وادی نیلم میں شاردا پیٹھ کی بحالی، پاکستان ہندوکونسل نے حکومتِ آزاد کشمیر کواہم تجاویز پیش کردیں

30
 
اسلام آباد (29جون 2019ء):پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے انڈیا پر زور دیا ہے کہ وہاں مسلمانوں کے قدیم تاریخی مذہبی مقامات کو کھولنے کے انتظامات کیے جائیں، ہفتے کے روزمیڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہندو کونسل کے اعلیٰ سطحی وفدنے وزیراعظم آزاد جموں کشمیر راجا فاروق حیدر خان کی خصوصی دعوت پرقدیمی مندرشاردا پیٹھ کی بحالی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی تجاویز پیش کردی ہیں، وفد میں ایڈوائزر راجا اسرمال منگلانی، صدر گوپال خامانی، سیکرٹری جنرل پرشوتم رامانی اور پریم کمار تیلراج وغیرہ شامل تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رمیش وانکوانی کا کہنا تھا کہ دنیا کی خوبصورت ترین وادی نیلم میں واقع علم و دانش کی ہندو دیوی شاردا سے منسوب شاردا پیٹھ کا تاریخی مقام زمانہ قدیم میں ایک نمایاں تعلیم درس گاہ تھا جہاں دنیا بھر سے لوگ علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادی کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ پر اپنے تبصرے میں کہا کہ موجودہ ملکی قیادت نے کرتارپور راہداری اور شادرا پیٹھ کی بحالی سے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام، علاقائی سلامتی، مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے پُرعزم ہے، انہوں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے مثبت اقدامات کے جواب میں وہاں بھی مسلمانوں کے تاریخی مذہبی مقامات کو بحال کرتے ہوئے مذہبی آزادی کا خاص خیال رکھا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے آزاد کشمیر حکومت اور کشمیری عوام کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد کشمیر حکومت اور کشمیری عوام کی پُر خلوص مہمان نوازی کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں ہندو آبادی صفر ہونے کے باوجود آزاد کشمیر حکومت کا شاردا پیٹھ کی بحالی کیلئے پاکستان ہندوکونسل سے تعاون کرنا ایک قابل تقلید اقدام ہے، میڈیا سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے امید کا بھی اظہار کیا کہ مسلم اکثریتی علاقے میں واقع شاردا پیٹھ عنقریب ایک ایسارول ماڈل مقدس مقام بن کر سامنے آئے گا جس سے عالمی برادری جان سکے گی کہ کیسے اقلیتی مقامات کی حفاظت کی جاتی ہے، پاکستان ہندوکونسل کی پیش کردہ تجویز کے مطابق شادرا پیٹھ کو پہلے مرحلے میں پاکستانی ہندو شہریوں کیلئے کھولا جائے اور تمام یاتریوں کیلئے روٹ اسلام آباد سے براستہ کوہالہ وضع کیا جائے، اگلے مرحلے میں بھارتی اور دیگر ممالک کے ہندوؤں کو آمد کی اجازت فراہم کی جائے، اس موقع پر ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے زور دیا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین پہلے دوطرفہ تجارت اورسفری سہولیات کے حوالے سے بات چیت ہونی چاہیے، انہوں نے سوال کیا کہ اگر آج جرمنی کے عوام دیوار برلن گراکر ایک ہوسکتے ہیں اور دونوں کوریائی ممالک نفرتوں کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں تو بھارتی قیادت کب تک پاکستان مخالف رویہ اپنائے رہے گی؟ڈاکٹر رمیش کے مطابق دونوں ممالک کے عوام کے مذہبی عقیدت و احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے فیتھ ٹورازم کو پروان چڑھایا جائے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارتی در اندازی کے جواب میں انڈین جنگی جہاز گرا کر پائلٹ کو چھوڑ کر بھی ثابت کر دیا ہے کہ ہم لڑائی جھگڑا نہیں بلکہ امن کے داعی ہیں۔ 
 ٭٭٭٭٭

Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Dawn – March 10, 2021