شراب کا گھناؤنا دھندہ غیرمسلموں کے نام پر کرنا توہین آمیز ہے، پاکستان ہندو کونسل

138

اسلام آباد / کراچی (8اکتوبر2014ء): پاکستان میں ہندو برادری کی ملک گیر نمائندہ تنظیم پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی ایم این اے نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لاء ، جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے اجلاس میں غیرمسلموں کے نام پر شراب کی خرید و فروخت پر پابندی کا بل مسترد کیے جانے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں ہندو کمیونٹی کے نمائندے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی اور عیسائی کمیونٹی کی نمائندہ آسیہ ناصر کی جانب سے قائمہ کمیٹی میں شراب کے دھندے کے حوالے سے مشترکہ طور پر بل پیش کیا گیاتھا، اقلیتی ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار نے ہندو دھرم کی مذہبی کتاب شری مد بھگواتھ پرن کے اشکنڈ دوسرا، آدھیا سترہ، شلوک اڑتیس، انتالیس، چالیس، اکتالیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندو دھرم میں شراب ممنوع ہے ، خاص طور پر نیتاؤں لیڈران کوتو کسی صورت شراب پینا جائز نہیں۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں شراب و فروخت کیلئے ہندو دھرم اور دیگر مذاہب کا نام استعمال کیا جاتا ہے جوکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی سراسر توہین ہے، ڈاکٹر رمیش نے کمیٹی کے سربراہ چوہدری محمود بشیر ورک سے بل پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم ہندو دھرم کو شراب کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث نہ کیا جائے، غیرمسلموں کے نام پر شراب کے کاروبارپرمکمل پابندی لگائی جائے، اگر شراب واقعی کوئی سودمند چیز ہے تو پھر صرف غیرمسلموں ہی کیلئے نہیں بلکہ سب کو بلاتفریق مذہب کاروبار کی اجازت ہو۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی اور جمعیت علمائے اسلام کی اقلیتی خاتون ایم این اے آسیہ ناصر کی جانب سے پیش کردہ شراب کے دھندے کے خلاف بل رواں ماہ 2اکتوبر کو قائمہ کمیٹی برائے لاء ، جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس نے مسترد کردیا ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

The News International (21 July, 2017)