آدم شماری مہم سے خوفزدہ کیوں؟ تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

166

آدم شماری مہم سے خوفزدہ کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی ، ممبر قومی اسمبلی( مسلم لیگ ن)، سرپرستِ اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل

چھٹی قومی آدم شماری مہم ملک بھر میں زوروشور سے جاری ہے،توقع کی جارہی ہے کہ انیس سال کے طویل عرصے کے بعد حالیہ آدم شماری کی بدولت آبادی کادرست تعین کیا جاسکے گاجو مستقبل میں قومی ترقی کی پلاننگ میں سودمند ثابت ہوگا۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہر تیسرے سال خانہ شماری اور ہر دس سال بعد آدم شماری کا انعقاد باقاعدگی سے کروایا جاتا ہے اور آجکل انٹرنیٹ کے دور میں یہ کوئی مشکل کام نہیں رہا لیکن پاکستان میں آدم شماری کی تاریخ ہمیشہ سے مختلف عناصر کے مابین تناؤ کا باعث بنی رہی ہے جسکی بنیادی وجہ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کو نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ(این ایف سی ایوارڈ) کی بدولت کرانا ہے،قیامِ پاکستان کے بعد وسائل کی تقسیم کیلئے رقبے کو معیار بنایا گیا جس پر مشرقی پاکستان (حالیہ بنگلہ دیش ) کو زیادہ آبادی لیکن کم رقبہ ہونے کی بناء پر شکوہ رہا، 1971 ؁ء کے بعد مغربی پاکستان کے چاروں صوبے بحال ہوئے تو رقبے کی بجائے آبادی کا کلیہ نافذ کردیا گیا تو آدم شماری کی ملکی سیاست میں اہمیت بہت بڑھ گئی،ہر صوبے کی نظر آدم شماری کے نتائج پر مرکوز ہوگئیں، مختلف لسانی و صوبائی گروہوں نے اپنے افراد کی تعداد میں اضافے کو ترقی کا زینہ سمجھ کر من پسند نتائج کیلئے جائز و ناجائز حربہ اختیار کرنا شروع کیا تو دوسری طرف غیر مسلم آبادی کو کم سے کم ظاہر کرکے انہیں قومی دھارے سے دور رکھنے کی سازشیں بھی کی گئیں۔لمحہ فکریہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت غیرمسلم پاکستانیوں کی تعداد 23فیصد تھی جو 1998 ؁ء کی گزشتہ آدم شماری میں کم ہوکر 6 فیصد رہ گئی، 1951 ؁ء میں ہونے والی پہلی قومی آدم شماری نتائج کے مطابق پاکستان ہندوآبادی 12.9فیصد ہونے کی بناء پر دنیا کا دوسرا بڑا ہندو آبادی والا ملک تھا،پاکستان ہندوکونسل ملک میں جاری آدم شماری مہم کا خیرمقدم کرتی ہے لیکن آدم شماری فارم میں ہندو کمیونٹی کو ہندو اور شیڈولڈ کاسٹ میں الگ الگ اندراج سے یہی نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور ہے کہ اس اقدام کا مقصد ہندو آبادی کی تعداد کودو حصوں میں تقسیم کرکے کم ظاہر کرنا ہے جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہندو کمیونٹی غیرمسلم پاکستانیوں میں پچاس فیصد ووٹ بینک ہونے کی بناء پرسب سے بڑی اکثریت ہے، غیرمسلم پاکستانیوں کے حقوق کے موثر تحفظ کیلئے انکی درست تعداد کا ادراک ہونا اشد ضروری ہے، اس طرح دیگر حلقوں کی جانب سے بھی آدم شماری میں من پسند نتائج مرتب کرنے کے خدشات کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے ۔ قومی آدم شماری کا ہر دس سال بعدباقاعدگی سے انعقاد ہونا آئینی تقاضا ہے لیکن ماضی میں آدم شماری کے انعقاد میں بھی روڑے اٹکائے جاتے رہے ہیں۔1991 ؁ء کی آدم شماری ملک میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئی، 1998 ؁ء میں وزیراعظم نواز شریف صاحب کی زیرقیادت مسلم لیگ (ن)حکومت نے پانچویں قومی آدم شماری کا انعقادکروایا لیکن بدقسمتی سے اگلے برس ہی ملک کوآمریت کے شکنجے میں جکڑ کرآدم شماری نتائج کے ثمرات سے محروم کردیا گیا ، اگلی آدم شماری کو 2008 ؁ء میں منعقد کروایا جانا اس وقت کی پیپلزپارٹی حکومت کی آئینی ذمہ داری تھی جو وہ پورا کرنے سے قاصر رہی ۔اب جبکہ حالیہ آدم شماری مہم کے انعقاد کا اعزاز بھی دوسری مرتبہ مسلم لیگ (ن) کوہی حاصل ہوا ہے تو موجودہ حکومت کو ایسے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے جن کی بدولت صاف و شفاف نتائج سب کیلئے قابلِ قبول ہوں۔ میرے خیال میں آدم شماری کرتے وقت ان تمام افراد کا اندراج کیا جانا چاہیے جو پاکستان میں بس رہے ہیں، اگر کسی نے دوسرے صوبے میں قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے گھر جائیداد بنا لی ہے تو اسکا بھی صوبے کے وسائل پرایسے ہی حق ہونا چاہیے جیسا وہاں کے مقامی افراد کا، اس حوالے سے بالخصوص بلوچستان کی جائز شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے مقامی قیادت کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ صوبہ سندھ کی سیاست میں شہری اور دیہی تقسیم کی کلیدی اہمیت رہی ہے لیکن گزشتہ انیس برسوں میں مہاجر اکثریتی شہر کراچی میں دیگر قومیتوں کے افراد بھی کثیر تعداد میں آباد ہوئے ہیں، دیہاتوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے مستقبل قریب میں سندھ کی انتخابی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے ، اسی طرح پاکستان کی تقریباً ساٹھ فی صد آبادی پر مشتمل صوبہ پنجاب میں پنجابی کے علاوہ سرائیکی، پوٹھوہاری، ہندکو اور دیگر زبانیں بولنے والے بھی مستقبل کے سیاسی منظرنامے میں اپنی اہمیت منوانے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں، ملک کے تمام شہریوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے انتظامی اور علاقائی امور میں تبدیلیاں بھی وقت کا تقاضا ہیں جسکی بناء پرنئے صوبوں کے قیام کو بھی زیرغورلایاجاسکتاہے، فاٹا کے صوبہ خیبرپختونخواہ میں انضمام سے علاقے کی پسماندگی دورہونے کے ساتھ سیاسی شعوربیدار ہونے کی توقع ہے ، اب ہمیں عرصہ دراز سے پاکستان میں مقیم افغان اور دیگر باشندوں کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کوئی دیرپا پالیسی بھی وضح کرلینی چاہیے۔ آدم شماری نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں مستقبل میں اپنے انتخابی حلقوں کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت بھی محسوس ہوگی، موجودہ پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ میں کوئی ایم این اے پانچ ہزار ووٹ لیکر آتا ہے تو کوئی ایک لاکھ ووٹ لیکر جبکہ غیرمسلم پاکستانوں کی پارلیمنٹ میں رسائی مختلف سیاسی جماعتوں کی ذاتی پسند ناپسند سے مشروط ہے، میرے خیال میں جب ملکی آبادی میں اضافہ لامحالہ طور پر نئے انتخابی حلقوں کی ضرورت اجاگر کرے گا تو ہمیں جمہوریت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم پندرہ انتخابی حلقے غیرمسلموں کیلئے مختص کردینے چاہیے جہاں غیرمسلم پاکستانی دہرے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے اپنے حقیقی نمائندوں کا چناؤ کرسکیں ۔غیرمسلم پاکستانیوں اور چھوٹے صوبوں کی احساس محرومی کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب آدم شماری کے نتائج قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ایمانداری سے مرتب کیے جائیں اور ایسا کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے انتشار کا شکار معاشرہ مزید بے چینی کا شکار ہو۔جہاں ایک طرف عوام کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ برق رفتار انٹرنیٹ، سوشل میڈیا،پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور آزاد عدلیہ کی موجودگی میں اب وہ زمانہ نہیں رہا جب حکومتیں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے آدم شماری نتائج میں آسانی سے ردوبدل کرلیا کرتی تھیں ، وہیں حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ تمام طبقات کی مشاورت سے ایک ایسی قابل قبول آدم شماری کا انعقادکروائے جسکی بدولت ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بناکر سماجی انصاف کا بول بالا کیا جاسکے۔دوسری طرف مخصوص لسانی و صوبائی کارڈ کا استعمال کرنے والی جماعتوں کوبھی چاہیے کہ وہ ملکی وسائل پر قابض ہونے کیلئے ماضی کے فرسودہ ہتھکنڈوں کو خیربادکہتے ہوئے آدم شماری مہم کو کامیاب بنانے میں تعاون کریں ، آدم شماری نتائج سے خوفزدہ ہونے کی بجائے درست اعدادوشمار کی فراہمی یقینی بنانا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Together For Peace by Dr Ramesh Kumar Vankwani

At a time when the international community is in panic mode due to North Korea’s recent mi…