کرو مہربانی تم اہل زمین پر تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

1

ابھی کچھ دن قبل سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ پوسٹ میری نظر سے گزری، ملک میں جاری پٹرول پمپس کی بندش کے حوالے سے خیبرپختونخواہ کے کسی مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ”بونیر خیبرپختونخواہ میں صرف دو پیٹرول پمپ کھلے ہیں اور حکومتی نرخ پر پٹرول فروخت کررہے ہیں، ایک پمپ ہندو کا ہے اور دوسرا سکھ کا ہے، پاکستان کے مسلمانوں کو جمعہ مبارک۔ “اس پوسٹ کے جواب میں دیگر انٹرنیٹ صارفین نے بھی اپنے تبصرے تحریر کیے جنکے مطابق بونیر میں حکومتی نرخ کے مطابق پٹرول فروخت کرنے والے پاکستانی ہندو شہری کا تعلق سندھ کے علاقے شہداد کوٹ سے ہے، اسی طرح دیگرصارفین نے پاکستان کی محب وطن اقلیتی کمیونٹی کیلئے مثبت کلمات کا اظہار کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ جمعے کے دن پیٹرول پمپس مالکان کے خودساختہ بحران کے موقع پر ہندو شہری کے پٹرول پمپ پر عوام کا شدید رش ہے، کورونا، بے روزگاری اور دیگر مسائل کے شکار عوام کیلئے ان دوعدد پیٹرول پمپس کا کھلا ہونا بہت بڑا ریلیف ہے۔ جمعہ المبارک کے مقدس دن کے حوالے سے سوشل میڈیا کی اس وائرل پوسٹ نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا، یہ میرا اپنا مشاہدہ بھی ہے کہ پاکستان میں بسنے والوں کی اکثریت جمعے کے دن کی اصل اہمیت سے لاعلم ہے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺکا ارشاد مبارکہ ہے کہ “ہفتے کے سات دنوں میں جمعے کادن سب سے بابرکت اوربہترین ہے “۔ ہرجمعے کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے جس میں جو دعامانگی جائے وہ خدا کی بارگاہ میں فوری قبول ہوتی ہے۔مذہبی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر اہم واقعہ جمعے کے دن وقوع پذیر ہوا ہے اور اس فانی دنیا کا اختتام بھی جمعے کے دن ہی کیا جائے گا۔ قدیم رومن تہذیب میں جمعے کا دن خوبصورتی کی دیوی وینس سے منسوب ہے، ہندو دھرم میں انسان کی زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات بشمول پیدائش، شادی، روزگار اور کامیابیوں کے حصول کیلئے ستاروں کی چال سے راہنمائی لی جاتی ہے، جمعے کے دن انسان پر ستاروں کی چال کے خوشگوار اثرات پڑتے ہیں، ہندو عقیدے کے مطابق جمعے کا دن سکون و اطمینان کی دیوی سنتوشی ماتا سے منسوب ہے، جمعے کے مبارک دن کی خاص اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے گھروں میں سکون اور اطمینان کی زندگی بسر کرنے کیلئے خصوصی پراتھناکی جاتی ہے، ہندو دھرم کے مطابق اگر جمعے کو روزہ رکھ کر نیک اعمال کیے جائیں تو انسان کی تمام جائز خواہشات پوری ہو جاتی ہیں اور اسکا گھر امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے بشرطیکہ روزے کی حالت میں جھوٹ، لغو گفتگو اور دیگر سماجی برائیوں سے مکمل پرہیز کیا جائے، ہندو کیلنڈر کے 16جمعے کے دن متواتر روزے رکھنے سے گھر میں خوشحالی، رشتہ داروں میں پیارمحبت اور برکت کا حصول ہوتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی جمعے کا تذکرہ ملتا ہے۔میری نظر میں ویسے تو ہفتے کے تمام دن خدا کے بتائے ہوئے رستے پر عمل کرنا چاہیے لیکن جمعہ کا بابرکت دن بلاشبہ خدا کی اپنے بندوں پر خاص رحمت ہے، اگر اس دن نیک نیتی سے خدا کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے تو یقینی طور پر ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ تاہم مجھے نہایت افسوس ہوتا ہے جب میں اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو جمعے کے دن کے اصل پیغام کو فراموش کرکے دنیا کے وقتی فائدوں کی دوڑ میں مصروف ہیں، حالیہ دنوں میں میرا کسی کام کے سلسلے میں جمعے کے دن پاک سیکرٹریٹ اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا،وہاں میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ کہ کم و بیش ہر دفتر میں حاضری لگاکر عملہ غائب ہے، سائلین سرکاری دفتروں کے چکر لگارہے ہیں لیکن انہیں جمعہ کا کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے،دیگر لوگوں کی بات کی جائے تو انکی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ جمعے کے دن کوئی کام نہ کرنا پڑے۔جمعے کی نماز ضرور پڑھنی چاہیے، عبادت بھی کی جائے لیکن جمعے کے مقدس دن کا تقاضا ہے کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کوبھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جائے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ خدا اپنے حقوق معاف کرسکتا ہے لیکن بندوں کے حقوق کی معافی کا معاملہ خود متاثرہ بندے کی معافی سے مشروط ہے، جس انسان نے اپنی زندگی کا مقصد خدا کے بندوں کی خدمت بنالیا، اس نے نہ صرف خدا کو راضی کرلیا بلکہ اپنی زندگی کو بھی خدا کی رحمت و برکت سے بھرپور کرلیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کورونا وائرس کا حالیہ بحران انسانوں کی سماجی غلطیوں کی اجتماعی سزا ہے، دنیا کے مختلف ممالک کے باسی اپنے آپ کو بدل رہے ہیں لیکن ہم ابھی تک اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔حالیہ کورونابحران نے ہم سب کو یہ موقع عطا کیا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا اصل مقصد کھوجنے کی جستجو کریں، ہم گھروں میں رہتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ ملکر اس خدا تک پہنچنے کی سرتوڑ کوشش کریں جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ بونیر کے دو غیرمسلم پٹرول پمپ مالکان کی مثال ہمارے کیلئے قابل تقلید ہونی چاہیے جو ذخیرہ اندوزی اور دیگر سماجی برائیوں سے کوسوں دور ہیں، مجھے یقین ہے کہ جمعے کے مبارک دن اپنے دنیاوی نقصان سے زیادہ مخلوق خدا کی پریشانی دور کرنے کی بناء پر خدا انہیں اپنے غیبی خزانوں سے ضرور نوازے گا۔ہمیں کم از کم جمعے کے دن جھوٹ، کام چوری، ذخیرہ اندوزی، منافقت اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے، خدا کو خوش کرنے کیلئے ضروری ہے کہ جمعے کے دن اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرتے ہوئے خلق ِ خدا کی خدمت کی جائے، اگر جمعے کی مبارک ساعت کسی ایک کی دعا بھی ہمارے حق میں قبول ہوگئی تو خدا ہم سب کی زندگیاں کو سکون و اطمینان سے بھرپور کرنے پر قادر ہے، بقول شاعر کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر، خدا مہربان ہوگا عرشِ بریں پر۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Such greatness by Dr. Ramesh Kumar Vankwani

It was the Fourth of July in 1776 when thirteen North American colonies achieved independe…