چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے صوبے بھر میں شراب خانے فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا،

181

کراچی (2 مارچ 2017): چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ نے صوبے بھر میں شراب خانے فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں، تفصیلات کے مطابق غیرمسلموں کے نام پر شراب خانوں کی بندش کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت میں پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی ایم این اے نے غیر مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ شراب کا استعمال کسی بھی مذہب میں جائز نہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیرمسلموں کے نام پر شراب خانوں کو ریگولیٹ کیے بغیر کھلے رکھنا آئین کے آرٹیکل 37h اور حدود آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے، ڈاکٹر رمیش کمار نے بائیومیٹرک تصدیق کی تجویز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت متعدد غیر مسلم کمیونٹی کے مذہبی روزے چل رہے ہیں، انہوں نے احترام رمضان کی طرح تمام مذاہب کا تقدس یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قومی اسمبلی میں آئین کے آرٹیکل 37h پر ترمیمی بل پیش کردیا گیا ہے جسکا مقصد غیرمسلموں کے نام پر شراب کے گھناؤنے کاروبار کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔ اس موقع پرایڈوکیٹ جنرل اور شراب خانوں کے وکلاء نے چیف جسٹس کی طرف سے شراب خانوں کی قانونی حیثیت پر استفسار کیے جانے پر تسلیم کیا کہ زیادہ تر شراب خانے پرمٹ کے تحت نہیں چل رہے جس پر چیف جسٹس نے ڈی جی ایکسائز پر سخت اظہار برہمی کیا اور دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد صوبے بھر میں شراب خانے فوری بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو پابند کیا کہ اگلے ماہ سماعت تک شراب خانوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے قانون سازی یقینی بنائی جائے۔ بعد ازاں، میڈیا سے گفتگو میں پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کو خوش آئند قرار دیا، انہوں نے کہا کہ غیرمسلموں کے نام پر زیادہ تر شراب خانے ان مہنگے ترین پوش علاقوں میں قائم ہیں جہاں غریب غیرمسلم رہائش پذیر ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہبی تفریق کے نام پر شراب فروشی کی کسی صورت اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

Daily Jang (20 October 2017)