آخر کب تک۔۔۔؟ تحریر: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

38

میں اس وقت ترکی کے شہر استنبول کے ہوائی اڈے پر وطن واپسی کیلئے اپنی فلائیٹ کا انتظار کررہا ہوں، استنبول میں واقع نیا تعمیر کردہ ایئرپورٹ بلاشبہ جدید فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے، میں نے دنیا بھر کے ممالک کے ایئر پورٹس دیکھے ہیں لیکن ترکی کے اس ایئرپورٹ نے سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے نیویارک، ہیتھرو سمیت سب ہوائی اڈوں کو مات دے دی ہے، بالخصوص مسافروں کیلئے تعمیر کردہ اسٹیٹ آف دی آرٹ ہوٹل رومزاپنی مثال آپ ہیں۔ ترکی ہمارا وہی برادر دوست ملک ہے جہاں کے باسیوں نے فقط ایک صدی قبل دنیا کے تین براعظموں پر حکومت کی ہے، جنگ عظیم اول کے بعد جدید ترکی کا ظہور ہوا توترک عوام کو کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کا سامنا کرناپڑا، کبھی ترک حکومت امریکہ کی حامی نظر آئی تو کبھی امریکہ کی مخالفت کی گئی لیکن ایک امر جس کا اعتراف کرنا ضروری ہے، وہ ترکی کا اپنے قومی مفاد میں کبھی سمجھوتہ نہ کرنا ہے، ملکی و عالمی صورتحال کے تناظر میں ہمیشہ ترکی نے اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کو مقدم رکھا جسکی عکاسی اس وقت میرے سامنے موجود استنبول کا ایئرپورٹ بھی کررہا ہے۔ ترکی میں میری آمد کا مقصد آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے پڑاؤ کرنا تھا۔ ففتھ ورلڈ فورم آن انٹرکلچرل ڈائیلاگ کے عنوان سے اقوام متحدہ کے زیراہتمام اس عالمی کانفرنس کا مقصد مختلف ممالک کے مابین ثقافتی تعاون کی راہ ہموار کرنا تھا، پاکستان کے پارلیمانی وفد کی سربراہی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کی جبکہ ہمارے وفد میں ممبر قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر، سپیشل اسسٹنٹ ٹو ڈپٹی اسپیکر بایزید کانسی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی آر تنویر حسین ملک بھی شامل تھے۔ آذربائیجان کی حکومت بالخصوص صدر ِ مملکت الہام علیوف مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ،یونیسکو، یو این ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن، کونسل آف یورپ، اسلامک ایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن جیسے عالمی مستند اداروں کے اشتراک سے بین الثقافتی مکالمے کے سلسلے کے پانچویں عالمی اجلاس کا انعقاد کامیابی سے کرایا، آذربائیجانی صدر کا اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہنا تھا کہ آج کے دور میں ایک امن پسند انسانی معاشرے کی تشکیل یقینی بنانے کیلئے موثر قابلِ عمل حکمت عملی کا تعین کرنے کی اشد ضرورت ہے، اس کارِ خیر میں حصہ ڈالنے کیلئے تمام ممالک کو آگے بڑھ کراپنا بھرپورکردار ادا کرنا ہوگا اورمقامی سطح پر نفرتوں،تشدد اور تعصبات کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنی چاہیے۔دوران کانفرنس مختلف ممالک کے مندوبین نے شدت پسندی کا زورتوڑنے کیلئے متعدد تجاویز بھی پیش کیں، کچھ شرکاء کا کہنا تھا کہ آج معاشرے میں پُرتشدد رویوں میں اضافے کی بڑی وجہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی کے امور سے الگ کرنا ہے۔ عالمی کانفرنس کے بعد ہمیں دارالحکومت باکو کے مختلف عوامی اور تاریخی مقامات کی سیاحت کا بھی موقع ملا، مجھے کوہ قاف میں بسنے والے حسین باشندوں کے اعلیٰ اخلاق اور سادہ طبیعت نے بے حد متاثر کیا،اسی طرح بطور پاکستانی شہری ہمیں آذر بائیجان کے عوام نے اپنی خصوصی محبت و عقیدت سے نوازا۔ مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے سرحد پرواقع آذربائیجان یوریشیا کے جنوبی قفقاز(کوہِ قاف) کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے، حسین پریوں کی آماجگاہ کہلانے والا کوہ ِ قاف کا پہاڑی سلسلہ براعظم ایشیا اور یورپ کے درمیان قدرتی سرحد کا درجہ رکھتا ہے، ماضی میں آذربائیجان کا قدرتی حسن سے مالامال علاقہ بے شمار علاقائی تنازعات کا اکھاڑہ بنا رہا،آذربائیجان کے باسیوں نے سکندراعظم، ساسانی،عرب، منگول، ایرانی اور ترک حملہ آوروں کا بھی سامنا کیا، پہلی جنگ عظیم کے بعد آذربائیجان کی قائم کردہ جمہوری ریاست کو دنیا میں پہلی مسلمان پارلیمانی ریاست ہونے کا اعزاز حاصل ہے، بعدازاں سویت جارحیت کے نتیجے میں آذربائیجان سویت یونین کا حصہ بن گیا۔نوے کی دہائی میں سویت یونین کی افغانستان میں بدترین شکست کے نتیجے میں آذربائیجان کو آزادی تو نصیب ہوئی لیکن ہمسایہ ریاست آرمینا کے ساتھ جنگی تصادم کا بھی سامنا کرنا پڑا، آج بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی منظوری کے باوجود آذربائیجان کے جنوب مغرب میں واقع نگورنو کاراباخ کا علاقہ آرمینیا کے قبضے میں ہے۔ علاقائی تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے آزادی کے 28 سال بعد آج کے جدیدآذربائیجان نے اپنے آپ کو ایک سیکولرامن پسند جمہوری ریاست کے طور پر منوایا ہے، یہاں پر مساجد بھی آباد ہیں اور کرسچیئن اقلیتوں کے گرجاگھر اور آتش گاہیں بھی، یہ ملک آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کا بانی رکن ہے، آذربائیجان کا مستقل نمائندہ یورپی یونین میں موجود ہے، آذربائیجان کو یورپی کمیشن کے خصوصی ایلچی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور اقوام متحدہ، یورپی کونسل اور نیٹو جیسے اہم اداروں میں بھی اپنا متحرک کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین قریبی دوستانہ تعلقات کے فروغ کیلئے باکو میں متعین پاکستانی سفیر ڈاکٹر سعید خان مہمندبہت متحرک کردار ادا کررہے ہیں، پاکستانی سفارتخانے کے دورے کے موقع پر ہم نے دونوں برادر ممالک کے مابین ثقافتی، تجارتی اور معاشی تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ استنبول کے جدید ہوائی اڈے پر باکو کی حسین یادیں تازہ کرتے ہوئے ایک دم میرا دھیان اپنے پیارے وطن پاکستان کی جانب چلا گیاہے جو آزادی کے بہتر سالوں بعد بھی بحرانوں سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہورہا، قدرت نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمت سے نوازا ہے، پاکستانی عوام اپنی صلاحیتوں میں دنیا کے کسی ملک سے کم نہیں لیکن بدقسمتی سے شدت پسندی کا عفریت ترقی و خوشحالی کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے، یورپی پارلیمنٹ کے پچاس سے زائد ممبران کا وزیراعظم عمران خان کو مذہبی آزادی کے حوالے سے خط لکھنا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ آج بدقسمتی سے ہر سیاسی جماعت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنی بقاء کا راستہ شدت پسندانہ نظریات کا فروغ سمجھتے ہیں، ایک طرف ہر ملک عالمی سطح پر اپنا مثبت امیج پیش کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے تو آخر کب تک ہم پاکستان میں کم عمری کی شادی، مذہب کے نام پر شراب فروشی،کرپشن، مذہبی شدت پسندی اور دیگر ناپسندیدہ سماجی ناسوروں کو اپنائے بیٹھے رہیں گے؟آخر ہم کب تک قومی متروکہ وقف املاک بورڈکے تحت1222ہندو مندر اور 588گوردواروں کی دیکھ بھال کیلئے محب وطن ہندو کمیونٹی کو نظرانداز کرتے رہیں گے؟  وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے دقیانوسی پالیسیوں اور منافقانہ طرز عمل سے چھٹکارہ حاصل کریں، ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ قول و فعل میں تضاد اور کمزور اقلیتوں کو نشانہ بنانے والا کوئی معاشرہ کبھی خدا کی رحمت کا حقدار نہیں ہوسکتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Attachments area
Load More Related Articles
Load More By PHC
Load More In Press Releases
Comments are closed.

Check Also

Dawn – March 10, 2021