سیاسی انتہاپسندی اور عدم برداشت، تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

109

جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش آنے والا ناپسندیدہ واقعہ بلاشبہ پارلیمانی تاریخ کے تقدس کیلئے نیک شگون نہ تھا، خوش آئیند بات یہ ہے کہ مستقبل میں ایوان کے تقدس کو یقینی بنانے کیلئے تمام پارلیمانی جماعتوں کے لیڈران کرام نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پانچ نکاتی ضابطہ اخلاق کی تیاری کیلئے مشاورتی اجلاس کیاہے،آخری اطلاعات کے مطابق اصولی طور پر طے کیا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت پر ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے گااور تمام جماعتوں کی پارلیمانی قیادت اپنے اپنے اراکین پارلیمنٹ پر ڈسپلن نافذ کرنے کی ذمہ دار ہونگی، اسی طرح پارلیمانی ایجنڈا چلانے کیلئے ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کیاجائے گااور قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے چیف ویپ دیگر جماعتوں کے ویپ صاحبان سے رابطے میں رہیں گے، تمام جماعتیں بلاتفریق سیاسی وابستگی خواتین ارکین پارلیمنٹ کا مکمل احترام یقینی بنائیں گی۔پارلیمانی واقعے سے قطع نظر معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدمِ برداشت کی لہرکا خاتمہ موجودہ جمہوری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دنیا کا ہر دین دھرم اپنے پیروکاروں کو برداشت، رواداری، ایک دوسرے کے موقف کا احترام کرنا، غصے کو پی جانا، صبر و تحمل جیسے اعلیٰ اوصاف کی تلقین کرتا ہے، پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اسکا وجود اسلام کے نام پر ہوا ہے، پیغمبرِ اسلام ﷺکی سیرت النبی کا مطالعہ ہر مسلم اور غیر مسلم اسکالر نے کیا ہے اور سب ہی متفق ہیں کہ آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق نے اسلام کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کیا،مخالفین سے درگزر، رواداری اور برداشت پر مبنی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جن میں بوڑھی عورت کے کوڑا پھینکنے کے باوجود اسکی بیماری میں عیادت کرنا اور فتحِ مکہ کے موقع پر تمام دشمنوں کو معاف کردینا سرفہرست ہیں، میثاقِ مدینہ کے تحت غیرمسلموں کو دیئے جانے والے حقوق مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہندو دھرم میں برداشت، عدم تشدد اور رواداری کے فروغ کیلئے تپسیاکی جاتی ہے، ہندوسادھوؤں جوگیوں کے ٹھکانے دُھکی انسانیت کیلئے وقف ہوتے ہیں،جین مت کی تعلیمات کیڑے مکوڑوں کو بھی نقصان نہ پہنچانے کی تلقین کرتی ہیں، بدھ مت عدمِ تشدد کا پرچار کرتا ہے اور کرسچیئن تعلیمات تواپنے پیروکاروں کو ایک گال پر تھپڑ مارنے پر دوسرا گال پیش کرنے کی ہدایت کرتی ہیں، ان تمام تر اعلیٰ تعلیمات کے باوجود وہ کونسے عوامل ہیں جو بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان میں فساد فی الارض کا باعث بن رہے ہیں، میری ناقص رائے میں اسکا سبب اعتدال کا راستہ ترک کرکے انتہاپسندانہ روش اپناناہے جو اپنے علاوہ دوسروں کو غلط سمجھنے پر اکساتی ہے، میری نظر میں انتہاپسندی ایک ایسی دماغی بیماری ہے جسکا شکار ہر دوسرے انسان اور واقعے کو اپنے ہی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے اور دیگر تمام موقف نہ صرف باطل سمجھتا ہے بلکہ مخالف کو برداشت کرنے کا رتی برابر روادار نہیں ہوتا۔