خدا کا نظامِ فطرت۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

23
 جب سانحہ نائن الیون کے ردعمل میں سپرپاور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ پڑوسی افغانستان پرحملہ کیا تھاتواس وقت ایسے بہت سے تجزیے سامنے آئے تھے کہ امریکہ کاخطے کاتوازن برقرار رکھنے کیلئے افغانستان میں قیام کامستقل ارادہ ہے، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکی ایک دن طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرکے افغانستان سے واپسی کے خواہاں ہوجائیں گے۔ دوہا میں امن معاہدہ خدا کے نظام ِ فطرت کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیاوی طاقتیں جتنا مرضی اچھا پلان تیار کرلے، خدا نے دنیا کا توازن برقرار رکھنے کیلئے اپنا پلان نافذ کرنا ہے اور بے شک وہ پلان سب سے بہترین ہوتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال سے آج چین بھی دوچار نظر آتا ہے، گزشتہ ایک عرصے سے چین دنیا کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوارہا تھا، عالمی تجزیہ نگاروں کی نظر میں چین نئی سپرپاور کا روپ دھار چکا ہے، اکیسویں صدی کو چین کی اقتصادی طاقت کے تناظر میں ایشیائی صدی قرار دیا جاتا ہے لیکن جان لیوا کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے چین کی قدرتی آفات کے سامنے بے بسی عیاں کردی ہے۔آج کرونا وائرس کے خوف نے انسان کو انسان سے خوفزدہ کردیا ہے،دنیا بھر کے عوام پر سفری پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، لوگ عوامی مقامات پر جانے سے کترا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ایسی بہت سے تصاویر وائرل ہیں کہ مختلف ممالک میں واقع ماضی کے پررونق مقامات آج ویرانی کا سماں پیش کررہے ہیں۔بحیثیت انسان یہ سب واقعات ہمارے لئے سبق آموز ہیں کہ انسان نے چاند اور مریخ تک رسائی ضرور حاصل کرلی لیکن وہ سپرپاور ہوتے ہوئے بھی خدا کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہے۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ موت برحق ہے، میری نظر میں آج انسان کی احتیاطی تدابیر زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں کتنا زیادہ سچا اور کھرا ہے۔ آج ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ کرونا جیسی نت نئی بیماریاں عذاب بن کرکیوں نازل ہو رہی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنی زندگیوں سے برداشت، رواداری اور بھائی چارے کو ترک کرکے خود غرضی، مادیت پرستی اور لالچ کو اپنالیا ہے جسکی بناء پر خدا کی رحمت ہماری دھرتی پر برسنا بند ہوگئی ہے؟یہ سب خیالات گزشتہ ہفتے مزید شدت سے میرے ذہن میں آئے جب دنیا بھر کی ہندوکمیونٹی کی طرح پاکستانی ہندوؤں نے بھی ہولی کا تہوار منایا۔ میں نے ہولی کی مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں واضح کیا کہ رنگوں کا تہوار ہولی روشنی کی اندھیرے پر، سچ کی جھوٹ پر اور انصاف کی بے انصافی پر فتح کی یاد تازہ کرتا ہے، یہ دن ہمیں بتلاتا ہے کہ باطل قوتیں چاہے جتنی زیادہ طاقتور کیوں نہ ہوں، آخرکار شکست کھا جاتی ہیں، اسلئے ہمیں اپنی روزمرہ زندگیوں میں پیار، محبت، امن اور حق و انصاف جیسے اعلیٰ انسانی اوصاف کو اپنانا چاہیے۔ہمیں ہولی کو فقط کسی ایک مذہب سے منسوب کرنے کی بجائے ہولی کا اصل پیغام سمجھنا چاہیے، خوشیوں سے بھرپور لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینک کردراصل نیکی کی بدی پر فتح کا جشن مناتے ہیں،وہ اس حقیقت کا اظہارکررہے ہوتے ہیں کہ ازل سے نیکی اور بدی کی نمائندہ قوتوں کے مابین تصادم جاری ہے لیکن خدا کے بندے بدی کی قوتوں کو شکست فاش دے دیتے ہیں اور آخری جیت ہمیشہ سے نیکی کی ہی ہوتی ہے۔آج مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی مشکلات میں مبتلا ہیں، مسئلہ کشمیر کا پرامن حل پورے خطے اور عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے، میرا انسانی ہمدردی کے ناطے مظلوم کشمیریوں کیلئے پیغام ہے کہ انسان کو اپنی جدوجہد کے دوران بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ حق اور باطل کے مابین معرکہ میں حق کو شکست ہو جائے۔ آج بہت سے لوگوں کیلئے یہ امر حیران کُن ہوگا کہ ہولی کے تہوار کا آغاز پاکستان کے شہر ملتان سے ہوا تھا، ہزاروں سال سے دنیا بھر کے ہندو یاتری ملتان میں واقع پراہ لاد پوری مندرمیں حاضری دیتے آئے ہیں، اس مندر کے بالکل ساتھ روحانی پیشوا بہاؤ الدین ذکریا کا دربار برصغیر کے روائتی معاشرے کی مذہبی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل دور میں ہولی کا تہوار عالمی فیسٹیول کی حیثیت اختیار کرگیا ہے لیکن ہولی تہوار کی جائے پیدائش یہ قدیمی مندرگزشتہ ستائیس سالوں سے کھنڈر کی صورت میں ویران ہے،اسکی وجہ بھارت میں سانحہ بابری مسجدکے ردعمل میں مقامی شدت پسندوں کی جانب سے اس مندرکو نشانہ بنانا ہے۔ میں ہر فورم پر واضح کرچکا ہوں کہ بھارت میں جاری شدت پسندانہ ہندوُتوا کی سوچ کو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے کنفیوژ نہیں کرنا چاہیے۔ افسوس کا مقام ہے کہ قومی متروکہ وقف املاک بورڈ ہندوؤں کے مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت کرنے میں ناکام ثابت ہواہے۔ بحیثیت محب وطن پاکستانی میرے لئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت نے بھارتی حکومت کے شدت پسندانہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی اقلیتی کمیونٹی بالخصوص ہندوؤں کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کیا ہے اور ماضی کی نسبت آج پاکستان میں معصوم اقلیتوں کو نشانہ نہیں بنایا جارہا۔ وقت نے پاکستان کی طرف سے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ بروقت اور درست ثابت کردیا ہے جسکے کیلئے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر قومی امتروکہ وقف املاک بورڈ جیسے اہم قومی ادارے کا سربراہ کسی قابل پاکستانی ہندو شہر ی کو لگا دیا جائے تو پراہ لاد پوری مندر جیسے مقدس مقامات دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں، یہ مقامات نہ صرف پاکستان کا مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم مثبت امیج اجاگر کریں گے بلکہ مذہبی سیاحت کے ذریعے وافر مقدار میں زرمبادلہ کے حصول کا باعث بن سکتے ہیں۔آج ہمیں انسانوں کو انسانوں سے قریب کرنے کے اقدامات کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے تاکہ خدا اپنے بندوں سے خوش ہوکر کرونا جیسی قدرتی آفات سے سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔        


٭٭٭٭٭٭٭٭

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Dawn – March 10, 2021