تمام پاکستانی شہری گھوٹکی میں خوف و ہراس کا شکار ہندو آبادی سے اظہار یکجہتی کریں، ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کی پارلیمنٹ ہاوس کے باہر پریس کانفرنس

14

اسلام آباد (16ستمبر2019): پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے سندھ کے علاقے گھوٹکی میں ہندو مندروں اور پرامن مقامی ہندو کمیونٹی کے گھروں کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف بلاسفیمی ایکٹ (توہین مذہب قوانین)کے تحت سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم عمران خان کی گھوٹکی واقعہ میں خاموشی ریاست کی شدت پسند عناصر کے خلاف بے بسی کی عکاسی کرتی ہے،سوموار کو پارلیمنٹ ہاو ¿س کے باہرپریس کانفرنس میں گھوٹکی واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے بتایا کہ سندھ پبلک اسکول کا ہندو پرنسپل نوتن کمار گزشتہ تیس سال سے شعبہ تدریس سے وابستہ ہے اور اس طویل عرصے میں بے شمار مقامی بچوں کو بناءکسی مذہبی تفریق کے زیورتعلیم سے آراستہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے، ڈاکٹر رمیش کمار کے مطابق یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ایک کم عمر اور نابالغ شاگرد سبق نہ یاد کرنے کی بناءپر اپنے روحانی باپ کی ڈانٹ ڈپٹ کو مذہبی فساد کا باعث بنادیتا ہے، اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار نے قرآن پاک کی آیت مبارکہ کا بھی حوالہ دیا کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص سنی سنائی خبر لیکر آئے تو پہلے اچھی طرح تحقیقات کرلو، ایسا نہ ہو کہ تم جہالت میں دوسروں پر حملہ آور ہوجاو ¿ اور بعد میں اپنے کیے پر شرمندہ ہو۔ ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے گھوٹکی واقعہ کے تناظر میں کہا کہ ایک بچے کے غیرمصدقہ الزام پربے قابو مشتعل ہجوم کا بغیر کسی ثبوت اور تحقیقات کے پوری ہندو کمیونٹی پر حملہ آور ہونا اسلام کی پرامن تعلیمات کے سراسر منافی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر ہندومندروں، اسکول عمارت اور مقامی ہندوآبادی کے گھروں پر حملہ کرنے والوں کی لاتعداد ویڈیو کلپس گردش میں ہیں،ریاست ان تمام شدت پسند عناصر کے خلاف بلاسفیمی ایکٹ (توہین مذہب قوانین)کے تحت سخت کاروائی کرے تاکہ مستقبل میں کسی کو مذہب کی آڑ میں فساد پھیلانے کی جرات نہ ہوسکے۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے پارلیمنٹ ہاو ¿س کے باہر میڈیا ٹاک میں کہا کہ پاکستانی ہندو کمیونٹی تمام مذاہب کے احترام پر یقین رکھتی ہے، بالخصوص اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ اور نواسہ رسول حضرت امام حسین سے خصوصی عقیدت رکھتی ہے اور کسی مقدس ہستی کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتی،انہوں نے اس موقع پر موجود صحافیوں کو یاد دہانی کرائی کہ بہت سے ہندو شعراءنے آخری پیغمبرﷺکی بارگاہ میں نعت کی صورت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا ہے، مشہورزمانہ نعت “شاہِ مدینہ، یثرب کے والی، سارے نبی تیرے در کے سوالی” جے سی آنند نامی پاکستانی ہندوپروڈیوسرنے “نورِاسلام”نامی سپرہٹ پاکستانی مووی میں فلمائی تھی۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے کہا کہ پاکستانی ہندوکمیونٹی کی پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں بے شمار خدمات ہیں، دفاعِ وطن کیلئے بھی ہندو جوانوں نے پاک فوج کے شانہ بشانہ جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں، تقسیم ِ ہند کے موقع پر جب پورا برصغیر مذہبی دنگے فساد کی آگ میں جل رہا تھا تو محبت کی دھرتی سندھ میں ہندومسلم بھائی چارہ اور امن قائم تھا، آج کچھ شدت پسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے سندھ میں صدیوں سے جاری مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انکا آسان ہدف امن پسند محب وطن ہندو کمیونٹی ہے، ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے مزیدکہا کہ پیشہ معلمی ایک مقدس اور پیغمبری پیشہ ہے، استاد اور شاگرد کے درمیان روحانی والدین کا رشتہ ہوتا ہے لیکن سندھ میں کبھی ایک استاد اپنی ہندو شاگردہ کو ورغلا کر شادی کرلیتا ہے اور کبھی ہندواستاد کے خلاف اسکا شاگرد توہین مذہب کا الزام لگادیتاہے، ایسے شرمناک واقعات کے بعدہندوکمیونٹی کیلئے درس و تدریس کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے، اندیشہ ہے کہ خوف و ہراس کے ماحول میں اقلیتی کمیونٹی کے اعلی تعلیم یافتہ افراد پیشہ معلمی کو اختیار کرنے سے گریز کریں گے۔ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا مزید کہنا تھا کہ ہمیشہ پاکستان کو درپیش نازک صورتحال کے موقع پر پاکستان ہندوکمیونٹی نے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے، رواں برس ہولی کا تہوار یومِ پاکستان سے منسوب کرکے اور کرشن جنم دن کو یکجہتی کشمیر کے نام کرکے جذبہ حب الوطنی کا اظہار کیا لیکن عین ہولی کے دن سندھ سے دو ہندو بہنوں کا اغواءاور اب جبکہ ہندو کمیونٹی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کررہی ہے، گھوٹکی میں فساد برپا کرکے عالمی سطح پر کشمیر کاز کو نقصان اور پاکستان کے امیج کو دھچکہ پہنچانے کی سوچی سمجھی سازش کی گئی ہے، آج سندھ بھر میں ہندو کمیونٹی خوف و ہراس کا شکار ہے، گھوٹکی کی ہندو آبادی محصور ہونے پر مجبور کردی گئی ہے، ریاست ماضی میں بھی مندروں، گرجا گھروں اور دھرم شالاو ¿ں کے خلاف حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے میں مکمل ناکام نظر آئی ہے اور آج بھی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم عمران خان کی گھوٹکی واقعہ میں خاموشی ریاست کی شدت پسند عناصر کے خلاف بے بسی کی عکاسی کرتی ہے، اس موقع پر ڈاکٹر رمیش نے سوشل میڈیا پر پاکستانی انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے گھوٹکی واقعہ کی مذمت اور ہندوکمیونٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اپنی پریس کانفرنس کے اختتام میں تمام امن پسند ہم وطنوں بالخصوص مذہبی راہنماو ¿ں، علمائے کرام سے گزارش کی کہ وہ معاشرے میں امن قائم رکھنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ گھوٹکی جیسا ناپسندیدہ واقعہ مستقبل میں دوبارہ رونماءنہ ہوسکے، ڈاکٹر رمیش نے گھوٹکی مندر حملوں اور ہندوکمیونٹی کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر کی کاپیاں شیئر کرتے ہوئے گھوٹکی واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت کاروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

The legend of Disney – The News International – December 6, 2019