ہمارے بڑے بزرگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ اَسی (80)کی دہائی سے قبل کا پاکستانی معاشرے کتنا زیادہ پرامن اور وسیع القلب تھا جبکہ آج ایسا لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے سے امن و سکون تیزی سے عنقا ہوتا جارہا ہے، ہر طاقتور اپنے سے کمزور پر زور زبردستی کرنے پر تلا ہوا ہے، سڑک پرسائیکل سوار پیدل کو چلنے کا حق دینے کیلئے تیار نہیں تو کارسوار سائیکل وا لے کو، ہر گاڑی چلانے والا دوسری گاڑی کو اوورٹیک کرنا بلا ضرورت ہارن بجا کر ٹریفک میں خلل ڈالنا قابلِ فخر کارنامہ سمجھتاہے، ٹریفک ایکسیڈنٹ کی صورت پر لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جبکہ معاملہ غلطی تسلیم کرکے رفع دفع کیا جاسکتا ہو، سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین کیلئے بے دریغ غیراخلاقی زبان کا استعمال بدقسمتی سے کلچر بنتا جارہا ہے۔ایک پرامن اور رواداری پر مبنی معاشرے کے قیام کیلئے سب سے اہم کرداروالدین کی تربیت اور مضبوط فیملی سسٹم کا ہواکرتا ہے، میاں بیوی کا آپس میں عدم تعاون ، لڑائی جھگڑا،گالی گلوچ ،نا جائز ڈانٹ ڈپٹ یا لاڈ پیاروغیرہ بچے کی شخصیت کو منفی بناتے ہیں ،ایسے بچے سکولوں اور معاشرے میں بھی کلاس فیلوز کے ساتھ مار پیٹ، چوری چکاری اور اساتذہ سے بدتمیزی جیسی منفی حرکات کا مظاہرہ کرتے ہیں اورانہی عادات کے ساتھ جب وہ بڑے ہوکر عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو ہر چیز طاقت یا نا جائز عمل سے حاصل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں جو بعد میں معاشرے کے لئے ضرر رساں ثابت ہوتے ہیں۔عدم برداشت اورانتہا پسندی پھیلانے میں دوسرے نمبر پر معاشرہ ہے، معاشرے میں انصاف یا حق نہ ملنا، رنگ،مذہب ،جنس یا معاشرتی امتیاز اور سب سے اہم کسی خاص فرقے یا مذہب کی بناء پر بلا وجہ تضحیک و نفرت اور حقارت کا نشانہ بننابچے کی پرورش میں منفی رد عمل پیدا کرتے ہیں، شراب نوشی کی تمام مذاہب میں ممانعت ہے، اسلام میں تو اسے ام الخبائث یعنی تمام برائیوں کی ماں قرار دیا گیا ہے لیکن پاکستانی معاشرے کو نحوست زدہ رکھنے کیلئے غیرمسلموں کے نام پر شراب خانے کھولے رکھنے کی افسوسناک اجازت ہے ۔ہماری درسی کتب اور نصابِ تعلیم میں ایک منظم حکمت عملی کے تحت بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر نفرت یا مذہبی تعصب پھیلانے والا موادشامل کیا گیا ہے جسکا مقصد معصوم بچوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا ہے،پاکستان ہندو کونسل کو متعدد بار ایسی شکایات ملتی ہیں کہ اسکول ٹیچر اپنے تئیں دوسروں کے عقائد کا مذاق اڑاتے ہیں ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ برداشت کا کلچر تو ہمیشہ والدین یا اسا تذہ سے ہی حاصل ہواکرتا ہے اور خدا نخواستہ اگر والدین یا اسا تذہ بچوں کو اس قسم کی تعلیم دیں گے توبچے کی شخصیت سازی کی بجائے انتہاپسندی کو ہی فروغ حاصل ہوگا۔ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ ایک پرامن مہذب معاشرے کے قیام کا دارومدار جمہوریت کے استحکام اور قومی اداروں کی مضبوطی پر ہواکرتا ہے، ملکی تاریخ پرنظر ڈالی جائے تو تمام ڈکٹیٹروں نے اپنے اپنے دورِ آمریت میں غیرقانونی اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے پاکستانی معاشرے کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کیا، جنرل ایوب کی آمریت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بیج بوئے توجنرل یحییٰ کے دور میں ہمارا پیارا ملک دوٹکڑے ہوا ، ہمسایہ ملک افغانستان میں عالمی طاقتوں کی عسکری مداخلت نے پاکستانی معاشرے کی اکثریت کو جنگجوئی کی جانب مائل کیا، کلاشنکوف کلچر نے نئی نسل کے ذہنوں کو بھی بزورِ طاقت اپنا موقف منوانے کا قائل کیا،جہاں جنرل ضیاء کے زمانے کے ہتھوڑا گروپ نے معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی ابتدا کی تو دوسری طرف جنرل مشرف کے دورِ اقتدار میں ملک کے طول و عرض میں خودکش حملوں کو عروج حاصل ہوا۔ ججز بحالی تحریک نے معاشرے میں قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے پرامن جدوجہد کاراستہ دکھلایاتو نتیجے میں مشرف کا دورِ آمریت تو قصہ ماضی بن گیا لیکن معاشرے سے انتہاپسندانہ سوچ کو مکمل طور پر ترک نہ کیا جا سکا جو اسی طور ممکن ہے اگر ووٹ کو عوام کی امانت سمجھ کر اسکا تقدس یقینی بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں استحکامِ جمہوریت کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ جنرل مشرف کے زیرمنعقدہ قومی انتخابات میں عوام نے بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو اکثریت سے نوازا تو مسلم لیگ (ن) کیلئے بہت آسان تھا کہ وہ ڈکٹیٹر کے تحت انتخابات کو متنازعہ گردانتے ہوئے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوجاتی لیکن دوراندیش مسلم لیگی سیاسی قیادت اچھی طرح جانتی تھی کہ ایسے کسی بھی اقدام کا نتیجہ عوام کو جمہوریت سے بیزار ،آمریت کی مضبوطی اور معاشرے میں انتشار کا باعث بنے گا۔ اب جبکہ عوام کے ووٹوں کی بدولت مسلم لیگ ن حکومت میں ہے تو بدقسمتی سے تحریکِ انصاف کے ایسے پرتشدد غیرجمہوری ہتھکنڈوں کا سامناکرناپڑ رہاہے جسکی تازہ مثال حالیہ قومی اسمبلی اجلاس میں دیکھی گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک پارلیمانی لیڈر کواپنے طرزِ عمل میں بہت محتاط ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنے حامی ووٹرز کیلئے قابلِ تقلید ہوتا ہے، اگر لیڈر ہی بازاری اسٹائیل میں دنگا فساد برپا کرنے میں ملوث ہوگا تو کِس طرح معاشرے کے سدھار میں اپنا کردار ادا کرسکے گا۔ملک و قوم کے مفاد کی خاطر ہمیں کھلے دل و دماغ سے اپنے مخالفین کاصحیح یا غلط موقف سننا چاہیے،منفی ردِ عمل اور غصے کا مظاہرہ کسی کیلئے بھی سودمند ثابت نہیں ہوسکتا ۔جمہوری نظام کا تقاضا ہے کہ عوام بِلا خوف و خطر بناء کسی دباؤ کے اپنی مرضی کے مطابق بہت ساروں امیدواروں میں سے کسی ایک کو سلیکٹ کر کے پارلیمنٹ میں بھیجیں، ہارنے والے امیدواروں کو اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیتنے والے کو مبارکباد دیکر عوامی مسائل کے حل کیلئے دستِ تعاون بڑھانا چاہیے تاکہ وہ بطور پارلیمنٹرین اپنے تجربے ،عقل و دانش، سمجھ بوجھ کا استعمال کرتے ہوئے بہتر اندازمیں قانون سازی کرسکے ،انتخابی نتائج کو ماننے سے بلاجواز انکار اور ہٹ دھرمی کا رویہ ہی معاشرے میں عدمِ برداشت اور انتہاپسندی میں اضافے کا باعث بنتا ہے ، جیتنے والے امیدوار کے سر پر دھاندلی اور نااہلی کی تلوار لٹکا کر عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں رکاوٹ ڈالنا جمہوری نظام کیلئے زہرقاتل ہے ،انہی وجوہات کی بناء پرتمام سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کو اشتعال انگیزی کی جانب مائل کرنے کی بجائے مہذب جمہوری کلچر کو پروان چڑھانا چاہیے، پاناما کا معاملہ اعلیٰ عدالت میں ہے ، وزیراعظم نواز شریف بارہا اس موقف کا اعادہ کرچکے ہیں کہ عدالتی فیصلہ من و عن تسلیم کرکے قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے گی، اپوزیشن کو اگر عدالت پر اعتماد ہے تو اس ایشو پر منفی سیاست چمکاکرسیاسی درجہ حرارت ہائی کرنے سے کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے ، میں سمجھتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے مقدس ایوان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کا ضابطہ اخلاق کی تیاری کیلئے تعاون کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے لیکن دھاندلی اور کرپشن کا شوروغل کرکے کبھی دارالحکومت اور کبھی پارلیمان کو مفلوج کردینے کے سیاسی انتہاپسندانہ اقدامات کی روک تھام کیلئے بھی سب کومتفقہ لائحہ عمل بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In اردو - URDU

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

The News International (21 July, 2017)