یوم پاکستان پرغیرمسلم پاکستانیوں کا سوال تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

59

یوم پاکستان پرغیرمسلم پاکستانیوں کا سوال
تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، ممبر قومی اسمبلی (مسلم لیگ ن)، سرپرستِ اعلیٰ پاکستان ہندو کونسل

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں 23مارچ 1940 ؁ء کا دن بلاشبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے جس نے برطانوی سامراج سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل کی راہ متعین کی، قائداعظم محمد علی جناح کی زیرقیادت آل انڈیا مسلم لیگ نے لاہور کے منٹو پارک میں منعقدہ تین روزہ سالانہ اجلاس کے موقع پر تاریخی قرار داد منظور کرتے ہوئے دو قومی نظریہ پیش کیا،قائداعظم نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مسلمان قوم کی کسی بھی تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں اور ان کے پاس اپنا وطن، اپنا علاقہ اور اپنی ریاست ہونی چاہیے جہاں مسلمان مکمل طور پر اپنی روحانی، ثقافتی، اقتصادی، سماجی اور سیاسی زندگی بہتر انداز میں بسر کر سکیں ۔ قرارداد میں مسلمانانِ ہند کی جانب سے باضابطہ طور پر حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ کوئی بھی دستوری خاکہ مسلمانوں کو اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ہندوستان کے جغرافیائی اعتبار سے متصل و ملحق اکائیوں کی علاقائی حدبندی کرکے ان کے آئینی تشکیل اس طرح کی جائے کہ جن علاقوں میں مسلمان عددی طور پر اکثریت میں ہیں ، ان کو آزاد ریاستوں میں گروہ بند کردیا جائے اور اس طرح تشکیل پانے والی اکائیاں مکمل آزاد اور خود مختار ہونگی۔ یہ تاریخی قرارداد ان حالات میں پیش کی گئی تھی جب 1936 ؁ء کے عام انتخابات میں ناکامی نے مسلم لیگ کے اس موقف کوشدید دھچکا پہنچایا تھا کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی نمائندگی کا حق صرف مسلم لیگ کو حاصل ہے، کانگرس کے غیرضروری مسلمان مخالف اقدامات کی بدولت مسلمانوں میں یہ تاثر تقویت پا گیا تھا کہ مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کی اصل وجہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہونا ہے اور انگریزوں کے ہندوستان چھوڑ دینے کے بعد وہ کانگرس کے رحم و کرم پر ہونگے، میں سمجھتا ہوں کہ یہی نقطہ آغاز تھا جسکی بناء پر قائداعظم نے دو قومی نظریہ پیش کیا اوراسکا مقصد سیاسی طور پر مسلمان اکثریتی علاقے میں بسنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا نہ کہ ہندو مسلم تصادم کو پروان چڑھانا۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف صاحب نے بھی ہولی تہوار کے موقع پر اپنے خطاب میں اس تاریخی غلط فہمی کا خاتمہ کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کے تصادم کیلئے نہیں بلکہ تصادم کی روک تھام کیلئے معرضِ وجود میں آیا تھا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قرارداد میں لفظ پاکستان کہیں استعمال نہ ہوا تھا بلکہ مسلم لیگ کے مخالفین نے قراردادِ پاکستان کا نام دیا، شیربنگال اے کے فضل الحق کی پیش کردہ قرارداد کی تائید یوپی سے چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبرپختونخواہ) سے سردار اورنگ زیب، سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی ۔ پہلی بار پاکستان کے مطالبے کے لیے علاقوں کی نشاندہی کیلئے7 اپریل 1946 ؁ء کو مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے مسلم لیگی اراکین کے زیراہتمام تین روزہ دہلی کنونشن کا انعقاد کیا گیاجس میں شمال مشرق میں بنگال اور آسام اور شمال مغرب میں صوبہ پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کا تو ذکر ہے لیکن مسلم اکثریتی علاقے کشمیر کا نہیں جو آج ستر برس گزرنے کا باوجود بھی علاقائی کشیدگی کی اہم وجہ ہے ۔ ایک اور غورطلب امریہ ہے کہ قرارداد لاہور کے تحت دوعدد مسلمان اکثریتی مملکتوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے دہلی کنونشن کے موقع پر پاکستان کی واحد مملکت کا مطالبہ پیش کیا گیا ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر قرارداد لاہور کی روح کے عین مطابق مسلمانوں کی دو آزاداتحادی ریاستیں باہمی رضامندی سے تقسیمِ ہند کے موقع پر ہی قائم ہوجاتیں تونہ صرف سانحہ بنگلہ دیش سے بچا جاسکتا تھا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی برقرار رکھا جاسکتا تھا، دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مملکت کی مثال نہیں جو جغرافیائی طور پر ایک ہزار میل کی دوری پر واقع ہو اور درمیان میں دشمن ملک ہو، مشرقی پاکستان نے زبان، ثقافت اور طرزِ زندگی میں واضح فرق کی بناء پر ایک نہ ایک دن الگ ہوہی جانا تھا ۔یومِ پاکستان کو عام طور پر قراردادِ پاکستان کی منظوری سے منسلک کیا جاتا ہے اور اس موقع پرحکومتی سطع پر پروقار تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوتی ہے، مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔ درحقیقت یومِ پاکستان کی تقریبات کا آغاز23مارچ 1956 ؁ء کے آئین کی منظوری کی خوشی میں ہوا تھالیکن دو برس بعد ہی ڈکٹیٹر ایوب خان نے مارشل لاء لگاکر ملکی آئین معطل کردیا اوریومِ پاکستان کی تقریبات کو یومِ جمہوریہ سے جداکرکے قراردادِ پاکستان کی منظوری سے منسلک کردیا۔قراردادِ پاکستان میں اندرونی خودمختاری کی بات کی گئی تھی لیکن ایوب خان کے دورِ آمریت میں صوبائی خودمختاری کی نفی کرکے قرارداد پاکستان کی سنگین خلاف ورزی کی گئی جسکے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں بسنے والوں کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوا۔میری نظر میں ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ قیامِ پاکستان کے بعد قراردادِ پاکستان کو آئین کا حصہ بنایا جاتا لیکن اسکے برخلاف قراردادِ مقاصدکی منظوری کی شکل میں مسلم اور غیرمسلم سیاستدانوں کے درمیان وسیع خلیج حائل کی گئی۔ آج پاکستان کی خالق جماعت برسراقتدار ہے اور وزیراعظم نواز شریف نے ہولی تہوار میں شرکت سے جو مثبت پیغام دیا ہے اس نے پاکستان میں بسنے والوں غیرمسلموں بالخصوص ہندو کمیونٹی کے دل جیت لیے ہیں۔آج 23مارچ کا تاریخی دن تمام پاکستانیوں سے معاشرے سے انتہاپسندی اور شرانگیزی کا خاتمہ یقینی بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا تقاضا کرتا ہے، آپریشن ضرب عضب نے بلاشبہ دہشت گردی کے مراکز ختم کردیے ہیں لیکن ان عوامل کا نظریاتی طور پر بھی خاتمہ کیا جانا چاہیے جو معاشرے میں انتشار کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان کا قیام ہندوستان میں مسلمان اقلیت کو اکثریت کے استحصال سے محفوظ رکھنا تھا تواب مسلم اکثریتی پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کو استحصال سے بچانا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا خوش آئیند ہے ،ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ان تمام غیرجمہوری اقدامات جو کانگرس نے برصغیر کی مسلمان اقلیت سے روا رکھے ان سے پاکستان کی غیرمسلم اقلیت کو محفوظ رکھنا ہی ہمارا ملکی مفاد ہے، غیرمسلموں کے احساسِ محرومی اورعدم تحفظ کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جائے، پاکستان کیلئے انکی مثبت خدمات کا اعتراف کیا جائے،آج یومِ پاکستان کے موقع پر پاکستان میں بسنے والا ہر غیرمسلم شہری یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جب وہ بھی اتنے ہی محب وطن اور جمہوریت پسند ہیں جتنے مسلمان شہری توپھر ان کو اپنے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے حقیقی منتخب نمائندے پارلیمنٹ میں بھیجنے سے کیوں محروم رکھا جاتا ہے ؟

*******

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Pakistan Observer (May 24, 2017)