستر میں چانکیہ جی نے علوم و فنون، معیشت، ازدواجیات، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسم و رواج، توہمات، ادویات، فوجی مہمات، سیاسی و غیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر موضوع پر اپنی دانائی کے موتی بکھیرے ہیں۔فارغ اوقات میں چانکیہ جی کی یہ عظیم کتاب ارتھ شاستر میرے زیرمطالعہ بھی رہتی ہے جسکے چند اقتباسات پیش کرنا چاہوں گا۔کسی شخص کو بے حد ایماندار ہرگز نہ ہونا چاہیے، سیدھے اگے ہوئے درخت کو پہلے کاٹ ڈالا جاتا ہے، اسی لئے بے حد ایماندار افراد کا پہلے قلع قمع کر دیا جاتا ہے۔اگر سانپ زہریلا نہ بھی ہو تو فطرتاً وہ زہریلا پن ظاہر کرتا ہے۔سب سے بڑا گرو منترا یہ ہے کہ اپنے راز کبھی بھی کسی سے شیئر نہیں کرنے چاہئیں، اگر راز شیئر کئے گئے تو تباہی لازمی ہے۔ہر دوستی کی پشت پر لازماً سیلف انٹرسٹ ہوتا ہے، کوئی دوستی سیلف انٹرسٹ کے بغیر نہیں ہوا کرتی، یہی زندگی کی تلخ حقیقت ہے۔ہر کام شروع کرنے سے پہلے اپنے آپ سے تین سوال کرنا ضروری ہیں، میں یہ کام کیوں کر رہا ہوں؟ اس کے کیا نتائج ہوں گے؟کیا میں اس کام میں کامیاب ہوں گا؟ تینوں سوالات کے جوابات کے بارے میں دانائی کے ساتھ غور و فکر کیا جائے، اس کے بعد جوش خروش کے ساتھ کام کو سرانجام دیا جائے، جب کوئی کام شروع کر دیا جائے توناکامی کا تصور بھلا دیا جائے، دلجمعی کے ساتھ کام سرانجام دینے والے ہمیشہ کامیاب و کامران ہوتے ہیں۔جیسے ہی خوف قریب تر آ جائے حملہ کر کے مار ڈالا جائے۔ انسان کی عظمت اس کی پیدائش میں نہیں بلکہ کارکردگی میں ہوتی ہے۔جوان اولاد بہترین دوست ثابت ہوتی ہے۔کتابیں جاہل کے لئے ویسے ہی کارآمد ہوتی ہیں جیسے نابینا کے لئے آئینہ۔ تعلیم بہترین دوست ہوتی ہے۔تعلیم یافتہ شخص کی عزت ہر جگہ کی جاتی ہے۔ تعلیم حسن اور جوانی کو مات دیتی ہے۔افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج پاکستان نے ایسی کارآمد تعلیمات دینے والے چانکیہ جی کو برہمن گردانتے ہوئے اپنے عظیم سپوت سے رشتہ توڑ لیا ہے،میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں بسنے والوں کے سامنے چانکیہ جی کوعیاری و مکاری سے منسلک کرکے بطور منفی شخصیت کے پیش کرنااپنی ہی تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا کے لیے چانکیہ جی اتنے مہان عظیم مدبر اور اعلیٰ شخصیت ہیں کہ نہ صرف انکا نام پولیٹکل سائنس کے بانیوں افلاطون اور ارسطو کے ساتھ لیا جاتا ہے بلکہ محقیق انہیں آدم سمتھ کی کلاسیکی اکانومی سے پہلے کے دور کی عظیم ترین ماہرمعیشت قرار دیتے ہیں، چانکیہ جی کی قائم کردہ ٹیکسلا یونیورسٹی کو دنیا کی قدیم ترین درسگاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔دوسری طرف بھارت نے لمحہ ضائع کئے بغیر چانکیہ جی کو اپنا قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے چانکیہ اکیڈمی کے نام سے ایک ایسا انسٹیٹیوٹ قائم کر دیاہے جس میں تمام ریٹائرڈ جرنیل اور دیگر دانشور ہمہ تن مصروف ریسرچ رہتے ہوئے اپنے ملک کو عظیم تر بنانے کے منصوبے تیار کرتے ہیں،علاوہ ازیں تقسیم ہند کے بعد چانکیہ جی کی سفارتی محاذ پر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے دارالحکومت نئی دہلی میں قائم ڈپلومیٹو انکلیو کو چانکیہ پوری کا نام دے دیا گیا ، امریکی چیف جسٹس ارل وارن نے امریکی سفارت خانے کا سنگ بنیادچانکیہ پوری میں رکھتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کے پاس حضرت مسیح کی ولادت سے تین سو سال پہلے ایک ایسا عظیم دانشور تھا جس نے آگاہ کیا کہ ایک حکمران ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اپنی رعایا کو کسی صورت ناخوش نہیں کرسکتا اور اسے ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے اس کے عوام اسے ناپسند کرنے لگیں۔ برحق یہ ہے کہ چانکیہ ایک عظیم فلسفی تھا جس نے اپنی عظیم کتاب ارتھ شاستر میں تمام انسانوں کو عملی زندگی میں کام آنے والی تعلیمات سے روشناس کروایا، ہر چند کہ یہ کتاب سنسکرت زبان میں تحریر کی گئی تھی لیکن اس کے تراجم انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں کئے جا چکے ہیں جس میں اردو بھی شامل ہے،چانکیہ کی کتاب ارتھ شاسترکے تین بنیادی حصے انتظامیہ، ضابطہ قانون و انصاف، اور خارجہ پالیسی امور پر مشتمل ہیں لیکن ہم نے چانکیہ جی کوسیاسی داؤپیچ، خارجہ پالیسی اور دشمن کے عزائم سے آگاہ رہنے کیلئے جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کرنے کے طریقے سکھانے کی وجہ سے نفرت کی علامت بناتے وقت یہ نہیں سوچا کہ یہ حربے ہردور میں ہر ریاست اختیار کرتی آرہی ہے، جن میں ماضی کی مسلمان خلافتیں بھی شامل ہیں اور عصرحاضر کے جدید ممالک بھی۔میں سمجھتا ہوں کہ آج ہمیں اپنی تاریخ کے عظیم سپوت سے وابستہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ٹیکسلا میں چانکیہ جی کے نام سے منسوب ایک ایسی عالمی معیار کی یونیورسٹی قائم کرنی چاہیے جو سیاسیات اور عمرانیات کے علوم کے فروغ کیلئے مخصوص ہو،چانکیہ جی کے شہر ٹیکسلا میں انٹرنیشنل چانکیہ یونیورسٹی فار پولیٹیکل اینڈ سوشل سائنسز کے دروازے دنیا بھر سے علم کے پیاسے طالب علموں کیلئے کھولنے سے پاکستان کامذہبی تعصب سے پاک علم دوست مثبت امیج بھی عالمی سطع پر اجاگر ہوگا۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Beyond Crisis by Dr Ramesh Kumar Vankwani

There is much being said in the media about PIA as it is suffering from a severe crisis. T…