سانچ کو آنچ نہیں۔۔۔! تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

6
ہر سال کی طرح آج تیس اپریل کو امریکہ میں ایمانداری کا دن منایا جارہاہے، قومی سطح پر یہ دن منانے کا مقصد مختلف شعبہ زندگی بشمول سیاست، کاروبار اور نجی زندگی کے معاملات میں ایمانداری اورسچائی کو فروغ دینا ہے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پہلے متفقہ صدر جارج واشنگٹن سے منسوب یہ دن نوے کی دہائی میں امریکی ریاست میری لینڈ کے پریس سیکرٹری ایم ہرش گولڈبرگ نے اپنی کتاب دی بک آف لائیز میں متعارف کرایا، تیس اپریل کے دن امریکی شہری ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کے سوالات پوچھتے ہیں اور اس توقع کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں لگی لپٹی رکھے بغیر درست جواب دیاجانا چاہیے، امریکی سیاست دانوں کو جھوٹ سے باز رہنے اور اپنی قوم کے سامنے سچ بولنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔دنیا کے ہر مذہب نے انسانی معاشرے کی بہتری کی خاطر سچائی اور ایمانداری کو پروان چڑھانے کا حکم اپنے پیروکاروں کو دیا ہے، ہندودھرم کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ جہاں سچائی ہوتی ہے وہاں دھرم ہوتا ہے، جہاں دھرم ہوتا ہے وہاں روشنی ہوتی ہے اور جہاں روشنی ہوتی ہے وہاں امن و سکون ہوتا ہے،دوسری طرف جھوٹ اور دھوکے باز ی کا راستہ تباہی و بربادی کی جانب لے جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کو گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے درست چناؤ پر بہت زور دیا گیا ہے، ہندو تعلیمات کے مطابق انسان ہمیشہ سچ بولے، بے سروپا باتیں کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرے، سخت اندازگفتگو سے اجتناب کرے اور اچھی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ایک اچھا انسان کبھی دوسرے کے جذبات سے نہیں کھیلتا، دھوکا دہی سے پرہیز کرتا ہے، وقتی فائدے کی خاطر جھوٹ نہیں بولتااور حقیقت جاننے کے بعد اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے۔ ہندو دھرم کے مطابق انسان کو سچ اچھے انداز میں بیان کرنا چاہیے،غلط انداز گفتگو اختیار کرنا سچ کی افادیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، سچ کا اثر ایسے شخص پرمنفی انداز سے ہوتا ہے جوغرورو تکبر سے بھرا ہو اور سیکھنے کے عمل سے نابلد ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایمانداری کا راستہ اختیار کرنے والوں کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے لیکن آخری جیت ہمیشہ سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاست کی کامیابی کو جھوٹ سے نتھی کیا جاتا ہے، انتخابی مہم کے دوران عوام کو سبز باغ دکھاکر ووٹ مانگے جاتے ہیں اور پھر الیکشن جیتنے کے بعد وعدوں کو بھلا دیا جاتا ہے، ہر دور میں ہر حکمران کے اردگرد خوشامدی ٹولہ منڈلانے لگتا ہے جو اپنی چرب زبانی کے باعث عوامی مفاد کے برعکس فیصلے کرنے پر اکساتا ہے،یہ ٹولہ میڈیا کی تنقید برائے اصلاح کو حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانا سمجھتا ہے،بعض مشیران سمجھتے ہیں کہ حکمران کو حقائق سے روشناس کرانے سے ناراضگی اور غصے کا خدشہ ہے، جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنے کی کوشش میں وہ آخرکار ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں۔مجھے سیاست کے میدان میں قدم رکھے اٹھارہ سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے، اس طویل عرصے میں مجھے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات سے تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا،ان میں بہت سے ایسے نیک نام سیاستدان بھی ہیں جنکا اوڑھنا بچھونا عوام کی خدمت ہے تو دوسری طرف افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد ذاتی مفادات کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ اس حوالے سے میں ہمیشہ بانی پاکستان قائداعظم کو اپنا رول ماڈل بناکرپیش کرتا ہوں جنہوں نے ساری زندگی اصولوں کی سیاست کی، انکی ایمانداری اور دیانت داری پر مبنی پالیسیوں نے برصغیر کے لاکھوں کروڑوں عوام کے دل جیت لئے، قائداعظم نے سچائی اور ایمانداری کے بل بوتے پر انگریز سامراج کو شکست دیتے ہوئے ہمارے لئے آزاد وطن کا حصول ممکن بنایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایمانداری سے عزت ملتی ہے،دلی سکون ملتا ہے، زندگی میں برکت آجاتی ہے اور خدابھی خوش ہوتا ہے، ایماندار شخص مشکلات کا مردانہ وار سامنا کرنے کیلئے صبروتحمل سے کام لیتاہے، وہ جب خدا کے بتائے ہوئے راستے پر اپنا سفر شروع کرتا ہے تو آخرکار کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔یہ میرا مشاہدہ ہے کہ ایک سچے اور کھرے انسان کے چہرے پر خدا کی رحمت برستی ہے،اسکے چہرے کی رونق اسکی سچائی اور ایمانداری کی گواہی دیتی ہے،ایسے عظیم لوگ بعد ازمرگ تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوجاتے ہیں اور لوگ انکا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ دوسری طرف دروغ گو، خوشامدی اور چرب زبان شخص معاشرے کے بگاڑ کاباعث بنتا ہے،وہ بھول جاتا ہے کہ خدا کے بندے ایسے شخص کے چہرے پر پڑنے والی پھٹکار سے اسے بخوبی پہچان لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عالمی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے بعض اوقات میرے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اتنے سال گزرجانے کے باوجود آج بھی لوگ قائداعظم، ابراہام لنکن،جارج واشنگٹن، نیلسن مینڈیلا جیسی عظیم شخصیات کو اچھے الفاظ میں کیوں یاد کرتے ہیں؟ میری نظر میں اسکی وجہ صرف اور صرف انکی ایماندار ی پر مبنی سیاست ہے۔ آج کے دن ہمیں اپنے آپ سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر چیلنج کا سامنا ایمانداری اور سچائی کے ذریعے کریں گے، ایک اچھا انسان نہ صرف خود سچ بولتا ہے بلکہ اپنے پیاروں کو بھی جھوٹ سے گریز کرنے کی تلقین کرتا ہے، میری نظر میں ہمارااصل خیرخواہ اور سچا دوست وہی ہے جو ہماری بھلائی کی خاطر ہماری خامیوں سے آگاہ کرتا ہے،میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی کامیابی سچائی چھپانے میں نہیں بلکہ اپنے عیب دور کرنے میں ہے، حقائق جھٹلانے سے نقصان حکومت کا ہوتا ہے، اگر حکمران چاہتے ہیں کہ انکا نام بھی تاریخ میں عظیم لیڈروں کے طور پر لکھا جائے تو انہیں کسی کی تنقید سے گھبرانے کی بجائے اپنی غلطیوں کو دور کرنے کیلئے ایمانداری سے کوششیں کرنی چاہیے۔ میڈیا کو ایمانداری اور سچائی کا راستہ اپناتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی ضرور کرنی چاہیے، اسی طرح ایمانداری کا تقاضا ہے کہ حکومت کے مثبت اقدامات کی تعریف بھی کی جائے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Fair investigation by Dr. Ramesh Kumar Vankwani

Just two days before Eid, the tragic incident of the PIA plane crash saddened the entire c…